کرونا کے خوف پر قابو پائیں۔

خوف پر قابو
Spread the love

ڈاکٹر مبشر سلیم

کرونا ایک حقیقت ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ وائرس کافی سخت جان ہے۔ا ور اس کے نقصان پہنچانے کے امکانات بھی عام وائرس کی بنسبت کچھ زیادہ ہیں۔۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس کے خوف سے ہم خود کو مار لیں۔ بلکہ ہمیں اس کے خوف پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

کمنیکیشن گیپ اور خوف

ہمارے ہاں والدین کا اپنے بچوں کے ساتھ کمنیکیشن گیپ اس قدر زیادہ ہے کہ جب بچوں کو سمجھانے کی نوبت آتی ہے تو بجائے ان کو وقت دینے کے یا ان کے ساتھ بات چیت کا فاصلہ کم کرنے کے ، ان کو ڈرایا جاتا ہے۔خوف زدہ کرکے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جن بابا آجائے گا۔ پٹھان اٹھا کرلے جائے گا۔۔ڈاکٹر سے ٹیکہ لگوا دینا ہے، تمہارے باپ کو آلینے دو۔

اور ایسا ہی کمینیکیشن گیپ ہمارے ہیلتھ سسٹم اور عوام کے درمیان ہے۔ اور عوام کو بیماری کا ادراک دینے کی بجائے ان کو گھروں میں رکھنے کیلئے خوف کا عنصر استعمال کیا گیا۔ بجائے کہ یہ بات سمجھانے پر توانائیاں صرف کی جاتیں کہ وائرس سے کیسے نبٹا جاسکتا ہے؟ اگر متاثر ہوجائیں تو کیسے اس کو سنبھالنا ہے؟ کیا کیا احتیاط کرنی ہوگی؟

تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو. تم ان پر داروغہ نہیں ہو (سورہ الغاشیہ)

یہ بھی پڑھیں: کرونا کے خلاف خود کو تیار کریں۔

خوف
خوف پر قابو

لیکن المیہ یہ ہوا کہ ہمارے ہیلتھ کیئر سسٹم اور ہمارے میڈیا کی جانب سے آگہی مہم چلانے کی بجائے ان کو کبھی وینٹیلٹر، تو کبھی اموات کے نام پر ڈرایا گیا۔کبھی ان علامات سے خوف زدہ کیا جاتا رھا ہےجن کے سامنے آنے کے امکانات بہت محدود ہوتے ہیں۔ دنیا بھر سے پریشان کن خبریں ڈھونڈ کر عوام تک پہنچائی جاتی رہی ہیں۔

اب یہ کہاں کا انصاف ہے۔ جو کہنا مان رہے اور جو کہنا نہیں مان رہے دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جائے؟

میرا یہ ماننا ہے کہ جو رب کو مان ہی نہیں رھا ان کو دوزخ سے کیا ڈرانا؟
لیکن جن کا اپنے رب پر ایمان ہے کم ازکم ان کو جنت کے نظارے دکھائے جا سکتے ہیں۔

بیماری کی نوعیت

کسی بھی بیماری سے نبٹنے کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی بیمار ہوجائے تو سب سے پہلے ان بیماریوں کے بارے سوچا جاتا ہے جو ہمارے ہاں عام پائی جاتی ہیں۔

اب یہ نہیں ہوتا کہ آپکو کل سے کھانسی آرہی ہو تو آپ نے ٹی بی کے بارے سوچنا شروع کر دیں۔ پیٹ میں درد اٹھا تو کینسر کے بارے وہم کرلیا۔۔ الٹی آگئی تو السر بارے سوچ لیا۔ بھوک کم لگی تو یرقان کا وہم ڈال لیا۔

اور اسی فیصد بیماریاں معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ لیکن اگر علامات بہتر نہ ہورہی ہوں یا طبیعت پہلے سے زیادہ خراب ہونا شروع ہوجائے تو پھر ان بیماریوں کے بارے سوچا جاتا ہے۔ جن کے امکانات محدود ہوتے ہیں۔ اور ان کے علاج کیلئے سپیشلسٹ موجود ہوتے ہیں۔

خوف پر قابوپانا سیکھیں

کرونا کے اسی فیصد مریض تو وہ ہیں جن کو معمولی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اور وہ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ باقی دس فیصد بھی چند دن کی تکلیف اٹھا کر صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ ان کو مناسب کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے جو کوئی بھی ڈاکٹر اچھے طریقے سے کر سکتا ہے۔

اب دس فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جن کی علامات غیر معمولی ہوتی ہیں اور ان کو باقائدہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس کیلئے سپیشلسٹ کی ضرورت ہوتی ہیں۔
لیکن المیہ یہ ہورھا ہے کہ ہم باقی نوے فیصد مریضوں کا علاج بھی سپشلسٹ کا کیس بنا کر کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس اور قوت مدافعت

اس لیئے اگر آپ کے اندر کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہوگئی ہیں تو سب سے پہلے اپنے خوف پر قابو پائیں۔ اپنے حوصلہ کو بلند رکھیں۔ اپنے آپکو ان نوے فیصد مریضوں میں شمار کریں جن کو معمولی نوعیت کے علاج کی ضرورت ہے۔ ان ہزاروں مریضوں کو اپنی امید کا مرکز بنائیں۔ جو اس تکلیف سے ٹھیک ہورہے ہیں۔

ہم مشکل وقت سے گذر رہے ہیں۔ لیکن یہ اعصاب کی جنگ ہے۔ اپنی قوت ارادی کو مضبوط رکھیں۔ اپنے رب پر توکل کریں۔ آپکی مضبوط قوت ارادی اور آپکی مثبت سوچ اس بیماری کو شکست دینے کیلئے کافی ہے۔

غیر ضروری گھروں سے مت نکلیں۔
سوشل لائف اور رشتہ داریوں کو فون پر شفٹ کرلیں۔

ماسک کو لباس کا حصہ بنا لیں

کرونا آپ تک پہنچ جائے فکر والی بات نہیں ہے۔ لیکن اسے لینے خود نہ جائیں۔

One Comment on “کرونا کے خوف پر قابو پائیں۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *