Tuesday, August 9, 2022
ہومEducationقربانی کا گـوشت کیسے محفوظ کریں؟

قربانی کا گـوشت کیسے محفوظ کریں؟

بازارسے دستیاب گوشت زیادہ دیر تک اچھی حالت میں رہتا ہے۔

ہم جب گھروں میں سٹور کرتے ہیں تو فریج سے بلکہ فریج میں پڑی ہر چیز سے بو آنے لگتی ہے، پھر جب پکایا جاتا ہے تب بھی ذائقہ بدلا ہو تا ہے۔

آج Animal Valley میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ قربانی کا گـوشت کا ذائقہ برقرار رکھتے ہوئے کیسے زیادہ سے زیادہ دیر تک محفوظ رکھا جائے؟

قربانی کا گـوشت محفوز کرنے کے لیے سب سے پہلے ذبح کرنے سے شروع کرتے ہیں۔

اگر آپ کا قربانی کا گـوشت مزیدار نہیں پکتا یا اس کے ذائقہ بدلا ہوا ہے تو جناب عالی! اس کا قصوروار آپ کا قصائی ہے۔ اس نے ذبح درست نہیں کیا یا قربانی کا گـوشت کو ہوا نہیں لگنے دی کچھ دیر لٹکا کر ہوا نہیں لگوائی۔

ذبح کرتے وقت جانور کی گردن کا منکا کبھی نا توڑنے دیں، پہلے تو ساری رگیں سامنے کٹوائی، خون کا بہاؤ بتا دے گا کہ ذبح درست ہوا ہے یا نہیں۔ بہت سارا خون نکلے گا پھر پانی کے پائپ سے جانور پہ کبھی بھی پانی نہ ڈالیں کہ جانور ٹھنڈا جلدی ہو جائے گا، سارا خون خارج نہیں ہو گا۔ اس طرح قصائی کی جلدی بازی سے قربانی کا گـوشت کا نقصان ہو جاتا ہے۔ گردن کا منکا توڑنے سے بھی جانور مر جاتا ہے، سار ا خون خارج نہیں ہوتا، گردن موڑ کر اس کا منکا توڑنا اسے تکلیف در تکلیف میں مبتلا کرنا ہے۔

جبکہ چاہیے کہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد کا اس تمام خون نکل جائے پھر ٹھنڈا ہو کر بے حس و حرکت ہو جانے تک اس کی کھال اتارنے میں جلدی نہ کی جائے، جبکہ حرام مغز کاٹ دینے سے جسم دم مسفوح سے پوری طرح پاک نہیں ہوتا، کیوں کہ حرام مغز کے ذریعے دماغ اور جسم کا رابطہ قائم رہتا ہے اور اس کے ذریعے بہنے والے خون کی نجاست سے جسم پاک ہو جاتا ہے۔

اس سلسلے میں علماء کا موقف یہ ہے کہ ذبح کے وقت درج ذیل رگیں کاٹی جائیں۔

قربانی کا گـوشت

٭ حلقوم:


اس سے مراد سانس کی رگ ہے، اس کے کاٹنے سے سانس لینے کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔


٭ مری:


کھانے پینے کی نالی، اس کے ذریعے چارہ اور پانی وغیرہ معدہ میں جاتا ہے، اس کے کاٹنے سے کوئی غذا وغیرہ معدہ میں نہیں جاسکتی، اسے بھی کاٹنا چاہیے۔

٭ الودجان:


اس سے مراد وہ دو رگیں جو حلقو م اور مری کے ارد گرد ہوتی ہیں، ان کے ذریعے خون گردش کرتا ہے، اس کے کاٹنے سے دم نکل جاتا ہے۔ ان کے بعد گردن کی ہڈی کا جوڑ ہو تا ہے، یہی وہ جوڑ ہے جسے گر دن پیچھے کی طر ف مو ڑ کر کھولا جاتا ہے اور اسے ہم منکا ٹوٹ جانے سے تعبیر کرتے ہیں۔ پھر سفید دھاگے کی طرح حرام مغز روئی کی بتیوں کی شکل میں نظر آتا ہے۔ اس کے کٹ جانے سے جسم اور دماغ کا تعلق ختم ہو جاتا ہے ۔

ذبح کرتے وقت صر ف گردن کی ہڈی تک کاٹنا چاہیے۔ حرام مغز کو کاٹنا ذبح کے اصولوں کے خلا ف ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان ــــ’’نحر اور ذبح کا بیان‘‘ قائم کیا ہے ۔ انھوں نے اس کے تحت سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓکے متعلق لکھا ہے کہ وہ حرام مغز کاٹنے سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ جانوروں کو اس کی گر دن کی ہڈی تک کاٹ کر چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ ختم ہو جائے۔

امام بخاری رحمتہ اللہ نے سیدنا عطا بن ابی رباح رحمتہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ذبح کرتے وقت جانوروں کی رگیں کاٹنا ہوتی ہیں، میں ان کے ساتھ حرام مغز کو کاٹنا اچھا خیال نہیں کرتا۔ جب جانور مکمل ٹھندا ہو جائے اور سانس باقی نہ رہے تب منکے کی ہڈی کو کھولنا چاہیے اور سر جسم سے جدا کر نا چاہیے۔ اس وقت تک جانور جسم کا سار ا خون خارج ہو چکا ہو تا ہے اور ذبح کا مکمل طریقہ بھی یہی ہے۔
محترم ناظرین یہی قربانی کے ذبح کرنے کے صحیح اوراسلامی طریقہ ہے اور اس طریقے سے ذبح کرنے سے آپ کی قربانی کا گـوشت زیادہ عرصے تک محفوظ بھی رہے گا اور پکنے پر اس کا ذائقہ بھی مزیدارلگے گا ۔اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ذبح کرنے کے غلط طریقے کون سے ہیں۔

کچھ موسمی قصائی اپنے ہا تھ میں موجود چھری کی نوک کو تکبیر کے فوری بعد حرام مغز میں چبھو کر جانور بے حس کر دیتے ہیںوہ طریقہ درست نہیں۔ کچھ تکبیر پھیرنے کے ساتھ ہی گھٹنا گردن کے پیچھے رکھ کر سر کھنچ کر منکا توڑ دیتے ہیں، یہ اصول بھی ذبح کے خلاف ہے۔ جانور کا مکمل خون خارج نہ ہو تو جھٹکے والے مردار جانور اور اس قربانی کا گـوشت کی بو اورذائقہ ایک جیسا لگے گا۔ پکاتے ہوئے بھی مردار جیسی بو دے گا، باوجود کہ اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا جانور ہو گا۔

قصائی کے پاس وقت نہیں ہوتا وہ جلدی میں یہ سب کرتے ہیں۔ ان سے تکبیر سننے کی کوشش کریں کہ گردن پہ چھری خود چلائیں، اگر یہ نہ کر سکیں باآواز بلند تکبیر پڑہیں تاکہ اگر قصائی بھول رہا ہو تو اس کو یا د آجائے ۔

بڑا جانوردرست ذبح میں ٹھندا ہونے کے قریب ایسے حرکت کرے گا جیسے بھاگ رہا ہے اپنے چاروں پائوں کو حرکت دے گااور پانچ سات منٹ کے بعد ایسا ہو تا ہے ذبح کے چھوٹا جانور یعنی بکرا، چھترا اور دنبہ ٹھندا ہونے کے قریب کانپے گا، اس پہ ہاتھ رکھیں تو ہلکی سی لر زش محسو س ہو گی۔ یہ دونوں عمل ہمیشہ ہو نا ضروری نہیں لیکن ایسا ہو تو سمجھے کہ درست ذبح ہو گیا،الحمداللہ ۔ عید والے دن ہر شخص قصائی بنا ہو تا ہے جو اس کام کو جانتا بھی نہیں ۔ اسی لیے جب آپ قربانی کا گـوشت محفوظ کرتے ہیں تو اس میں سے بدبو آنے لگتی ہے۔ کیونکہ وہ ذبح کا نہیں گردن کا منکا توڑ کر جھٹکے کا گوشت ہو چکا ہو تا ہے۔جانور آپ کی محنت کی کمائی کا ہے اصلی قصائی جو سارا سال یہ کام کرتا ہو اور دین کو سمجھتا ہو اس کوذبح کی ذمہ داری دیں۔

قربانی کا گـوشت خود کھائیں، رشتہ داروں اور مساکین میں تقسیم کریں، فریج میں قربانی کا گـوشت محفوظ کرنا کوئی عیب نہیں، لیکن ذبح درست کروائیں۔تو مشکل نہیں ہو گی ان شااللہ

مناسب تو یہ ہے کہ قربانی کا گـوشت جتنی جلدی ہو سکے استعمال کریں مگر اگر کچھ عرصے کے لیے محفو ظ رکھناضروری ہو تو مندرجہ بالا حوالہ جات پر ضرور عمل کریں اور سارا ذبح قصائی پر ہی نہ چھوڑ دیں۔ بلکہ خود بھی صحیح طر یقے کے ذریعے اپنا قربانی کا جانور ذبح کروائیں۔

ذبح کا مسنون طریقہ کیا ہے

یہ بھی پڑھیں: مصنوئی اور جعلی اشیاء سے جان چھڑائیں۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular

Recent Comments

محمد احسان یونس on چھوٹے گھر بڑے لوگ