رزق حلال اور شارکٹس

رزق حلال
Spread the love

تحریر: بشارت حمید

اگر بچپن سے ہی ہماری تربیت میں یہ بات گھول کر پلا دی جائے کہ جو مال بنا محنت یا بنا سرمایہ لگانے کے حاصل ہو وہ جائز نہیں تو ہماری اکثریت بے نظیر انکم سپورٹ فراڈ، موبائل فون پر جعلی انعامات کی کالز، گیم شوز میں بے ہودگی کے بعد لٹائے جانے والے چند ٹکے کے انعامات، ڈبل شاہ کی کرامات، سونے کے جعلی سکوں کے میگا فراڈ اور اس طرح لالچ کے دیگر معاملات میں نہ پھنسے۔

جب بھی شارٹ کٹ سے پیسہ کمانا چاہیں گے لازمی طور پر اس میں حرام کی آمیزش ہو گی۔
موبائل آپریٹر میں جاب کے دوران مجھے بہت سے دوستوں کی کالز آتی رہی ہیں جن کو کسی فراڈئیے نے 5 لاکھ انعام نکلنے کی اطلاع دی۔ میں نے خود کئی فراڈیوں کے نمبر بلاک کروائے اور اپنے دوستوں کو اس سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔
افسوس ہوتا تھا کہ پڑھے لکھے لوگ بھی اس ٹریپ میں بہت آرام سے پھنس جاتے ہیں۔

یہ جہالت نہیں ہماری نیتوں کی بھوک ہے جو ختم ہی نہیں ہوتی۔ ہمیں یہ بتایا ہی نہیں جاتا کہ کسی کی گری چیز اٹھانا درست نہیں۔ اگر اٹھائی ہے تو اس کے مالک کو تلاش کر کے اس کے حوالے کرنی ہے اسے اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سماجیات: رشتہ مانگنے سے شادی کے مہمانوں تک

رزق حلال اور حرام

اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ہم نے رزق کی تقسیم میں کمی بیشی اس دنیا کا نظام چلانے کے لئے رکھی ہے۔اگر سب کو ایک جیسا رزق مل جائے تو کاروبار دنیا ایک گھڑی بھی نہ چل سکے۔ یہاں ہر ایک کو وہی کچھ ملے گا جو اس کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے اب یہ اس کی مرضی ہے چاہے تو حلال طریقے سے لے لے اور چاہے حرام سے۔ ہم اپنا رزق حلال طریقے سے کمائیں تو اللہ کی طرف سے برکت بھی ہوتی ہے اور زندگی بھی پرسکون رہتی ہے۔ حرام مقدار میں تو شاید زیادہ کما لیا جائے لیکن دنیا و آخرت برباد کر دیتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *