بادشاہ نے استاد کی خدمت پر شہزادوں اور استاد کودربار میں بلالیا۔

استاد کی خدمت
Spread the love

تحریر: خلیل اللہ پامین کراچی

استاد کسی ضرورت کے لئے اٹھنے لگے تو ان کے دو شاگرد تھے تاکہ استاد کو جوتا پیش کریں۔ دونوں شاگرد شہزادے تھے۔ خلیفہ مامون رشید کے بیٹے تھے۔ ان کے استاد کا نام فراء نحوی تھا۔ خفیہ رپورٹ لکھنے والوں نے یہ خبر مامون تک پہنچا دی کہ دونوں شہزادوں نے استاد کو جوتے پیش کئے ہیں۔

ناموں نے دونوں شہزادوں کو میں طلب کر لیا اور ان سے پوچھا:
بتاؤ! سب سے زیادہ عزت والا کون ہے؟
ان کے استاد نے جواب دیا۔
ظاہر ہے، امیرالمومنین کے سوا کون ہو سکتا ہے۔
اس پر ماموں نے کہا: نہیں! سب سے عزت والا وہ شخص ہے جس کے جوتے پہنانے کے لیے دو شہزادے دوڑ پڑیں۔

فراءگبھرا گئے۔ انہوں نے خیال کیا کے خلیفہ کو یہ بات ناگوار گزری ہے چنانچہ جلدی سے بولے:
میں نے انہیں روکنا چاہا تھا، لیکن پھر ان کی دلشکنی کے خیال سے رک گیا۔

یہ سن کر ماموں نے کہا:
اگر آپ انہیں اس خدمت سے منع کرتے تو میں آپ کو ملامت کرتا۔۔۔۔۔ آپ کو قصور وار ٹھہرا تا، کیونکہ تین موقعوں پر آدمی کا مرتبہ گٹھتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے۔

ایک اپنے امیر کے سامنے تواضع سے
دوسرے اپنے والدین کے سامنے عاجزی سے
اور تیسرے استاد کی خدمت اور اس کے سامنے خاکساری برتنے سے۔

پھر مامون نے دونوں شہزادوں کو دس دس ہزار دینار بطور انعام دیے۔ ان کے استاد کو بھی دس ہزار دینار عنایت کئے۔

بشکریہ: بچون کا اسلام
شمارہ نمبر 248
25، مارچ، 2007

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *