سیرت النبی ﷺ قدم بقدم : قسط نمبر :049 عنوان: قتل کی سازش

سیرت النبی ﷺ
Spread the love

انہوں نے ان کے اونٹ کی مہار پکڑی اور بولے:
“اے ابوسلمہ! تم اپنے بارے میں اپنی مرضی کے مختار ہو مگر ام سلمہ ہماری بیٹی ہے،ہم یہ گوارہ نہیں کرسکتے کہ تم اسے ساتھ لے جاؤ۔”
یہ کہہ کر انہوں نے ام سلمہ رضی الله عنہا کے اونٹ کی لگام کھینچ لی۔اسی وقت ابوسلمہ کے خاندان کے لوگ وہاں پہنچ گئے اور بولے:
” ابوسلمہ کا بیٹا ہمارے خاندان کا بچہ ہے۔جب تم نے اپنی بیٹی کو اس کے قبضے سے چھڑا لیا تو ہم بھی اپنے بچے کو اس کے ساتھ نہیں جانے دین گے۔”
یہ کہہ کر انہوں نے بچے کو چھین لیا۔اس طرح ان ظالموں نے حضرت ابوسلمہ رضی الله عنہ کو ان کی بیوی اور بچے سے جدا کردیا۔ابوسلمہ رضی الله عنہ تنہا مدینہ منوره پہونچے۔
ام سلمہ رضی الله عنہا شوہر اور بچے کی جدائی کے غم میں روزانہ صبح سویرے مکہ سے باہر مدینہ منورہ کی طرف جانے والے راستے میں جاکر بیٹھ جاتیں اور روتی رہتیں۔ایک دن ان کا ایک رشتے دار ادھر سے گزرا۔ اس نے انہیں روتے دیکھا تو ترس آگیا۔وہ اپنی قوم کے لوگوں میں گیا اور ان سے بولا:
” تمہیں اس غریب پر رحم نہیں آتا…اسے اس کے شوہر اور بچے سے جدا کردیا، کچھ تو خیال کرو۔”
آخر ان کے دل پسیج گئے۔انہوں نے ام سلمہ رضی الله عنہا کو جانے کی اجازت دے دی۔یہ خبر سن کر ابوسلمہ رضی الله عنہ کے رشتہ داروں نے بچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا اور انہیں اجازت دے دی کہ بچہ کو لے کر مدینہ چلی جائیں۔اس طرح انہوں نے مدینہ کی طرف تنہا سفر شروع کیا۔راستے میں حضرت عثمان بن طلحہ رضی الله عنہا ملے۔یہ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے، کعبہ کے چابی برادر تھے۔یہ صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے۔یہ ان کی حفاظت کی غرض سے ان کے اونٹ کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ یہاں تک کہ انہیں قبا میں پہنچا دیا۔پھر حضرت عثمان بن طلحہ رضی الله عنہا یہ کہتے ہوئے رخصت ہوگئے: ” تمہارے شوہر یہاں موجود ہیں۔”
اس طرح ام سلمہ رضی الله عنہا مدینہ پہنچی۔آپ پہلی مہاجر خاتون ہیں جو شوہر کے بغیر مدینہ آئیں۔حضرت عثمان بن طلحہ رضی الله عنہا نے انہیں مدینہ پہنچا کر جو عظیم احسان کیاتھا،اس کی بنیاد پر کہا کرتی تھیں:
” میں نے عثمان بن طلحہ سے زیادہ نیک اور شریف کسی کو نہیں پایا۔”
اس کے بعد مکہ سے مسلمانوں کی مدینہ آمد شروع ہوئی۔صحابہ کرام رضی الله عنہم ایک کے بعد ایک آتے رہے۔انصاری مسلمان انہیں اپنے گھروں میں ٹھراتے۔ان کی ضروریات کا خیال رکھتے۔حضرت عمر رضی الله عنہ اور عیاش بن ابو ربیعہ رضی الله عنہ بیس آدمیوں کے ایک قافلے کے ساتھ مدینہ پہنچے۔حضرت عمر رضی الله عنہ کی ہجرت خاص بات یہ ہے کہ مکہ سے چھپ کر نہیں نکلے بلکہ باقاعدہ اعلان کرکے نکلے۔انہوں نے پہلے خانہ کعبہ کا طواف کیا،پھر مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا کی،اس کے بعد مشرکین سے بولے:
” جو شخص اپنے بچوں کو یتیم کرنا چاہتا ہے،اپنی بیوی کو بیوہ کرنا چاہتا ہے یا اپنی ماں کی گود ویران کرنا چاہتا ہے…وہ مجھے جانے سے روک کر دکھائے۔”
ان کا یہ اعلان سن کر سارے قریش کو سانپ سونگھ گیا۔کسی نے ان کا پیچھا کرنے کی جرات نہ کی۔وہ بڑے وقار سے ان سب کے سامنے روانہ ہوئے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ بھی ہجرت کی تیاری کررہے تھے۔ ہجرت سے پہلے وہ آرزو کیا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کریں۔ وہ روانگی کی تیاری کرچکے تھے ایک دن حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
” ابوبکر! جلدی نہ کرو، امید ہے، مجھے بھی اجازت ملنے والی ہے۔”
چنانچہ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ رک گئے۔ لانہوں نے ہجرت کے لیے دو اونٹنیاں تیار کرت رکھی تھی۔انہوں نے ان دونوں کو آٹھ سو درہم میں خریدا تھا اور انہیں چار ماہ سے کھلا پلا رہے تھے۔
ادھر مشرکین نے جب یہ دیکھا کہ مسلمان مدینہ ہجرت کرتے جارہے ہیں اور مدینہ کے رہنے والے بڑے جنگ جو ہے…وہاں مسلمان روز بروز طاقت پکڑتے چلے جائیں گے تو انہیں خوف محسوس ہوا کہ الله کے رسول بھی کہیں مدینہ نہ چلے جائے اور وہاں انصار کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف جنگ کی تیاری نہ کرنے لگیں…تو وہ سب جمع ہوئے…اور سوچنے لگے کہ کیا قدم اٹھائیں۔
یہ قریش دارالندوہ میں جمع ہوئے تھے۔دارالندوہ ان کے مشورہ کرنے کی جگہ تھی۔یہ پہلا پختہ مکان تھا جو مکہ میں تعمیر ہوا۔قریش کے اس مشورے میں شیطان بھی شریک ہوا۔وہ انسانی شکل میں آیا تھا اور ایک بوڑھے کے روپ میں تھا،سبز رنگ کی چادر اوڑھے ہوئے تھا۔وہ دروازے پر آکر ٹھر گیا۔اسے دیکھ کر لوگوں نے پوچھا:
” آپ کون بزرگ ہیں۔”
اس نے کہا:
” میں نجد کا سردار ہوں۔آپ لوگ جس غرض سے یہاں جمع ہوئے ہیں، میں بھی اسی کے بارے میں سن کر آیا ہوں تاکہ لوگوں کی باتیں سنوں اور ہوسکے تو کوئی مفید مشورہ بھی دوں۔”
اس پر قریشیوں نے اسے اندر بلالیا۔اب انہوں نے مشورہ شروع کیا۔ان میں سے کوئی بولا:
” اس شخص( یعنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم)کا معاملہ تم دیکھ ہی چکے ہو،الله کی قسم!اب ہر وقت اس بات کا خطرہ ہے کہ یہ اپنے نئے اور اجنبی مددگاروں کے ساتھ مل کر ہم پر حملہ کرے گا،لہذا مشورہ کرکے اس کے بارے میں کوئی ایک بات طے کرلو۔”
وہاں موجود ایک شخص ابوالبختری بن ہشام نے کہا:
” اسے بیڑیاں پہنا کر ایک کوٹھری میں بند کردو اور اس کے بعد کچھ عرصہ تک انتظار کرو،تاکہ اس کی بھی وہی حالت ہوجائے جو اس جیسے شاعروں کی ہوچکی ہے اور یہ بھی انہی کی طرح موت کا شکار ہوجائے۔”
اس پر شیطان نے کہا:
” ہرگز نہیں!یہ رائے بالکل غلط ہے۔یہ خبر اس کے ساتھیوں تک پہنچ جائے گی،وہ تم پر حملہ کردیں گے اور اپنے ساتھی کو نکال کر لے جائیں گے…اس وقت تمہیں پچھتانا پڑے گا،لہذا کوئی اور ترکیب سوچو۔”
اب ان میں بحث شروع ہوگئ۔اسود بن ربیعہ نے کہا:
” ہم اسے یہاں سے نکال کر جلاوطن کردیتے ہے…پھر یہ ہماری طرف سے کہیں بھی چلا جائے۔”
اس پر نجدی یعنی شیطان نے کہا:
” یہ رائے بھی غلط ہے۔تم دیکھتے نہیں،اس کی باتیں کس قدر خوب صورت ہیں،کتنی میٹھی ہیں۔وہ اپنا کلام سناکر لوگوں کے دلوں کو موہ لیتا ہے۔الله کی قسم! اگر تم نے اسے جلاوطن کردیا تو تمہیں امن نہیں ملےگا۔ یہ کہیں بھی جاکر لوگوں کے دلوں کو موہ لے گا۔ پھر تم پر حملہ آوار ہوگا…اور تمہاری یہ ساری سرداری چھین لے گا… لہذا کوئی اور بات سوچو۔”
اس پر ابوجہل نے کہا:
” میری ایک ہی رائے ہے اور اس سے بہتر رائے کوئی نہیں ہوسکتی۔”
سب نے کہا:
” اور وہ کیا ہے۔”
ابوجہل نے کہا:
” آپ لوگ ہر خاندان اور ہر قبیلےکا ایک ایک بہادر اور طاقتور نوجوان لیں۔ہر ایک کو ایک ایک تلوار دیں۔ان سب کو محمد پر حملہ کرنے کے لیے صبح سویرے بھیجیں۔وہ سب ایک ساتھ اس پر اپنی تلواروں کا ایک بھرپور وار کریں…اس طرح اسے قتل کردیں۔اس سے ہوگا یہ کہ اس کے قتل میں سارے قبیلے شامل ہوجائیں گے،لہذا محمد کے خاندان والوں میں اتنی طاقت نہیں ہوگی کہ وہ ان سب سے جنگ کریں…لہذا وہ خون بہا( یعنی فدیے کی رقم)لینے پر آمادہ ہوجائیں گے، وہ ہم انہیں دے دیں گے۔”
اس پر شیطان خوش ہوکر بولا:
” ہاں! یہ ہے اعلیٰ رائے…میرے خیال میں اس سے اچھی رائے کوئی اور نہیں ہوسکتی۔”
چنانچہ اس رائے کو سب نے منظور کرلیا۔ الله تعالٰی نے فوراً جبرئیل علیہ السلام کو حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔انہوں نے عرض کیا:
” آپ روزانہ جس بستر پر سوتے ہیں،آج اس پر نہ سوئیں۔”
اس کے بعد انہوں نے مشرکین کی سازش کی خبر دی، چنانچہ سورۃ الاانفال کی آیت ۳۰ میں آتا ہے:
” ترجمہ: اور اس واقعے کا بھی ذکر کیجئے،جب کافر لوگ آپ کی نسبت بری بری تدبیریں سوچ رہے تھے کہ آیا آپ کو قید کرلیں،یا قتل کرڈالیں، یا جلاوطن کردیں اور وہ اپنی تدبیریں کررہے تھے اور الله اپنی تدبیر کررہا تھا اور سب سے مضبوط تدبیر والا الله ہے۔”
غرض جب رات ایک تہائی گزر گئی تو مشرکین کا ٹولہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے گھر تک پہنچ کر چھپ گیا…وہ انتظار کرنے لگا کہ کب وہ سوئیں اور وہ سب یک دم ان پر حملہ کردیں۔ان کفار کی تعداد ایک سو تھی

گزشتہ اقساط کے لئے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں
https://liveinfotime.com/category/seerat-un-nabi/
💞پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائ کے لئے شیئر ضرور کریں💞

ہمارے گروپ Liveinfotime.com میں شامل ہونے کے لیے اپنا نام لکھ کر

گروپ ایڈمن ابو عبداللہ
+923239029100

کو وٹس ایپ پر send کریں۔

صحت، تعلیم، اسلامی اور اخلاقی کہانیاں اور فیملی کے بارے میں اچھی اور مثبت باتیں پڑھنے کے لیے ہمارے گروپ میں شامل ہو جائیں اور ہماری ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں۔
https://liveinfotime.com/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *