جعلی پیر پل صراط سے گزرتے ہوئے پھسل گئے

جعلی پیر
Spread the love

تحریر: حافظ محمد بلال اٹک

:ایک جعلی پیر صاحب اپنے ایک مرید سے ملنے گئے۔ مرید دیھات میں رہتا تھا۔ دیہاتی نے اپنے پیر صاحب کو دیکھا تو بول اٹھا
پیر صاحب خیر تو ہے آپ بہت دبلے ہو رہے ہیں۔
اس پر پیر صاحب نے کہا۔

“میں دبلا کیوں نہ ہوں۔۔۔۔ تم روزے نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔ تمہاری وجہ سے روزے مجھے رکھنے پڑتے ہیں ۔۔۔۔
نماز تم نہیں پڑھتے ۔۔۔۔۔ تمہارے بدلے میں نمازیں بھی پڑھتا ہوں۔
پھر سب سے بڑی فکر کی بات یہ ہے کہ قیامت کے دن تمہارے بدلے مجھے پل صراط پر سے گزرنا ہوگا اور پل صراط بال سے زیادہ باریک ہے۔یہ اسباب ہیں میرے دبلا ہونے کے کے۔”

یہ سن کر مرد نے فورا کہا :
“اف پیر صاحب آپ تو میرے لئے بہت زیادہ تکالیف اٹھا رہے ہیں۔ بدلے میں میں مجھے بھی تو کچھ کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ اچھا میں آپ کو اپنا مونجی کا کھیت دیتا ہوں۔”

پیر صاحب یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔
ساتھ ہی انہوں نے سوچا ان دیہاتیوں کا کیا بھروسہ۔
اپنی بات سے پھر تے انہیں کیا دیر لگتی ہے ۔۔۔۔۔ لہذا مرید سے کہا:
ہاں تو پھر چل کر قبضہ دلا دو۔

چلیے مرید نے کہا۔
اب دونوں چل پڑے۔
پیر صاحب آگے آگے تھے اور مرید پیچھے پیچھے۔ آگے چل کر کھیتوں کے درمیان سے گزرنا پڑا۔۔۔۔۔پگ پنڈی پر چل رہے تھے کہ پیر صاحب کا پیر پھسل گیا اور وہ کھیت میں جا گرے۔

جونہی وہ گرے۔۔۔
دیہاتی نے اوپر سے ان کی کمر پر ایک لات رسید کر دی اور بولا:
پیر صاحب آپ تو کہہ رہے تھے کہ آپ میرے بدلے میں پل صراط پر سے گزریں گے جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہے ہے۔۔۔۔ اور دو بالشت بہت چوڑی پگ ڈنڈی پر چل نہیں سکتے۔۔۔۔۔ میں سمجھ گیا ۔۔۔۔۔ تو جھوٹا پیر ہے۔۔۔۔
چل بھاگ۔۔۔۔۔
میں تجھے کھیت ویت نہیں دوں گا۔

مزید اخلاقی اور تربیتی کہانیاں پڑھیں۔

بشکریہ: بچوں کا اسلام
شمارہ نمبر 187 بمطابق: 22 جنوری 2006

One Comment on “جعلی پیر پل صراط سے گزرتے ہوئے پھسل گئے”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *