بادشاہی مسجد جامع مسجد لاہور

بادشاہی مسجد
Spread the love

تحریر: عبدالصمد صمدانی
سلسہ نمبر: 50

قدیم تاریخی بادشاہی مسجد پنجاب کے صدر مقام لاہور میں واقع ہے۔جو پاکستان کا دوسرا بڑا اور تاریخی شھر ہونے کا اعزاز رکھتا ہے۔
بادشاہی مسجد 1673 میں اورنگزیب عالمگیر نے لاہور میں بنوائی۔ یہ عظیم الشان مسجد مغلوں کے دور کی ایک شاندار مثال ہے اور لاہور شہر کی شناخت بن چکی ہے۔ اس مسجد کا انداز تعمیر جامع مسجد دلی سے بہت ملتا جلتا ہے جو کہ اورنگزیب کے والد شاہجہان نے 1648 میں تعمیر کروائی تھی۔۔۔یہ پاکستان تیسری بڑی مسجد ہونے کا اعزاز رکھتی ہے۔۔

ہندوستان کے چھٹے مغل بادشاہ اورنگزیب تمام مغلوں میں سے سب سے زیادہ مذہبی بادشاہ تھے۔ انھوں نے اس مسجد کو اپنے سوتیلے بھائی مظفر حسین، جن کو فداے خان کوکا بھی کہا جاتا تھا، کی زیر نگرانی تعمیر کروایا۔ 1671 سے لیکر 1673 تک مسجد کی تعمیر کو دو سال لگے۔ مسجد کو شاہی قلعہ کے برعکس تعمیر کیا گیا، جس سے اس کی مغلیہ دور میں اہمیت کا پتہ لگتا ہے۔ اس مسجد کے بننے کے ساتھ ہی ساتھ اورنگزیب نے اس کے دروازے کے برعکس شاہی قلعہ میں بھی ایک باوقار دروازے کا اضافہ کیا، جس کو عالمگیری دروازہ کہا جاتا ہے۔

بادشاہی مسجد جامع مسجد جہاں نما دہلی کی طرز تعمیر میں گہری مماثلت اور یکسانیت پاٸی جاتی ہے۔۔لیکن طرز تعمیر میں نفاست کے حوالے سے دلی کی جامع مسجد کو بہتر مانا گیا۔روایات کے مطابق دلی کی جامع مسجد پر دس لاکھ سے زاٸد رقم خرچ ہوٸی جو بادشاہی مسجد لاہور سے چار لاکھ زاٸد ہیں۔اسکے علاوہ لاہور بادشاہی کی مسجد دو برس کے قلیل عرصے میں مکمل ہوٸی جبکہ دلّی کی جامع مسجد میں پانچ برس سے زاٸد کا عرصہ لگا۔

یہ بھی پڑھیں: شاہ جہان مسجد ٹھٹھہ سندھ پاکستان

جوں جوں وقت گزرتا گیا، مسجد کو متعدد وجوہات کی بنا پر نقصانات پہنچتے گئے۔ 1850 سے اس کی مرمت کا آغاز ہوا، لیکن یہ مرمت نامکمل تھیں۔ آخرکار مکمل مرمت 1939ء میں شروع ھوئی اور 1960 میں مکمل کی گئی جن پر 48 لاکھ روپے صرف ہوئے۔ اس مرمت کی وجہ سے مسجد ایک بار پھر اپنی اصلی حالت میں واپس آگئی۔

مسجد ھٰذا کے کل 8 مینار ہیں جنمیں چار بڑے اور چار چھوٹے ہیں۔ میناروں کو بناتے وقت اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ اگر زلزلے جیسی قدرتی آفات کے حادثے کے وقت گرنے کا خدشہ ہو تو یہ مسجد کے صحن میں گرنے کے بجاۓ مسجد کی حدود سے باہر گریں۔
میناروں کی بلندی 176 فٹ 4انچ ہے۔مسجد میں گنبد کی تعداد 3 ہے۔مرکزی گنبد 49فٹ بلند ہے جبکہ دیگر دو گنبد 32فٹ بلند ہیں۔جبکہ گنبد کا قطر 65فٹ دیگر کا 51.5 فٹ ہے۔

پہلے یہ پاکستان کی سب سے بڑی مسجد ہونےاعزاز رکھتی تھی بعد میں فیصل مسجد اور گرینڈ جامع مسجد بحریہ ٹاون کی تعمیر کے بعد اب تیسری بڑی مسجد کہلاتی ہے۔
مسجد میں نمازیوں کی کل کیپیسٹی تقریبا 60,000کے لگ بھگ ہے۔
دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر، جو کہ لاہور میں 22 فروری، 1974 کو ہوئی، 39سربراہان مملکت نے جمعہ کی نماز اس مسجد میں ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔

دنیائے اسلام کی عطیم مساجد کے بارے میں مزید پڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *