خوش قسمت اور بد قسمت

خوش قسمت اور بد قسمت
Spread the love

خوش قسمت اور بد قسمت کون ؟؟؟؟؟؟ درخت کے ذمے آکسیجن اور ایندھن وغیرہ دینا ہے جبرئیل کے ذمے پیغام رسانی، پہاڑ کے ذمے بھی کوئی کام ہے، میکائیل کے ذمے بھی کوئی کام، سانپ کے ذمے بھی کوئی کام ہے کینچوے کے ذمے بھی کوئی کام۔ جاندار اور بے جان نظر آتی ہر مخلوق کے ذمّے کوئی تسبیح یعنی کوئی کام ہے،  ان میں سے کسی کی مجال نہیں اپنے الہامی جاب ڈیزائن سے ہٹ کر اپنی مرضی سے کوئی کام کرے۔

انسان اور جن البتّہ آزاد مرضی کے ساتھ پیدا کیے گئے ہیں اور اسی وجہ سے انکے لیے یا جنّت ہے یا جہنم۔

 اب انسانوں میں سے کچھ افراد اللہ نے انہی میں سے چُن کر اپنا پیغام دینے والا پیامبر بنا کر انہی کے درمیان بھیج دیے، ان برگزیدہ افراد کو ہم انبیاؑ کہتے ہیں۔ یہ بھی نہ اپنا تعارف کروانے آئے تھے، نہ اپنی عبادت کروانے یہ لوگ اللہ کا پیغام لے کر آئے اور بعض ان میں سے نبی کے ساتھ ساتھ رسُول بھی تھے، جنکے ذمے اللہ کا پیغام عملی شکل یعنی نظاموں میں ڈھال کر دکھانا بھی تھا، انہوں نے وہ بھی عمدگی سے کر دکھایا اور مثال قائم کر کے وفات پا گئے، فانی جو تھے، بس اللہ ہی ہے جسے نہ موت ہے نہ وفات نہ فنا۔

لیکن یہ انبیاؑ بھی اللہ کا پیغام پیچھے چھوڑ گئے۔ ان انبیاؑ میں اللہ کا آخری اور مکمل ترین پیغام لانے والے آخری نبی اور آخری رسُول محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے، دین کی تشریح کا فریضہ سر انجام دیتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی موت کا ذائقہ چکھا اور اپنے اللہ کے پاس چلے گئے، مخلوق جو تھے، مخلوق کو موت یا وفات کا ذائقہ چکھنا ہی ہوتا ہے لیکن جو وہ لائے تھے وہ پیغام انکی رائج سُنّت سمیت آج بھی زندہ سلامت ہے۔ وہ اللہ کا پیغام ہے،

وہ پیغام اللہ کا تعارف بھی ہے مطالبہ بھی۔ اسی کی پیروی کرنی ہے اور وہ بڑا دوٹوک اور سادہ پیغام ہے،

 وہی پیغام بتاتا ہے کہ اللہ جیسا کوئی نہیں،

 اللہ سے جنا بھی کوئی نہیں گیا،

 اُس نے کسی کو جنا بھی نہیں،

کوئی اسکی حاکمیت میں شریک نہیں،

 اسی سے مانگو،

 وہی بہترین مولٰی ہے،

 وہی بہترین ولی ہے،

 وہی شہہ رگ سے بھی قریب ہے،

 وہی ہر وقت سنتا ہے،

 وہی ہر وقت جواب دیتا ہے۔

 اللہ جتنی کوشش کرتا ہے کہ اُسکے بندے اُس سے انتہائی ذاتی اور پرسنلائزڈ تعلق بنائیں بندے نہ جانے کیوں اُتنی ہی کوشش کرتے ہیں کہ کسی نبیؑ، کسی ولی کسی مولا کا واسطہ اپنے اور اُسکے بیچ میں رکھیں حالانکہ انبیاؑ اور اولیا کے ذمّے تو بس اللہ کا تعارف اور انکے درمیان تعلق کی وضاحت تھا، وہ وضاحت کر کے وہیں چلے گئے جہاں سے اُنہیں بھیجا گیا تھا۔

اللہ جتنا بتاتا ہے میرا کوئی شریک نہیں بندے اُتنے ہی اصرار سے اگر مگر چونکہ چناچہ تین پانچ کے ذریعے اپنے انبیاؑ اور اولیا کو اُسکی حاکمیّت میں شریک کرنے کی لاشعوری کوشش کرتے ہیں۔

 وہ اپنے آخری کلام قرآن میں اپنے نبیؐ تک سے کہتا ہے کوئی آپ سے میرے بارے میں سوال کرے تو کہنا تمہارے بالکل قریب ہی تو ہے، بندے نہ جانے کیوں اُسے قریب ماننے کی بجائے مقبروں میں مدفون اُیسی برگزیدہ ہستیوں کے ذریعے اُس تک پہنچنے کا اصرار کرتے ہیں جو خود جب تک زندہ رہیں اللہ کو ہی مولا مانتی رہیں۔

میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جب کائناتوں کا بنانے والا، ہمیں زندگی اور موت دینے والا، ہمارے انبیاؑ اور اولیا کو بھی زندگی اور موت دینے والا، ہر مخلوق کا خالق، جسکی طاقت اور قُدرت کی مثال جیسی مثال بھی وجود نہیں رکھتی، ہم سے براہِ راست دوستی رکھنے کا خواہش مند ہے تو ہم اپنے جیسے یا اپنے سے بہتر انسانوں کے واسطے سے اُس سے تعلق رکھنے پر اصرار کیوں کرتے ہیں۔

بخدا یہ میرے معصوم دل میں وہ مخمصہ ہے جو حل ہونے کا نام نہیں لیتا۔

خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنے پروردگار کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اُس سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں۔

بدقسمت ہیں وہ لوگ جو انبیاؑ اور اولیا جیسی عظیم ہستیوں کو روزِ قیامت یہ کہنے پر مجبور کریں گے کہ اے اللہ ہم تو انہیں بس تیرا پیغام صاف صاف پہنچا آئے تھے انکے عقائد کی خرابی کی ذمّہ داری ہم پر نہیں۔

آپکو جو بھی بتایا گیا ہو قرآن تو یہ بھی کہتا ہے کہ روزِ قیامت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمّت کی اللہ سے شکایت کرتے ہوئے یہاں تک کہیں گے کہ اے اللہ میری قوم نے قرآن کو چھوڑنے کے قابل سمجھ لیا تھا۔

آخر میں اس آیت پر غور کیجیے،

اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وه پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے۔۔(سورة یونس)۔۔۔

محمد رضوان خالد چوھدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *