سیرت النبی ﷺ قدم بقدم :قسط نمبر :050 عنوان: مکہ کے غار ثور تک

سیرت النبی ﷺ
Spread the love

ادھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
“تم میرے بستر پر سو جاؤ اور میری یمنی چادر اوڑھ لو۔”
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
“تمہارے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔”
مشرکوں کے جس گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کو گھیر رکھا تھا، ان میں حکیم بن ابوالعاص، عقبہ بن ابی معیط، نصر بن حارث، اسید بن خلف، زمعہ ابن اسود اور ابوجہل بھی شامل تھے۔ ابوجہل اس وقت دبی آواز میں اپنے ساتھیوں سے رہا تھا:
“محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کہتا ہے، اگر تم اس کے دین کو قبول کرلو گے تو تمہیں عرب اور عجم کی بادشاہت مل جائے گی اور مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی اور وہاں تمہارے لیے ایسی جنتیں ہوں گی، ایسے باغات ہوں گے جیسے اردن کے باغات ہیں، لیکن اگر تم میری پیروی نہیں کرو گے تو تم سب تباہ ہو جاؤ گے، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے تو تمہارے لئے وہاں جہنم کی آگ تیار ہوگی اس میں تمہیں جلایا جائے گا۔”
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے یہ الفاظ سُن لیے، آپ یہ کہتے ہوئے گھر سے نکلے:
“ہاں! میں یقیناً یہ بات کہتا ہوں۔”
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی میں کچھ مٹی اٹھائی اور یہ آیت تلاوت فرمائی:
ترجمہ: یٰسن۔ قسم ہے حکمت والے قرآن کی، بے شک آپ پیغمبروں کے گروہ میں سے ہیں، سیدھے راستے پر ہیں۔ یہ قرآن زبردست اللہ مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ (پہلے تو) ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے سو اسی سے یہ بے خبر ہیں، اُن میں سے اکثر لوگوں پر بات ثابت ہوچکی ہے، سو یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں، پھر وہ ٹھوڑیوں تک اڑ گئے ہیں، جس سے ان کے سر اوپر کو اٹھ گئے ہیں اور ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کر دی ہے اور ایک آڑ ان کے پیچھے کر دی ہے جس سے ہم نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا ہے سووا دیکھ نہیں سکتے۔”
یہ سورۃ یٰسین کی آیات 1 تا 9 کا ترجمہ ہے ۔ ان آیات کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے کفار وقتی طور پر اندھا کردیا۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سامنے سے جاتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔
حضور صلی اللہ وعلیہ وسلم نے جو مٹی پھینکی تھی وہ ان سب کے سروں پر گری، کوئی ایک بھی ایسا نہ بچا جس پر مٹی نہ گری ہو۔
جب قریش کو پتا چلا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سروں پر خاک ڈال کر جا چکے ہیں تو وہ سب گھر کے اندر داخل ہوئے۔ آپ صل اللہ و علیہ وسلم کے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ چادر اوڑھے سو رہے تھے۔ یہ دیکھ کر وہ بولے:
“خدا کی قسم یہ تو اپنی چادر اوڑھے سو رہے ہیں لیکن جب چادر الٹی گی تو بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نظر آئے۔ مشرکین حیرت زدہ رہ گئے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: “تمارے صاحب کہاں ہیں؟”
مگر اُنھوں نے کچھ نہ بتایا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مارتے ہوئے باہر لے آئے اور مسجد حرام تک لائے، کچھ دیر تک انہوں نے انہیں روکے رکھا، پھر چھوڑ دیا۔
اب حضورصلی اللہ وعلیہ وسلم کو ہجرت کے سفر پر روانہ ہونا تھا۔ انہوں نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا:
“میرے ساتھ دوسرا ہجرت کرنے والا کون ہوگا؟”
جواب میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا:
“ابوبکر صدیق ہونگے۔”
حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک چادر اوڑھے ہوئے تھے اسی حالت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے۔ دروازے پر دستک دی تو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے دروازہ کھولا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں اور چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔
یہ سنتے ہی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بول اُٹھے:
” اللہ کی قسم! اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً کسی خاص کام سے تشریف لائے ہیں۔”
پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی چارپائی پر بٹھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“دوسرے لوگوں کو یہاں سے اٹھا دو۔”
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حیران ہو کر عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول! یہ تو سب میرے گھر والے ہیں۔”
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔”
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فوراً بول اٹھے:
“میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا میں آپ کے ساتھ جاؤں گا؟”
جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“ہاں! تم میرے ساتھ جاؤ گے -“
یہ سنتے ہی مارے خوشی کے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے – حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے اپنے والد کو روتے دیکھا تو حیران ہوئی… اس لیے کہ میں اس وقت تک نہیں جانتی تھی کہ انسان خوشی کی وجہ سے بھی رو سکتا ہے –
پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان! آپ ان دونوں اونٹنیوں میں سے ایک لے لیں، میں نے انہیں اسی سفر کے لیے تیار کیا ہے -“
اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“میں یہ قیمت دے کر لے سکتا ہوں -“
یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان! میں اور میرا سب مال تو آپ ہی کا ہے -“
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹنی لے لی –
بعض روایات میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کی قیمت دی تھی – اس اونٹنی کا نام قصویٰ تھا – یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کے پاس ہی رہی – حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اس کی موت واقع ہوئی –
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے ان دونوں اونٹنیوں کو جلدی جلدی سفر کے لیے تیار کیا – چمڑے کی ایک تھیلی میں کھانے پینے کا سامان رکھ دیا – حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنی چادر پھاڑ کر اس کے ایک حصے سے ناشتے کی تھیلی باندھ دی – دوسرے حصے سے انہوں نے پانی کے برتن کا منہ بند کردیا – اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“اللہ تعالیٰ تمہاری اس اوڑھنی کے بدلے جنت میں دو اوڑھنیاں دے گا۔”
اوڑھنی کو پھاڑ کر دو کرنے کے عمل کی بنیاد پر حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو ذات النطاقین کا لقب ملا یعنی دو اوڑھنی والی۔یاد رہے کہ نطاق اس دوپٹے کو کہا جاتا ہے جسے عرب کی عورتیں کام کے دوران کمر کے گرد باندھ لیتی تھیں۔
پھر رات کے وقت حضور صلی اللہ ھو علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اور پہاڑ ثور کے پاس پہنچے۔ سفر کے دوران کبھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلنے لگتے تو کبھی پیچھے انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
“ابوبکر ایسا کیوں کر رہے ہو؟”
جواب میں انہوں نے عرض کیا:
“اللہ کےرسول! میں اس خیال سے پریشان ہوں کہ کہیں راستے میں کوئی آپ کی گھات میں نہ بیٹھا ہو۔” اس پہاڑ میں ایک غار تھا۔ دونوں گار کے دھانے تک پہنچے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ نے عرض کیا:
“قسم اُس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا۔ آپ ذرا ٹھریے! پہلے غار میں داخل ہوں گا، اگر غار میں کوئی موذی کیڑا ہوا تو کہیں وہ آپ کو نقصان نہ پہنچا دے…”
چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غار میں داخل ہوئے۔ انہوں نے غار کو ہاتھوں سے ٹٹول کر دیکھنا شروع کیا۔ جہاں کوئی سوراخ ملتا اپنی چادر سے ایک ٹکڑا پھاڑ کر اس کو بند کر دیتے۔

گزشتہ اقساط کے لئے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں
https://liveinfotime.com/category/seerat-un-nabi/
💞پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائ کے لئے شیئر ضرور کریں💞

ہمارے گروپ Liveinfotime.com میں شامل ہونے کے لیے اپنا نام لکھ کر

گروپ ایڈمن ابو عبداللہ
+923239029100

کو وٹس ایپ پر send کریں۔

صحت، تعلیم، اسلامی اور اخلاقی کہانیاں اور فیملی کے بارے میں اچھی اور مثبت باتیں پڑھنے کے لیے ہمارے گروپ میں شامل ہو جائیں اور ہماری ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں۔
https://liveinfotime.com/

2 Comments on “سیرت النبی ﷺ قدم بقدم :قسط نمبر :050 عنوان: مکہ کے غار ثور تک”

  1. 🔎🔎 *معلومات کی جستجو* 🛰️🛰️🛰️

    ┄┅════❁ سائنس کی دنیا ❁════┅┄

    *ڈی این اے (DNA) میں خدا کی نشانیاں!*

    ایک سو کھرب (One Hundred Trillion) بے جان ایٹموں (Atoms) سے مل کر ایک انسانی خلیہ (Cell) بنتا ہے، جس میں زندگی ہوتی ہے، (اس میں زندگی کون ڈالتا ہے؟ !)۔
    اور
    ایک سو کھرب (One Hundred Trillion) خلیوں (Cells) سے ایک انسان بنتا ہے۔
    اور
    ہر خلیہ (Cell) ایک DNA سالمہ کا حامل ہوتا ہے۔
    اور
    ہر DNA میں انسانی جسم کے متعلق تین ارب(Three billion) مختلف موضوعات کی معلومات (Information) ہوتی ہے۔
    اور
    اگر اس معلومات کو آپ کسی کتاب میں لکھنا چاہیں تو اس کی ایک ہزار جلدیں (Volumes) بنیں گی
    اور
    ہر جلد 10 لاکھ صفحات (Pages) پر مشتمل ہوگا۔
    اور
    اگر آپ اس معلومات کو کسی کمپیوٹر کی Hard-disk میں ڈالنا چاہیں تو اس کے لئے آپ کو 215 ارب (215 Billion GB) کی Hard-disk چاہیئے ہوگی۔

    ڈی این اے میں جو معلومات درج ہوتی ہے اسی کے مطابق انسان کی ظاہری شکل و صورت عادات اور رویہ بنتا ہے۔ جس طرح کمپیوٹر کے براؤزر(Browser) پر نظر آنے والے صفحہ (Page) کے پیچھے (HTML) کے (Codes) کارفرما ہوتے ہیں۔

    اس لئے مشہور ملحد رچرڈ ڈاکنز نے بھی کہا ہے کہ:
    “The machine code of the genes is uncannily computer-like”
    “انسانی ڈے این اے میں جینز کا مشین کوڈ غیر معمولی طور پر کمپیوٹر جیسا ہے۔”
    (River out of Eden Page#17.)

    اور بل گیٹس (Bill Gates) نے کہا کہ:
    “DNA is like a computer program but far, far more advanced than any software ever created.”
    ڈی این اے ایک کمپیوٹر پروگرام ہی کی طرح ہے، لیکن آج تک جتنے بھی سافٹ ویئر بنائے گئے ہیں ان سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔”
    (The Road Ahead, Page#188)

    یہ صرف ایک انسان کی بات ہے اور دنیا میں ساڑھے سات ارب (7.5 Billion) موجود ہیں اور اس سے پہلے کتنے انسان گذرے ہیں اور کتنے کھرب انسان گزریں گے، ہم نہیں جانتے۔

    یہ صرف انسانوں کی بات تھی، انسان کے علاوہ زمین پر ساڑھے آٹھ ملین (8.7 Million) جانداروں کی نوع (Species) موجود ہیں۔ اور ہر جاندار کی مختلف انواع (Species) ہوتی ہیں۔

    کیا یہ اتنا پیچیدہ(Complex) اور ڈیزائن کیا ہوا ڈی این اے خودبخود بن گیا؟
    کیا اس میں یہ معلومات اپنے آپ آگئی؟
    کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک کمپیوٹر پروگرام بغیر کسی سافٹ ویئر انجینئر کے بن گیا ہے؟
    جبکہ ڈی این اے دنیا کے بڑے سے بڑے کمپیوٹر پروگرام سے بھی کھربوں گنا زیادہ ترقی یافتہ (Advanced) ہے ! اور کسی سافٹ ویئر سے بھی بہت ہی زیادہ پیچیدہ ہے۔

    معلومات کے لئے عالم کی ضرورت ہوتی ہے، ڈیزائن کے لئے DESIGNER کی ضرورت ہوتی ہے، پروگرام کے لیے ایک اعلی باکمال PROGRAMMER کی ضرورت ہوتی ہے۔

    هُوَ اللّـٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَـهُ الْاَسْـمَآءُ الْحُسْنٰى ۚ يُسَبِّـحُ لَـهٝ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ
    سورۃ الحشر، آیت:24۔

    وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کرنے والا، ٹھیک ٹھیک وجود میں لانے والا، چیزوں کو صورت دینے والا ہے۔ تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔ کائنات کی ہر چیز اس کی پاکی بیان کرتی ہے۔ وہ بہت ہی غالب اور حکمت والا ہے۔

    وَفِىْ خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰيَاتٌ لِّقَوْمٍ يُوْقِنُـوْنَ
    الجاثیہ، آیت:4

    اور تمہاری تخلیق میں اور ان جانداروں میں جن کو زمین میں پھیلایا گیا ہے یقین کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔
    ا

  2. ..*ایک جملے کے جدید لطائف*
    *(مشتاق احمد یوسفی مرحوم)*
    **********************
    *ہر آدمی اتنا برا نہیں ہوتا جتنا اس کی بیوی اس کو سمجھتی ہے اور اتنا اچھا بھی نہیں ہوتا جتنا اس کی ماں اس کو سمجھتی ہے۔
    *************************
    *ہر عورت اتنی بری نہیں ہوتی جتنی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی فوٹو میں نظر آتی ہے اور اتنی اچھی بھی نہیں ہوتی جتنی فیس بک اور واٹس اپ پر نظر آتی ہے۔
    *************************
    *آج کل ‎صابن کےاشتہارت دیکھ کرسمجھ نہیں آتی کہ انہیں کھانا ہے یا ان سے نہانا ہے دودھ،بادام اور انڈے سے بنا بس ذرا سا (LUX)۔
    *************************
    *شوگر کی بیماری اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگ میٹھا کھانا پینا تو کیا میٹھا بولنا بھی چھوڑ گئے ہیں۔
    ***************************
    *اکثر میاں بیوی ایک دوسرے سے سچا پیار کرتے ہیں اور “سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے”۔
    *************************
    *اگر سلاد کھانے سے وزن کم ہوتا تو ایک بھی بھینس موٹی نہ ہوتی۔
    *************************
    *بےشک دکھ ، حالات اور بیوٹی پارلر انسان کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔
    *************************
    *کچھ خواتین کو کچھ یاد رہے نہ رہے یہ ضرور یاد رہتا ہے کہ ہماری ایک پلیٹ اس کے ہاں گئی تھی ایک پلیٹ اس کے یہاں گئی تھی ابھی تک واپس نہیں آئی-
    *************************
    *شکر ہے شوہر عام طور پر خوبصورت ہوتے ہیں ورنہ سوچیں اس مہنگائی میں دو لوگوں کا بیوٹی پارلر کا خرچا کتنا بھاری پڑتا۔
    **************************
    *لوگ پتہ نہیں کیسے پرفیکٹ لائف گزار لیتے ہیں ہمارے تو ناشتے میں کبھی پراٹھا پہلے ختم ہوجاتا ہے اور کبھی انڈا۔
    *************************
    *ہم پاکستانی واحد قوم ہیں جو کہتے ہیں بھائی ایک ٹھنڈی Cold Drink تو دینا ۔
    ************************
    *ایک نئی تحقیق کے مطابق، سکون صرف اس گھر میں ہوتا ہے جہاں ایک سے زیادہ چارجر موجود ہو-
    *************************
    *جو بیوی اپنے شوہر کی ساری غلطیاں معاف کر دیتی ہے وہ بیوی صرف ڈرامے کی آخری قسط میں پائی جاتی ہے۔
    **************************
    *اچھی بیوی وہ ہوتی ہے جو غلطی کر کے شوہر کو معاف کر دیتی ہے –
    *************************
    *آج کل کے ‏چھوٹے بچوں کو کوئی بھی کام کہو تو آگے سے کہتےہیں” پھر ‎موبائیل دو گے نا؟”۔
    ************************
    *پاکستان میں گھی کے ڈبے سے کار تونکل سکتی ہے پر اصلی گھی نہیں۔
    *************************
    *ننانوے فیصد پاکستانیوں کو وچلی گل جاننے کا بہت شوق ہوتا ہے۔
    ************************.
    *سیاستدانوں نے ہمیشہ جاھل عوام کو بیوقوف بنایا عمران حاں کو کریڈٹ جاتا ہے اس نے پڑھے لکھے عوام کو بیوقوف بنایا۔
    **************************
    *ایمبولنس ہو یا بارات دونوں کو جلدی راستہ دے دینا چاہئے کیونکہ دونوں ہی زندگی کی جنگ لڑنے جا رہے ہوتے ہیں ۔
    *************************
    *صرف ننانوے فیصد پھوپھیوں کی وجہ سے ساری پھوپھو بدنام ہیں۔
    *************************
    *کتنی عجیب دنیا ہے، جہاں عورتیں دوسری عورتوں کی شكايت کرتے نہیں تھكتيں جبکہ مرد دوسری عورتوں کی تعریف کرتے نہیں تھکتے, مرد واقعی عظیم ہیں۔
    ************************
    *پرانے زمانے میں جب کوئی اکیلا بیٹھ کر ہنستا تھا، تو لوگ کہتے تھے کہ اس پر کوئی بھوت پریت کا سايا ہے اور آج کوئی اکیلے میں بیٹھ کر ہنستا ہے تو کہتے ہیں مجھے بھی SEND کرو۔
    **********************
    یقینا ہم سب گھاٹے کے سوداگر ہیں۔

    .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *