سیرت النبی ﷺقدم بقدم : قسط نمبر 035 عنوان: مشرکین کی گستاخیاں

سیرت النبی ﷺ
Spread the love

’’اللہ کی قسم! محمد نے جیسے ہی اس کے دروازے پر دستک دی تو وہ فورا اس حالت میں باہر نکل آیا گویا اس کا چہرہ بالکل بے جان اور زرد ہورہا تھا۔ محمد نے اس سے کہا کہ اس کا حق ادا کردو، وہ بولا، بہت اچھا۔ یہ کہہ کر وہ اندر گیا اور اسی وقت اس کا حق لاکردے دیا۔‘‘
قریشی سردار یہ سارا واقعہ سنب کر بہت حیران ہوئے۔ اب انہوں نے ابوجہل سے کہا:
’’تمہیں شرم نہیں آتی، جو حرکت تم نے کی، ایسی تو ہم نے کبھی نہیں دیکھی۔‘‘
جواب میں اس نے کہا:
’’تمہیں کیا پتا، جونہی محمد نے میرے دروازے پر دستک دی اور میں نے ان کی آواز سنی تو میرا دل خوف اور دہشت سے بھر گیا۔ پھر میں باہر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک بہت قدآور اونٹ میرے سر پر کھڑا ہے، میں نے آج تک اتنا بڑٓ اونٹ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اگر میں ان کی بات ماننے سے انکار کردیتا تو وہ اونٹ مجھے کھالیتا۔‘‘
کچھ مشرک ایسے بھی تھے جو مستقل طور پر آپ کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا:
ترجمہ: یہ لوگ جو آپ پر ہنستے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو معبود قرار دیتے ہیں، ان سے آپ کے لئے ہم کافی ہیں (سورۃ الحجر آیت95)۔
ان مذاق اڑانے والوں میں ابوجہل، ابولہب، عقبہ بن ابی معیط، حکم بن عاص بن امیہ (جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا چچا تھا) اور عاص بن وائل شامل تھے۔
ابولہب کی حرکات میں سے ایک حرکت یہ تھی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر گندگی پھینک جایا کرتا تھا۔ ایک روز وہ یہی حرکت کرکے جارہا تھا کہ اسے اس کے بھائی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا، حضرت حمزہ رضٰی اللہ عنہ نے وہ گندگی اٹھاکر فورا ابولہب کے سر پر ڈال دی۔
اسی طرح عقبہ بن ابی معیط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر گندگی ڈال جایا کرتا تھا۔ عقبہ نے ایک روز آپ کے چہرہ مبارک کی طرف تھوکا، وہ تھوک لوٹ کر اسی کے چہرے پر آپڑا۔ جس حصے پر وہ تھوک گرا، وہاں کوڑھ جیسا نشان بن گیا۔
ایک مرتبہ عقبہ بن ابی معیط سفر سے واپس آیا تو اس نے ایک بڑی دعوت دی۔ تمام قریشی سرداروں کو کھانے پر بلایا۔ اس موقعے پر اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بلایا مگر جب کھانا مہمانوں کے سامنے چنا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے سے انکار کردیا اور فرمایا:
’’میں اس وقت تک تمہارا کھانا نہیں کھاوٗں گا جب تک کہ تم یہ نہ کہو، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘
چوں کہ مہمان نوازی عرب کے لوگوں کی خاص علامت تھی اور وہ مہمان کو کسی قیمت پر ناراض نہیں ہونے دیتے تھے اس لئے عقبہ نے کہہ دیا:
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘
یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھالیا۔ کھانے کے بعد سب لوگ اپنے گھر چلے گئے۔ عقبہ بن ابی معیط، ابی بن خلف کا دوست تھا۔ لوگوں نے اسے بتایا کہ عقبہ نے کلمہ پڑھ لیا ہے۔ ابی بن خلف اس کے پاس آیا اور بولا:
’’عقبہ! کیا تم بے دین ہوگئے ہو؟‘‘
جواب میں اس نے کہا:
’’خدا کی قسم! میں بے دین نہیں ہوا (یعنی مسلمان نہیں ہوا ہوں)۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ایک معزز آدمی میرے گھر آیا اور اس نے یہ کہہ دیا کہ میں جب تک اس کے کہنے کے مطابق توحید کی گواہی نہیں دوں گا، وہ میرے ہاں کھانا نہیں کھائے گا، مجھے اس بات سے شرم آئی کہ ایک شخص میرے گھر آئے اور کھانا کھائے بغیر چلا جائے۔ اس لئے میں نے وہ الفاظ کہہ دیے اور اس نے کھانا کھالیا، لیکن سچ یہی ہے کہ میں نے وہ کلمہ دل سے نہیں کہا تھا۔‘‘
یہ بات سن کر ابی بن خلف کا اطمینان نہ ہوا، اس نے کہا:
’’میں اس وقت تک نہ اپنی شکل تمہیں دکھاؤں گا، نہ تمہاری شکل دیکھوں گا جب تک کہ تم محمد کا منہ نہ چڑاؤ، ان کے منہ پر نہ تھوکو اور ان کے منہ پر نہ مارو۔‘‘
یہ سن کر عقبہ نے کہا:
’’یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔‘‘
اس کے بعد جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بدبخت کے سامنے آئے، اس نے آپ کا منہ چڑایا، آپ کے چہرہ مبارک پر تھوکا، لیکن اس کا تھوک آپ کے چہرہ مبارک تک نہ پہنچا بلکہ خود اس کے منہ پر آکر گرا۔ اس نے محسوس کیا، گویا آگ کا کوئی انگارہ اس کے چہرے پر آگیا ہے۔ اس کے چہرے پر جلنے کا نشان باقی رہ گیا اور مرتے دم تک رہا۔
اسی عقبہ بن معیط کے بارے میں سورہ فرقان کی آیت 37 نازل ہوئی:
ترجمہ: جس روز ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا اور کہے گا، کیا ہی اچھا ہوتا، میں رسول کے ساتھ دین کی راہ پر لگ جاتا۔
اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:
’’جس روز ظالم آدمی جہنم میں کہنی تک اپنا ایک ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا، پھر دوسرے ہاتھ کو کاٹ کر کھائے گا، جب دوسرا کھاچکے گا تو پہلا پھر اُگ آئے گا اور وہ اس کو کاٹنے لگے گا۔ غرض اسی طرح کرتا رہے گا۔‘‘
اسی طرح حکم بن عاص بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسخرہ پن کرتا تھا۔ ایک روز آپ ﷺچلے جارہے تھے۔ یہ آپ کے پیچھے چل پڑا۔ آپ کا مذاق اڑانے کے لئے منہ اور ناک سے طرح طرح کی آوازیں نکالنے لگا۔ آپ چلتے چلتے اس کی طرف مڑے اور فرمایا:
’’تو ایسا ہی ہوجا۔‘‘
چنانچہ اس کے بعد یہ ایسا ہوگیا تھا کہ اس کے منہ اور ناک سے ایسی ہی آوازیں نکلتی رہتی تھیں۔ ایک ماہ تک یہ بے ہوشی کی حالت میں رہا۔ اس کے بعد مرنے تک اس کے منہ اور ناک سے ایسی ہی آوازیں نکلتی رہیں۔
اسی طرح عاص بن وائل بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا:
’’محمد! اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو (نعوذ باللہ) یہ کہہ کر دھوکا دے رہے ہیں کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، خدا کی قسم ہماری موت صرف زمانے کی گردش اور وقت کے گزرنے کی وجہ سے آتی ہے۔‘‘
اسی عاص بن وائل کا ایک واقعہ اور ہے۔ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ مکہ میں لوہار کا کام کرتے تھے، تلواریں بناتے تھے۔ انہوں نے عاص بن وائل کو کچھ تلواریں فروخت کی تھیں، ان کی اس نے ابھی قیمت ادا نہیں کی تھی۔ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ اس سے قیمت کا تقاضا کرنے کے لئے گئے تو اس نے کہا:
’’خباب! تم محمد کے دین پر چلتے ہو، کیا وہ یہ دعوی نہیں کرتے کہ جنت والوں کو سونا، چاندی، قیمتی کپڑے، خدمت گار اور اولاد مرضی کے مطابق ملے گی؟‘‘
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بولے:
’’ہاں! یہی بات ہے۔‘‘
اب عاص نے ان سے کہا:
’’میں اس وقت تک تمہارا قرض نہیں دوں گا جب تک کہ تم محمد کے دین کا انکار نہیں کروگے۔‘‘

گزشتہ اقساط کے لئے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں
https://liveinfotime.com/category/seerat-un-nabi/
💞پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائ کے لئے شیئر ضرور کریں💞

ہمارے گروپ Liveinfotime.com میں شامل ہونے کے لیے اپنا نام لکھ کر

گروپ ایڈمن ابو عبداللہ
+923239029100

کو وٹس ایپ پر send کریں۔

صحت، تعلیم، اسلامی اور اخلاقی کہانیاں اور فیملی کے بارے میں اچھی اور مثبت باتیں پڑھنے کے لیے ہمارے گروپ میں شامل ہو جائیں اور ہماری ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں۔
https://liveinfotime.com/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *