سردار اور اس کا بیٹا کہانی: 27

سردار اور اس کا بیٹا
Spread the love

ایک گاؤں کا سردار اور اس کا بیٹا سفر کر رہے تھے کہ راستہ میں انہوں نے ایک بادشاہی لشکر کو خیمہ زن رکھا۔ جب وہ دونوں وہاں پہنچے تو سپاہیوں کی شان و شوکت اور بادشاہ کارعب و دبدبہ دیکھ کر کر اس سردار کے بیٹے پر ہیبت طاری ہوگئی۔ وہ کبھی ذرہ بند غلاموں کو دیکھتا اور کبھی نیزہ بردار سپاہیوں کو دیکھتا۔ سردار کی حالت بھی بہت خراب تھی اور اس پر خوف کی کیفیت طاری تھی یہاں تک کہ وہ بھاگ کر ایک جگہ چھپ گیا۔

بیٹے نے باپ کی ایسی حالت دیکھی تو کہا کہ آپ تو ایک بستی کے سردار ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ بڑے سردار ہیں۔ پھر آپ اس بادشاہ کے اس لشکر سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہیں؟

سردار۔۔۔۔۔۔؟

باپ نے جواب دیا کہ بیٹا اس میں شک نہیں کہ میں اپنی بستی کا سردار ہوں مگر اس بادشاہ کے سامنے میری کچھ حیثیت نہیں۔ میں اس کے ادنیٰ غلاموں سے بھی شمار نہیں ہو سکتا۔

حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ اس حکایت کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ کبریائی اور شان اللہ عزوجل کی ہے۔ حقیقت سے آشنا اولیاء اللہ رحمۃ اللہ علیہ پر ہر وقت اس کی ہیبت طاری رہتی ہے اور ان کی حالت اس سردار جیسی نہیں ہے جو بستی میں خود کو بڑا خیال کرتا ہے۔

اے بے خبر ! ابھی تو شاید گاؤں میں آباد ہے اس لیے اپنی ذات کو ہی برتر واعلیٰ سمجھتا ہے۔

وجہ بیان

حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ کبریائی اور شان اللہ عزوجل کی ہے اور اللہ عزوجل کے نیک کے بندے اس حقیقت سے آشنا ہیں اور اسی لیے ان میں عجز و انکساری کا پہلو نمایاں ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ اللہ عزوجل ہی خالق و مالک اور رازق ہیں اور ہر شے پر قادر ہے۔

حقیقت: کبریائی اور شان اللہ عزوجل کی ہے

اچھی اچھی کہانیاں مزید پڑھیں۔

اسلام کے بارے میں پڑھیں

Hikayat E Saadi in Urdu

One Comment on “سردار اور اس کا بیٹا کہانی: 27”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *