ایمان کی پہچان

ایمان کی پہچان
Spread the love

 ایک دفعہ میں اپنے استاد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے سوال کیا حضرت قرآن فرماتا ہے بیشک نماز بُرے اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں اور سود بھی کھاتے ہیں، جھوٹ بھی بولتے ہیں، بے حیائی کے کام بھی کرتے ہیں۔

 ہم خود بھی نماز پڑھنے کے باوجود گناہوں سے مکمل طور پر کنارہ کش نہیں ہو پاتے تو اِس آیت کا کیا مطلب ہوا؟

 فرمانے لگے قاضی بیٹا قرآن کی آیت پر نہیں اپنی نمازوں پر شک کرو کہ ان نمازوں میں ایسی کون سی کمی ہے جو تمہیں گناہوں سے نہیں روک پا رہیں۔

صحابہ کا ایمان

 صحابہ رضوان ﷲ علیہم اجمعین نےکبھی یہ سوال نہیں کیا تھا کیونکہ ان کی نمازیں واقعی نمازیں تھیں۔

 اب بھلا سوچو اگر ایک شخص کو دن میں پانچ بار عدالت میں جج کا سامنا کرنا ہو تو کیا وہ جرم کرنے کا سوچے گا بھی؟

 جرم تو وہ کرتا ہے جو سمجھتا ہے کہ عدالت سے بچ جائے گا۔

 یہ جواب سن کر مجھے وہ حدیث یاد آگئی کہ بہت سے نمازیوں کی نمازیں ان کے منہ پر مار دی جائیں گی۔

 اے ہمارے پروردگار ہمیں اصلی اور سچی نمازیں پڑھنے اور اس پر پابند ہونے اور رہنے کی توفیق عطا فرما دے آمین۔

منقول

محمدسکندرجیلانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *