بدلتے حالات میں نظام تعلیم

نظام تعلیم
Spread the love

تحریر: ڈاکٹر مبشر سلیم

معیارتعلیم کی زبوں حالی اورانحطاط پذیری ہمارے ملک میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے، نت نئے سیارے دریافت کر رہی ہے اور ہم ابھی تک اسی فرسودہ وطبقاتی نظام تعلیم کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔ دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
پاکستان کے فرسودہ ں ظالم نظام تعلیم کی مثال، میں اور کیا دوں کہ ابھی تک کورس میں بچوں سے خطوط لکھوائے جاتے ہیں۔وہ خطوط جو ان بچوں نے زندگی میں کبھی لکھنا تو دور کی بات، کبھی لکھا ہوا خط دیکھا بھی نہیں ہوگا۔ابا سے گھر سے نئی کتابوں اور فیس کے پیسے منگوانے کیلئے خط، چٹھیاں گزرارنے کیلئے دوست کو خط، چھوٹی بہن کو سالگرہ پر مبارکباد کاخط۔،بڑے بھائی کو میچ جیتنے پر مبارکباد کا خط۔۔

ابھی تک سلیبس میں میسج کرنے کے آداب نہیں سکھائے گئے۔لیٹ آور پیکجز کے حصول کیلئے بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔۔فیس بک پر سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے اور پوسٹوں پر کمنٹس ڈالنے کے صحیح طریقوں سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔ماں اور بڑی بہن سے بیلنس کے پیسے حاصل کرنے اور نئی دوستیوں کے آغاز کے آداب کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا جا رہا۔اور اگر دوستی جنس مخالف سے ہو، تو کون سی ضروری باتوں کا خیال رکھا جانا چاہیئے۔سکائپ اور دوسرے میسنجرز کے ذریئے گفتگو کرنے کیلئے کونسے سلیقے درکار ہیں۔

چیٹنگ اور ای میل کے ذریئے پیغامات میں اپنی شخصیت کے کمزور پہلؤں کو کیسے چھپا کر ایک آئیڈیل انسان کا روپ دینا ہوتا ہے۔اس پر بھی ایک مضمون ہونا چاہیئے۔امید ہے حکومت ان تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے فوری طور پر تعلیمی کورس کو نئے تقاضوں کے ہم آہنگ کرے گی۔

مزید پڑھیں: بچوں کی تعلیم و تربیت کیسے کریں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *