کرونا وائرس اور اس کا علاج سو سال پہلے دریافت

COVID-19 Treatment
Spread the love

 محقق: حکیم اجمل خان

بسم الله الرحمن الرحيم

 آج پوری دنیا کو ایک وبائی بیماری کی چل رہی لہر نے پریشان کر رکھا یے، جو اللہ کا قہر بن کر، ملک ملک گردش کرتی ہوئی، ہمارے وطن عزیز پاکستان کو پہنچ چکی ہے، ساری انسانیت کو اپنی دہشت کا لوہا منوا چکی ہے، کرونا وائرس کی شہرت بام عروج پر پہونچی ہوئی ہے، جس کو طبی دنیا میں کوویڈ 19 (covid-19) سے موسوم کیا گیا ہے۔

یہ ایک ایسی معروف بیماری بن گئی کہ بچہ بچہ اس کے نام سے واقف یے، جس نے جوانوں، بزرگوں، مردوں، عورتوں اور معصوم بچوں سمیت سب کو پریشان کر چھوڑا ہے۔

 اس مرض کے تعلق سے یہ بات جان بوجھ کر مشہور کی گئی، کہ یہ ایک لا علاج بیماری ہے، حالانکہ ایسی بات ہرگز نہیں، نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ  اللہ نے ہر نازل شدہ بیماری کے لئے، اس کا علاج رکھا ہے، اس کی دوا اور اس مرض سے شفا بھی نازل فرمائی ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا: ” مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً “. رواه البخاري عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (حديث : 5678).

اور ایک جگہ فرمایا کہ “اللہ نے ہر نازل شدہ بیماری کے لئے، اس مرض سے شفا بھی نازل فرمائی ہے، جاننے والے اس کو جانتے ہیں ، ) یعنی تحقیق کرنے والے حکماء اور اطباء( اور نہ جاننے والے نہیں جانتے۔

جیسا کہ ارشاد فرمایا: “مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا قَدْ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ “. رواه أحمد في مسنده، عن عبد الله بن مسعود رضي اللّه عنهما. (حدیث: 3578).

 آیئے ہم یہ جان کر حیران رہیں گے، کہ اسی بیماری کو حکیم اجمل خان صاحب نے، آج سے تقریبا سو سال پہلے ہی اپنی تحقیق سے دریافت کرلیا تھا، اور اس کو نزلہ زکام وبائی، یا انفلو نزا (Influenza) كا نام ديا۔

 میرے ہاتھ میں فی الوقت حاذق نامی ایک طبی کتاب یے، جس پر مصنف کی جگہ پر حکیم اجمل خاں صاحب کا نام درج ہے۔ جو ادارہ کتاب الشفاء، دریا گنج، دہلی، سے سن 2002ء میں چھپی ہے۔

اس کتاب کے صفحہ نمبر 78 تا 81 پر اس بیماری کا مکمل تعارف، احتیاطی تدابیر اور علاج درج ہے۔

 اب آپ اس کی مکمل تفصیلات پڑھ فیصلہ فرمالیں، کہ یہ آج کل کا کرونا وائرس نہیں ہے، تو اور کونسی بیماری ہو سکتی؟؟!!۔

لیجئے اس کتاب سے کچھ اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش ہے۔

 ” عیاذا باللہ، جس طرح کہ طاعون، ہیضہ اور دیگر وبائی امراض بعض ایام میں وبا کے طور پر ظاہر ہوکر دفعتاً صدہا جانوں کو لقمہء اجل بنا دیتے ہیں، تحقیق جدید سے ثابت ہے، کہ نزلہ اور زکام کا حملہ بھی بعض دفعہ وبائی طور پر ہوتا ہے”۔

 پھر حکیم صاحب نے اس کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے، ایک زہریلے مادے کا تذکرہ کیا، جسے ہم آج وائرس کام دے رہے ہیں، مزید لکھتے ہیں؛ کہ

 اسباب: اس مرض کا باعث ہوا میں ایک سمیت اور زہریلے اثر کا پیدا ہونا ہے، جو سانس لینے کے ساتھ ہوا کے ہمراہ جسم میں داخل ہوجاتا یے۔ یہ مرض اکثر جاڑوں میں ہوتا ہے، بعض مرطوب نشیبی جگہوں میں یہ مرض اکثر پیدا ہوتا ہے، اور ایک مقام سے پیدا ہوکر، فورا ہی بہت سے مقامات میں پھیل جاتا ہے، جوان آدمی کی بہ نسبت بوڑھے اور بچے اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔

 اب آپ ہی بتائیں کیا اس مرض میں ذکر کی گئی علامات، وہی نہیں ہیں، جو آج کل کے شہرت یافتہ مرض، کرونا وائرس سے متعلق ذکر کی جارہی ہیں۔

 آپ کی حیرانی تو اس وقت اور بڑھے گی جب آپ حکیم صاحب کی ذکر کردہ علامات ملاحظہ فرمائیں گے۔ لیجئے، اس مرض کی علامتوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ:

COVID Symptoms
کرونا وائرس کی علامات

 علامات: پیشانی اور کمر میں درد ہوکر، دفعتاً مریض کو بخار چڑھ جاتا ہے، بعض مریضوں کو یہ بخار لرزے سے ہوتا ہے اور بعض کو بغیر لرزے کے، آنکھوں اور تمام عضلات جسم میں درد معلوم ہوتا ہے، اور دوران سر کی شکایت ہوتی ہے، گلا درد کرتا ہے، آواز بیٹھ جاتی ہے، سینے پر بوجھ اور تناؤ معلوم ہوتا ہے، خشک کھانسی ہوتی ہے، سانس مشکل سے آتا ہے، مریض کی بھوک زائل ہوجاتی ہے، ابکائیاں آتی ہیں۔

آگے لکھتے ہیں کہ

 اگر عوارضات شدید ہوں تو انجام اچھا نہیں ہوتا، بعض دفعہ ناک اور حلق کی سوزش آگے ہوا کی نالیوں تک بڑھ کر شدید کھانسی اور نمونیہ پیدا کردیتی ہیں۔

 مزید اس کی خاص علامات بتاتے ہوئے، رقمطراز ہیں: کہ

دفعتاً مرض کا حملہ ہونا، اور دفعتاً بہت سے اشخاص کا مبتلاء مرض ہو جانا، اور بخار کا ہونا، اس کی خاص تشخیصی علامات ہیں۔

 اس مرض کے خاتمہ کی مدت بتاتے ہوئے، یوں لکھتے ہیں کہ:

اگر عوارضات شدید نہ ہوں، اور اس مرض کے ساتھ کوئی دوسرا مرض شامل نہ ہو جائے تو ایک ہفتہ کے اندر اندر مریض کو آرام ہو جاتا ہے۔

 عام لوگ جو ابھی اس مرض کی زد میں نہیں آئے، ان کو بطور احتیاط جو باتیں حکیم اجمل خان صاحب نے بتائی ہیں، ان پر غور کرتے چلیں، لکھتے ہیں کہ:

 بطور حفظ ما تقدم، اس وبا کے زمانے میں چائے کا استعمال ضرور رکھنا چاہیے۔

 غذا میں احتیاط رکھنا، بھوک سے کم کھانا، قبض نہ ہونے دینا، اور کھلی تازہ ہوا میں رہنا، لباس صاف رکھنا، اس مرض کے حملے سے بچاتا ہے۔

 اور حالت مرض میں دی گئی ہدایات پر ایک نظر ضرور ڈالیں، دیکھئے کیا کہتے ہیں؟!!

 حالت مرض میں مریض کو ایک علاحدہ کمرے میں آرام سے لٹائیں۔

 پھر اس کے بعد علاج کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں، کہ شروع میں معدہ اور آنتوں کی صفائی کے لئے قرص ملین چار عدد نیم گرم پانی ساتھ دیں، تاکہ دو تین دست )موشنس( آکر معدہ کی صفائی ہو جائے۔

 اس کے بعد اس بیماری سے علاج کا مکمل نسخہ درج فرمایا، خواہش مند حضرات اصل کتاب سے رجوع ہو سکتے ہیں۔

 اخیر میں پرہیز بیان کرتے ہوئے کہا: کہ جن چیزوں سے زکام اور نزلہ میں پرہیز کرنا واجب ہے، وہی ملحوظ خاطر رکھیں۔

 غذا کا تذکرہ کرتے ہوئے، اس بحث کو ختم کیا، لکھتے ہیں کہ:

غذا لطیف اور سریع الہضم، مثلاً شوربہ، یخنی آش، جو میں شربت بنفشہ ملاکر یا مونگ کی دال چپاتی کے ساتھ دیں۔ پانی کی جگہ مکوہ عرق گاؤ زبان، نیم گرم پلائیں۔

 قارئین آپ نے دیکھا کہ کیسے حکیم اجمل خان صاحب نے، اس مرض کی تفصیل بیان کی اور اس کا مکمل علاج اور احتیاط، پرہیز اور غذا پر مشتمل بہترین رہ نمائی کی۔

 ہمارے اسلاف نے انسانیت کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، ہمیں بھی چاہیے کہ اس مسیج کو خود پڑھ استفادہ کرتے ہوئے، آگے فارورڈ اور شیئر کریں، تاکہ لوگ کرونا وائرس کے خوف سے آزاد ہو کر اس کے علاج کی اور احتیاطی تدابیر کی طرف توجہ دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *