خلاصہ القرآن : 06 چھٹا پارہ​

خلاصہ القرآن
Spread the love

الحمد اللہ آج خلاصہ القرآن کا چھٹا پارہ مکمل ہوا۔

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

اس پارے میں دو حصے ہیں:

  1. سورۂ نساء کا بقیہ حصہ
  2. سورۂ مائدہ کا ابتدائی حصہ

( پہلا حصہ) سورۂ نساء کے بقیہ حصے میں چار باتیں ہیں:

  1. الله رب العزت کو کھلے عام برائی کرنا سخت ناپسند ہے اور اسی طرح لوگوں کے عیوب کا چرچا کرنا بھی ناپسند ہے اگر کسی میں کوئی عیب دیکھیں تو اسے تنہائی میں سمجھانا چاہیئے…
  2. یہود کی مذمت
  3. نصاری کی مذمت
  4. میراث

1۔ یہود کی مذمت:

انھوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت فرمائی۔

2۔ نصاری کی مذمت:

یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں غلو کا شکار هوئے اور عقیدۂ تثلیث کے قائل ہوگئے…اس عقیدے کا ذکر صرف قرآن میں موجود ہے وہ بھی انکےعقیدے کی نفی کرتے ہوئے

3۔ میراث:

عینی اور علاتی بہنوں کے حصے مذکور ہوئے کہ ایک بیٹی کو نصف ، ایک سے زیادہ کو دو ثلث اور اگر بھائی بھی ہوں تو لڑکے کو لڑکی سے دوگنا ملے گا۔

( دوسرا حصہ) سورۂ مائدہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں پانچ باتیں ہیں:

  1. اوفوا بالعقود (ہر جائز عہد اور عقد جو تمھارے اور رب کے درمیان ہو یا تمھارے اور انسانوں کے درمیان ہو اسے پورا کرو۔ عہد کی پاسداری بندے کے مومن ہونے کی علامت ہے
  2. حرام چیزیں (ذبح کے وقت نکلنے والا خون ، خنزیر کا گوشت اور جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ….
  3. طہارت (وضو ، تیمم اور غسل کے مسائل)
  4. ہابیل اور قابیل کا قصہ (قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تھا، قتل اور چوری کے احکامات)
  5. یہود و نصاری کی مذمت (یہ لوگ خود کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں، حالانکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی آتا ہے، نبی علیہ السلام کو انکی طرف سے جو سرکشیاں ہوئی ہیں ان پر تسلی دی گئی، مسلمانوں کو ان سے دوستی کرنے سے منع فرمایا گیا اور حضرت داؤد اور عیسٰی علیہما السلام کی زبانی ان پر لعنتِ خداوندی مذکور ہوئی، پھر آخر میں بتایا کہ یہ تمھارے خطرناک دشمن ہیں)

اپنی دعاٶں میں یاد رکھیں

خلاصہ القرآن مکمل پڑھیں

اسلام کے بارے میں پڑھیں

خلاصہ القرآن:  حضرت مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہید رحمۃاللہ علیہ

2 Comments on “خلاصہ القرآن : 06 چھٹا پارہ​”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *