خلاصہ القرآن : 16 سولھواں پارہ​​

خلاصہ القرآن
Spread the love

الحمد اللہ آج خلاصہ القرآن کا سولھواں پارہ​​ مکمل ہوا۔

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

اس پارے میں تین حصے ہیں:

  1. سورۂ کہف کا بقیہ حصہ
  2. سورۂ مریم مکمل
  3. سورۂ طٰہٰ مکمل

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

 سورۂ کہف کے بقیہ حصے میں دو باتیں یہ ہیں:

  1. حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا قصہ (جو پندرھویں پارے کے آخر میں شروع ہوکر سولھویں پارے کے شروع میں ختم ہورہا ہے)
  2. ذوالقرنین کا قصہ

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا قصہ:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب ﷲ کی طرف سے یہ اطلاع ہوئی کہ سمندر کے کنارے ایک ایسے صاحب رہتے ہیں جن کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں تو آپ ان کی تلاش میں چل پڑے، چلتے چلتے آپ سمندر کے کنارے پہنچ گئے، یہاں آپ کی ملاقات حضرت خضر علیہ السلام سے ہوئی اور آپ نے ان سے ساتھ رہنے کی اجازت مانگی، انھوں نے اس شرط کے ساتھ اجازت دی کہ آپ کوئی سوال نہیں کریں گے، پھر تین عجیب واقعات پیش آئے،

پہلے واقعے میں حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کے تختے کو توڑ ڈالا جس کے مالکان نے انھیں کرایہ لیے بغیر بٹھالیا تھا، دوسرے واقعے میں ایک معصوم بچے کو قتل کردیا، تیسرے واقعے میں ایک ایسے گاؤں میں گرتی ہوئی بوسیدہ دیوار کی تعمیر شروع کردی جس گاؤں والوں نے انھیں کھانا تک کھلانے سے انکار کردیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تینوں مواقع پر خاموش نہ رہ سکے اور پوچھ بیٹھے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟

تیسرے سوال کے بعد حضرت خضر علیہ السلام نے جدائی کا اعلان کردیا کہ اب آپ میرے ساتھ نہیں چل سکتے، البتہ تینوں واقعات کی اصل حقیقت انھوں نے آپ کے سامنے بیان کردی،

فرمایا کشتی کا تختہ اس لیے توڑا تھا کیونکہ آگے ایک ظالم بادشاہ کے کارندے کھڑے تھے جو ہر سالم اور نئی کشتی زبردستی چھین رہے تھے، جب میں نے اسے عیب دار کردیا تو یہ اس ظالم کے قبضے میں جانے سے بچ گئی، یوں ان غریبوں کا ذریعۂ معاش محفوظ رہا۔ بچے کو اس لیے قتل کیا کیونکہ یہ بڑا ہوکر والدین کے لیے بہت بڑا فتنہ بن سکتا تھا ،

جس کی وجہ سے ممکن تھا وہ انھیں کفر کی نجاست میں مبتلا کردیتا، اس لیے ﷲ نے اسے مارنے کا اور اس کے بدلے انھیں باکردار اور محبت و اطاعت کرنے والی اولاد دینے کا فیصلہ فرمایا۔

گرتی ہوئی دیوار اس لیے تعمیر کی کیونکہ وہ دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی، ان کے والد ﷲ کے نیک بندے تھے، دیوار کے نیچے خزانہ پوشیدہ تھا، اگر وہ دیوار گر جاتی تو لوگ خزانہ لوٹ لیتے اور نیک باپ کے یہ دو یتیم بچے اس سے محروم ہوجاتے، ہم نے اس دیوار کو تعمیر کردیا تاکہ جوان ہونے کے بعد وہ اس خزانے کو نکال کر اپنے کام میں لاسکیں۔

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

ذوالقرنین کا قصہ:

یہ بڑا زبردست وسائل والا بادشاہ تھا، اس کا گزر ایک قوم پر ہو جو ایک دوسری وحشی قوم کے ظلم کا نشانہ بنی ہوئی تھی، جسے قرآن نے ”یاجوج“ اور ”ماجوج“ کا نام دیا ہے۔ ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج پر دیوار چن دی، اب وہ قربِ قیامت میں ہی ظاہر ہوں گے۔

 سورۂ مریم میں تقریبا گیارہ انبیائے کرام علیہم السلام کا تذکرہ ہے:​

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

تین انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر قدرے تفصیلی ہے:

  1. حضرت یحی علیہ السلام کی ولادت (ﷲ تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام اور ان کی اہلیہ کو بڑھاپے میں بیٹا عطا فرمایا جسے نبوت سے بھی سرفراز فرمایا)
  2. حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت (ﷲ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور انھیں بچپن میں ہی گویائی عطا فرمادی)
  3. حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد کو دعوت (شرک نہ کریں، ﷲ نے مجھے علم دیا ہے میری بات مان لیں، شیطان کی بات نہ مانیں، وہ ﷲ کا نافرمان ہے ، اس کے مانیں گے تو ﷲ کا عذاب آئے گا۔)

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

باقی آٹھ انبیائے کرام علیہم السلام کا یا تو بہت مختصر ذکر ہے یا صرف نام آیا ہے:

  • حضرت موسیٰ علیہ السلام
  • حضرت ہارون علیہ السلام
  • حضرت اسماعیل علیہ السلام
  • حضرت اسحاق علیہ السلام
  • حضرت یعقوب علیہ السلام
  • حضرت ادریس علیہ السلام
  • حضرت آدم علیہ السلام
  • حضرت نوح علیہ السلام

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

 سورۂ طٰہٰ میں تین باتیں یہ ہیں:​

  1. تسلی رسول
  2. حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ
  3. حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ

تسلی رسول:

حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت اور دعوت دونوں میں بے پناہ مشقت اٹھاتے تھے، راتوں کو نماز میں اتنی طویل قراءت فرماتے کہ پاؤں مبارک میں ورم آجاتا اور پھر انسانوں تک قرآن کے ابلاغ اور دعوت میں بھی اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے تھے اور جب کوئی اس دعوت پر کان نہ دھرتا تو آپ کو بے پناہ غم ہوتا ،

اسی لیے رب کریم نے کئی مقامات پر آپ کو تسلی دی ہے، یہاں بھی یہی سمجھایا گیا کہ آپ اپنے آپ کو زیادہ مشقت میں نہ ڈالیں، اس قرآن سے ہر کسی کا دل متاثر نہیں ہوسکتا ، یہ تو صرف اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو دل میں ﷲ کا خوف رکھتا ہو۔

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جو حالات اس سورت میں بیان کیے گئے ہیں ان کو ذہن نشین کرنے کے لیے چند عنوانات قائم کیے جاسکتے ہیں، یعنی باری تعالیٰ کے ساتھ شرفِ ہم کلامی ، دریا میں ڈالا جانا، تابوت کا فرعون کو ملنا، پوری عزت اور احترام کے ساتھ رضاعت کے لیے لیے حقیقی والدہ کی طرف آپ کو لوٹا دینا،

آپ سے ایک قبطی کا قتل ہونا لیکن ﷲ کا آپ کو قصاص سے نجات دلانا، آپ کا کئی سال مدین میں رہنا، ﷲ کی طرف سے آپ کو اور آپ کے بھائی حضرت ہارون علیہما السلام کو فرعون کے پاس جانے کا حکم، فرعون کے ساتھ موعظہ حسنہ کے اصول کے تحت مباحثہ، اس کا مقابلے کے لیے جادوگروں کو جمع کرنا،

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فتح، ساحروں کا قبولِ ایمان، راتوں رات بنی اسرائیل کا ﷲ کے نبی کی قیادت میں مصر سے خروج، فرعون کا مع لاؤ لشکر تعاقب اور ہلاکت ، ﷲ کی نعمتوں کے مقابلے میں بنی اسرائیل کا ناشکراپن ، سامری کا بچھڑا بنانا اور اسرائیلیوں کی ضلالت، تورات لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طور سے واپسی اور اپنے بھائی پر غصے کا اظہار ، حضرت ہارون علیہ السلام کا وضاحت کرنا وغیرہ۔

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ:

ﷲ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرماکر مسجودِ ملائک بنایا ، سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر شیطان نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا ، ﷲ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا اب یہ تمھارا اور تمھاری بیوی کا دشمن ہے ، جنت میں رہو یہاں آرام ہی آرام ہے نہ تم بھوکے ہوتے ہو نہ ننگے ، نہ پیاسے ہوتے ہو نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتے ہو بس فلاں درخت کے قریب نہ جانا، مگر شیطان نے وسوسہ پیدا کیا ،

حضرت آدم و حواء علیہما السلام نے شجرِ ممنوع میں سے کچھ کھالیا ، ﷲ نے انھیں جنت میں سے نکال دیا، انھوں نے ﷲ تعالیٰ سے معافی مانگی ﷲ نے انھیں معاف فرمایا دیا۔

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

اسلام کے بارے میں پڑھیں

خلاصہ القرآن:  حضرت مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہید رحمۃاللہ علیہ

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *