خلاصہ القرآن : 14 چودھواں پارہ​

خلاصہ القرآن
Spread the love

الحمد اللہ آج خلاصہ القرآن کا چودھواں پارہ​​ مکمل ہوا۔

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

اس پارے میں دو حصے ہیں:

  1. سورۂ حجر مکمل
  2. سورۂ نحل مکمل

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

 سورۂ حجر میں چار باتیں یہ ہیں:​

  1. کفار کی آرزو (آخرت میں جب کفار مسلمانوں کو مزے میں اور خود کو عذاب میں دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوجاتے)
  2. قرآن کی حفاظت (ﷲ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے)
  3. انسان کی تخلیق (ﷲ تعالیٰ نے انسان کو منی سے بنایا، فرشتوں کا مسجود بنایا، شیطان مردود ہوا، اس نے قیامت تک انسانوں کو گمراہ کرنے کی قسم کھالی)
  4. تین قصے:

پہلا قصہ:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرشتوں نے آکر بیٹے کی خوشخبری دی، اس وقت ان کی اہلیہ بہت بوڑھی تھیں، بظاہر یہ ولادت کی عمر نہ تھی، اس لیے آپ کو بیٹے کی خوش خبری سن کر خوشی بھی ہوئی اور تعجب بھی ہوا، فرشتوں نے کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری سنا رہے ہیں آپ مایوس نہ ہوں، آپ نے فرمایا کہ ﷲ کی رحمت سے مایوس ہونا تو صرف گمراہوں کا کام ہے۔

دوسرا قصہ:

فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری سنا کر حضرت لوط علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے درخواست کی کہ آپ اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر رات ہی کو اس بستی سے نکل جائیے، کیونکہ آپ کی بستی والے گناہوں کی سرکشی میں اتنے آگے نکل گئے ہیں کہ ﷲ تعالیٰ نے ان کے ناپاک وجود سے زمین کو پاک کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، ان لوگوں کی جڑ صبح صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔

تیسرا قصہ:

اصحاب الحجر ، ان سے مراد قوم ثمود ہے، یہ لوگ بھی ظلم اور زیادتی کی راہ پر چل نکلے تھے اور بار بار سمجھانے کے باوجود بت پرستی کو چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہورہے تھے، انھیں مختلف معجزات دکھائے گئے

بالخصوص پہاڑی چٹان سے اونٹنی کی ولادت کا معجزہ جو کہ حقیقت میں کئی معجزوں کا مجموعہ تھا، اونٹنی کا چٹان سے برآمد ہونا، نکلتے ہی اس کی ولادت کا قریب ہونا، اس کی جسامت کا غیر معمولی بڑا ہونا، اس سے بہت زیادہ دودھ کا حاصل ہونا، لیکن ان بدبختوں نے اس معجزے کی کوئی قدر نہ کی، بجائے اس کے کہ وہ اسے دیکھ کر ایمان قبول کرلیتے انھوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کردیا، چنانچہ وادی حجر والے بھی عذاب کی لپیٹ میں آکر رہے۔

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

 سورۂ نحل میں پانچ باتیں یہ ہیں:​

  1. توحید
  2. رسالت
  3. شہد کی مکھی
  4. جامع آیت
  5. حضرت ابرہیم علیہ السلام کی تعریف

توحید:

ﷲ تعالیٰ نے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا، انسان کو نطفے سے پیدا کیا، چوپائے پیدا کیے، جن میں مختلف منافع بھی ہیں اور وہ اپنے مالک کے لیے فخر و جمال کا باعث بھی ہوتے ہیں، گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کیے جو باربرداری کے کام آتے ہیں اور ان میں رونق اور زینت بھی ہوتی ہے۔ بارش وہی برساتا ہے، پھر اس بارش سے زیتون، کھجور، انگور اور دوسرے بہت سارے میوہ جات اور غلے وہی پیدا کرتا ہے۔ رات اور دن، سورج اور چاند کو اسی نے انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ دریاؤں سے تازہ گوشت اور زیور وہی مہیا کرتا ہے۔

سمندر میں جہاز اور کشتیاں اسی کے حکم سے رواں دواں ہیں۔ اگر ﷲ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہیں تو شمار نہیں کرسکتے۔

رسالت:

نبی علیہ السلام کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ ﷲ کی طرف بلائیں اور اس کی راہ میں پیش آنے والے مصائب پر صبر کریں۔ نیز آپ کو صبر کرنے اور تنگدل نہ ہونے کی تلقین کی گئی ہے۔

شہد کی مکھی:

شہد کی مکھی کا نظام بہت عجیب ہوتا ہے، یہ ﷲ کے حکم سے پہاڑوں اور درختوں میں اپنا چھتہ بناتی ہے، یہ مختلف قسم کے پھلوں کا رس چوستی ہے، پھر ان سے ﷲ تعالیٰ شہد نکالتے ہیں، جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اور اس شہد میں ﷲ نے انسانوں کی بیماریوں کے لیے شفا رکھی ہے۔

جامع آیت:

اس سورت کی آیت نمبر ۹۰ میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین باتوں سے منع کیا گیا ہے: عبادات اور معاملات میں عدل ، ہر ایک کے ساتھ اچھا سلوک اور قرابت داروں کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور واضح برائی ، منع کردہ کاموں اور ظلم کرنے سے روکا گیا ہے۔

حضرت ابرہیم علیہ السلام کی تعریف:

حضرت ابراہیم علیہ السلام زندگی بھر توحیدِ خالص پر جمےرہے، حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کو ان کی ملت کے اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

اسلام کے بارے میں پڑھیں

خلاصہ القرآن:  حضرت مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہید رحمۃاللہ علیہ

خلاصہ القرآن پارہ نمبر 14

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *