جامع مسجد سلیمانیہ استنبول ترکی

جامع مسجد سلیمانیہ
Spread the love

تحریر: عبدالصمد صمدانی
عالم اسلام کی عظیم مساجد: سلسلہ نمبر 7

استنبول کی مختصر تاریخ

ترکی کا سابقہ دارالحکومت استنبول دنیا بھر میں مساجد کی تعداد کے حوالے سے سہرفہرست ہے۔ایک رپوٹ کے مطابق استنبول میں مساجد کی تعداد تقریباً 3,113 ہے۔۔استنبول بڑا تاریخی شہر ہے۔نبی کریم ﷺ نے اس شہر کو فتح کرنے والے کو جنت کی بشارت سناٸی تھی اسوقت اسکانام قسطنطنیہ تھا۔۔صحابہ ؓ کے دور میں کئی دفعہ اسکو فتح کرنے سعی کی  گئی۔۔سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ کا مزار بھی اسی شہر میں ہے جو قسطنطنیہ پر لشکر اسلام کیساتھ جہاد کیلے آۓ تھے لیکن انکی زندگی نے وفا نہ کی۔

خلافت عثمانیہ سے پہلے سلجوق سلطنت کے زمانے میں یہ شہر رومن امپائر کا حصہ تھا اسوقت اسکا نام بازنطین تھا بعد ازاں سلطان محمد فاتح ؒنے فتح کرکے بشارت نبوی ﷺ کا مصداق ٹھہرے۔سلطان محمد فاتح ؒ نے اسکا نام بازنطین سے اسلامبول کردیا جو بگڑتے بگڑتے استنبول بن گیا۔

جامع مسجد سلیمانیہ

جامع مسجد سلیمانیہ ترکی کے شہر استنبول کی ایک عظیم جامع مسجد ہے۔ یہ مسجد سلطنت عثمانیہ کے سلطان سلیمانؒ اول (سلیمان قانونی) کے حکم پر مشہور عثمانی ماہر تعمیرات معمار سنان پاشا نے تعمیر کی۔ مسجد کی تعمیر کا آغاز 1550ء میں اور تکمیل 1557ء میں ہوئی۔

مسجد سلیمانیہ کو بازنطینی طرز تعمیر کے شاہکار آیاصوفیہ کے مقابلے میں تعمیر کیا گیا تھا۔ جسے عیسائی طرز تعمیر کا عظیم شاہکار قرار دیتے ہوئے دعوٰی کرتے تھے کہ اس کے گنبد سے بڑا کوئی گنبد تیار نہیں کیا جاسکتا۔
(آیاصوفیہ کو فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان محمد ثانیؒ نے مسجد میں تبدیل کردیا تھا) اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے سنان پاشا نے مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا اور یہ عظیم شاہکار تخلیق کیا۔

جامع مسجد سلیمانیہ کی لمبائی 59 میٹر اور چوڑائی 58 میٹر ہے۔ اس کا گنبد 53 میٹر بلند اور 57.25 میٹر قطر کا حامل ہے۔ مسجد کے چار مینار ہیں کیونکہ مسجد میں چار مینار تعمیر کرنے کا حق صرف سلطان کا تھا۔

شہزادی شہزادیاں دو اور دیگر افراد ایک مینار تعمیر کرسکتے تھے۔ مسجد کے علاوہ صحن ، لنگر خانہ ، دار الشفاء ، 4 مدارس ، دار الحدیث اور ایک حمام بھی تعمیر کئے گئے۔ اس مسجد میں بیک وقت 63,000نمازی رب کے حضور سربسجود ہوسکتے ہیں۔

مسجد سے ملحقہ باغیچے میں سلطان سلیمان اول اور ان کی اہلیہ کے مزارات ہیں جبکہ سلطان کی صاحبزادی محرمہ ، والدہ دل آشوب صالحہ اور ہمشیرہ عائشہ کی قبریں بھی موجود ہیں۔ سلیمان ثانی ، احمد ثانی ، مصطفی ثانی کی صاحبزادی صفیہ بھی یہیں مدفون ہیں۔ مسجد کی دیواروں کے ساتھ ہی شمال کی جانب سنان پاشا کا مقبرہ ہے۔

سلیمانیہ مسجد کے بارے میں مزید جانیں۔

1660ء میں آتشزدگی کے نتیجے میں جامع مسجد سلیمانیہ کو شدید نقصان پہنچا جس کے بعد سلطان محمد چہارم نے اس کی بحالی کا کام کرایا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران مسجد میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد مسجد کی آخری تزئین و آرائش 1956ء میں کی گئی۔
آجکل جامع مسجد سلیمانیہ استنبول کے مشہور ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

عالم اسلام کی عظیم مساجد کے بارے میں جانیئے۔

2 Comments on “جامع مسجد سلیمانیہ استنبول ترکی”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *