حکایات رومی: شیطان کی انگلی ، حلوائی کا شیرہ اور لڑائی

شیطان کی انگلیٍ
Spread the love

مولانا رومی کی ایک دلچسپ حکایت: شیطان کی انگلی

صدیوں پہلے کی بات ہے، کسی بزرگ نے شیطان سے پوچھا ’’ تم بظاہر ایک عام سی مخلوق دکھائی دیتے ہو لیکن تم بیٹھے بیٹھے سینکڑوں ہزاروں لوگوں کو کیسے لڑا دیتے ہو ‘‘ شیطان مسکرایا ، اس نے بزرگ کو اپنی انگلی دکھائی اور آہستہ سے بولا ’’لوگوں کو میں نہیں لڑاتا ، میری یہ انگلی لڑاتی ہے ‘‘ بزرگ نے پوچھا ’’ وہ کیسے ‘‘ شیطان نے کہا ’’ آپ میرے ساتھ ذرا بازار تک چلئے ‘‘ بزرگ اس کے ساتھ چل پڑے۔

شیطان کی انگلی کا کمال

شیطان انہیں ایک حلوائی کی دکان پر لے گیا ، اس نے بزرگ کو ایک سائیڈ پر کھڑا کیا ، حلوائی کی شیر ے والی کڑاہی میں انگلی ڈبوئی اور یہ انگلی سامنے دیوار پرلگا دی ، دیوار پر شیرے کا ایک دھبہ سا بن گیا ، بزرگ نے دیکھا چند لمحوں میں شیرے کے دھبے پر مکھیاں جمع ہوگئیں ، دیوار کے دوسرے کونے پرایک چھپکلی بیٹھی تھی ، چھپکلی نے مکھیاں دیکھیں تو وہ ان کی طرف لپکی ، حلوائی کے سٹول کے نیچے ایک بلی تھی ، بلی نے چھپکلی دیکھی تو وہ سٹول کے نیچے سے نکلی اور اس نے چھپکلی پر جمپ لگا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: حکایات سعدی: سلطان محمود غزنوی اور احمد ایاز

اس دوران بازار سے ایک وزیر کا نوکر کتا لے کر گزر رہا تھا ، کتے نے بلی دیکھی تو اس نے رسی چھڑاکر بلی پر حملہ کردیا ، بلی دکان کے اندر بھاگ گئی لیکن کتا مٹھائی پر چڑھ گیا اور اس نے ساری مٹھائی خراب کر دی ، حلوائی کو غصہ آگیا، اس نے جلیبیاں تلنے والا چھاننا کتے کے سر پر دے مارا ، کتے نے چیخ ماری اور بازار میں گر کر دم توڑ دیا ، وزیر کا نوکر بھاگتا ہوا آیا، اس نے حلوائی کو گریبان سے پکڑا اور اسے بازار سے نکال کر مارنے لگا۔

حلوائی کے ملازم شور سن کر باہر آئے اور انہوں نے وزیر کے نوکر کو مارنا شروع کردیا۔ اتنے میں اس لڑائی کی اطلاع وزیر کے دفتر تک پہنچ گئی ، وزیر نے اپنے سپاہی بازار کی طرف دوڑا دئیے ، سپاہی حلوائی کی دکان پر پہنچے اوروہ حلوائی کے نوکروں کو مارنے لگے ، یہ زیادتی دیکھ کر دوسرے دکاندار اپنی دکانوں سے باہر نکلے اور انہوں نے سپاہیوں کو مارنا شروع کردیا ۔

قصہ مختصر یہ لڑائی چند لمحوں میں پورے شہر میں پھیل گئی اور درجنوں افراد دیکھتے دیکھتے زخمی ہوگئے۔ بزرگ شیطان کے ساتھ کھڑے ہو کر حیرت سے سارا تماشا دیکھ رہے تھے ، شیطان نے آخر میں ان کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا ’’ کیوں صاحب کیسا لگا ‘‘ بزرگ نے پوچھا ’’کیا یہ سارا تمہاراشیطان کی انگلی کا کھیل تھا ‘‘ شیطان نے قہقہہ لگایا اور بولا ’’ نہیں ‘‘ یہ سارا غصے ، منافقت ،حسد ، انتقام کا کھیل تھا۔ ’’ بزرگ نے پوچھا کیا مطلب ؟

حکایاتِ مثنوئی مولانا روم : فاحشہ عورت کا قتل

شیطان بولا ، اللہ نے انسان میں غصے انتقام ، حسد کا جذبہ رکھا ہے ، جب کسی شخص ، کسی طبقے شہر یا قوم میں یہ جذبے بڑھ جائیں تو اس پوری قوم ، اس پورے شہرکو تباہ کرنے کیلئے میری انگلی کا ایک دھبہ کافی ہوتا ہے ۔ ’’بزرگ خاموشی سے سنتے رہے ، شیطان بولا ’’ دنیا میں یہی جذبے میرے گھر ہیں ‘‘ اور جس شخص کے اندر یہ جذبے موجود ہوں میں اس کے اندر سے کبھی نہیں نکلتا ‘‘ بزرگ سنتے رہے شیطان بولا ، لیکن جو قوم اور انسان اپنے غصے اور اپنے انتقام پر قابو پا لے ، میں اس شخص اور اس قوم سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دور ہو جاتا ہوں ۔

انتخاب: محمد شعیب (شیطان کی انگلی(

نونہال کی خوبصورت کہانیاں پڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *