مسجد الحسین قاہرہ مصر: حضرت حسین کے سر مبارک والی مسجد

مسجد الحسین
Spread the love

تحریر: عبدالصمد صمدانی

مسجد الحسین مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع ملک کی ایک قدیم تاریخی مسجد ہے (دیگر نام: مسجد سیدنا الحسین، مسجد حسین،مسجد راس الحسین)جو 549ھ (1154ء) میں تعمیر ہوئی۔ تحقیق کے مطابق یہ مسجد فاطمی خلفاء کے ایک قبرستان کی زمین پر تعمیر کی گئی۔ اس مسجد کے تبرکات بهت مشہور ہیں۔اس کے علاوہ یہ مشہور ہے کہ سیدنا حسین ؓ کا سر مبارک جو اولاً دمشق، شام میں دفنایا گیا تھا، یہاں لا کر دفنایا گیا مگر زیادہ روایات یہ ہیں کہ یہ سرِ اقدس واپس کربلا ، عراق لے جا کر دفنایا گیا تھا۔۔۔واللہ اعلم

مسجد الحسین کی تاریخ :

مسجد الحسین 549ھ (1154ء) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسہ رسول جگر گوشہ بتول سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنھما کے نام پر تعمیر ہوئی۔  بعد میں مسجد میں وہ جگہ شامل کردی گئی جہاں مشہور روایات کے مطابق سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنھما کا سر مبارک دفن تھا۔

مسجد پر موجود کھدی ہوئی تحریروں کے مطابق 634ھ (1237ء) میں ایک مینار تعمیر کیا گیا اور مسجد میں ستونوں کا اضافہ کیا گیا۔
1175ھ (1761-62ء) میں امیر عبدالرحمٰن کتخدا نے مینار کے اوپر والے حصے اور گنبد کی تعمیر کی۔ 1279ھ (1863ء) میں خدیو اسماعیل نے مسجد کو وسیع کیا۔ مسجد کا کام 1290ھ (1873ء) تک جاری رہا۔  ایک نئے مینار کی تعمیر 9579ھ (1878ء) تک جاری رہی۔
مسجد میں پنتالیس ستون ہیں جو سنگِ مرمر سے بنے ہیں اور چھت کے اندرونی حصہ پر مہنگی لکڑی کا کام ہے۔ محراب کی تعمیر و تزئین 1303ھ (1886ء) میں کی گئی۔
مسجد میں زبردست خطاطی اور نقاشی دیکھی جا سکتی ہے جس میں سے کچھ کافی قدیم ہے۔

مغرب میں موجود جامع مسجد گلاسکو: اسلامی اور مغربی معماری کا ایک حسین امتزاج ہے۔

مسجد الحسین کے تبرکات

مسجد میں کئی تبرکات ہیں جن کو کثیر تعداد میں لوگ دیکھنے آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

1-مسجد میں قرآن کا ایک 1400سال کے قریب پرانا نسخہ موجود ہے جوکہ مکمل ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ نسخہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور سے تعلق رکھتا ہے اور وہ نسخہ ہے جو ان کے دور میں یکجا کر کے مختلف علاقوں میں بھیجنے کے ساتھ مصر میں بھی بھیجا گیا تھا۔

روایات کے مطابق یہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ یہ نسخہ مختلف حکمرانوں کے پاس رہا۔ جدید دور میں چمڑے پر لکھے ہوئے اس نسخہ کو محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ نسخہ ایسے خط میں ہے جو مدینہ میں چودہ سو سال پہلے قرآن کی کتابت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہ دنیا میں قرآن کا ایسا قدیم ترین نسخہ ہے جو مکمل قرآن پر مشتمل ہے۔

2.جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ریش مبارک سے منسوب کچھ بال مبارک۔
3.آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب ایک سرمہ دانی۔
4. روایت مشہور ہے کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا سر مبارک یہاں لا کر دفن کیا گیا تھا مگر اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں اور اکثر روایات کے مطابق سر مبارک پہلے دمشق میں دفنایا گیا اور بعد میں جسم کے ساتھ کربلا میں دفنا دیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *