فاطمہ رضی اللہ تعا لٰی عنہ

8.1
Spread the love

ا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا وہ بہت زہین و فطین لڑکی تھی وہ اپنے والدین کی واحد اولاد تھی۔
فاطمہ آج بہت اداس تھی اسے اپنی اداسی کی وجہ خود بھی معلوم نہ تھی
جب بھی کبھی وہ اداس ہوتی تو وہ قریبی پارک کی طرف جاتی اور قدرت کے حسین مناظر کو دیکھتی،پرندوں کو ادھر ادھر اڑتا دیکھتی تو وہ بہتر محسوس کرنے لگتی۔
آج بھی اس نے اپنے گھر کے قریبی پارک کا رخ کرنے سے پہلے معمول کے مطابق اپنی والدہ کو بتایا ،عبایا پہنا،ھاتھوں پہ دستانے پہنےاور خود کو اچھی طرح ڈھانپ کر وہ گھرسے نکلی
جیسے ہی وہ پارک پہنچی اور وہ قدرت کے مناظر میں کھو گئی۔
اور ہوش کی دنیا میں واپس تب آئ جب چار لڑکیوں نے اس کے حجاب کا مزاق اڑایا وہ اسکو زچ کرنے کی غرض سے اسکے حجاب پر نوک جھونک کرنے لگیں اور کہا کہ:
نیک بی بی! اتنی ہی نیک پروین تھی تو گھر سے نکلنے کی کیا ضرورت تھی؟
فاطمہ خاموشی سے سب سنتی اور برداشت کرتی رہی لیکن آخر کار اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا جب ان میں سے ایک نے کہا:کونسا عیب ہے جس کو چھپانے کی غرض سے ملانی بنی ہوئ ہو؟
ایک زوردار قہقہ فضا میں گونجا گویا داد دی گئی ہو۔
دوسری نے کہا: اپنی بدصورتی کو چھپا رکھا ہوگا اسے بڑا بھی کوئ عیب ہوگا کیا؟
ایک اور قہقہ بلند ہوا۔
تیسری نے کہا:محض ایک ڈرامہ ہےاور کچھ نہیں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی غرض سے نیک پروین بنی پھرتی ہیں ایسی لڑکیاں ۔
چاروں نے ایک دوسرے کی تائید کی اور اپنے پلین کے مطابق کہ آؤ،”اس نیک پروین کو اتنا تنگ کریں گے کہ یہ اپنا عبایا یہیں اتار پھینکے گی”
لیکن انکا پلین محض پلین ہی رہا انکو معلوم نہ تھا کے اللہ انکے پلین کو انہی پر الٹ دےگا۔
فاطمہ کے قدم ڈگمگانے والے نہیں تھے اسکی تربیت ایسی نہ کی گئ تھی کہ ایک کے بعد دوسرا قدم ڈگمگا جائے۔
فاطمہ کی خاموشی ٹوٹی وہ تلخ نہیں ہونا چاہتی تھی لیکن وہ تلخ ہوگئ تھی اور کہا:
الحمدللہ! نہ کوئ عیب ہے ، نہ میں بدصورت ہوں اور نہ آپ سب کی طرح اپنے حسن کی نمائش کروانے کی غرض سے گھر سے نکلی ہوں۔
اور نہ بےہودگی کی تعلیم دی گئی ہے اور نہ ہی یہ محض ڈرامہ ہے
بلکہ اللہ کے حکم کی پیروی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “اے نبیﷺ! اپنی بیویوں ،بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجیئے کہ لٹکائیں اپنے اوپر چادریں ایسا نہ ہو کہ پہچانی جائیں اور کوئ ستائے ۔
اللہ پاک نے یہ نہیں فرمایا کہ:جب عورتیں گھروں سے نکلیں تو بے پردہ نکلیں کندھوں پہ جھولتے بال ہوں اور گلے میں لٹکتے دوپٹے ہوں۔
ازواجِ مطہرات کو بھی پردے کا حکم دیا گیا تھا انھوں نے بھی پردہ کیا تھا۔
فاطمہ بول رہی تھی اور آس پاس مردوں اور عورتوں کا اک ہجوم سا بنتا جا رھا تھا ایک تجسس تھا لوگوں میں کہ ادھر کیا ھو رھا ہے؟
اور جیسے ہی لوگ جمع ہورہے تھے فاطمہ کے الفاظ سب کو جکڑتے جا رہے تھے سب پر ایک ٹرانس کی کیفیت طاری تھی۔
فاطمہ مزید گویا ہوئ!
جو عورتیں دنیا میں پردہ کرتی ہیں آخرت میں ایسی عورتوں کے لیے اللہ رب العزت کی طرف سے خصوصی انعام ہوگا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: آپ ایمان والیوں سے فرمادیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنا ستر چھپائیں ،اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں ،اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں اوراپنی زیب و زینت نہ دکھائیں
جیسے ہی فاطمہ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی تمام عورتوں نے بےساختہ اپنے گلےمیں جھولتے دوپٹوں کو اپنے سر اور کندھوں پر پھیلا لیا اور ان چار لڑکیوں پر تو جیسے لرزہ طاری ہوگیا اور انکی زبان تو گویا تالو سے چپک گئی تھی حلق تک خشک ہو گیا تھا وہ ٹکٹکی باندھے فاطمہ کو دیکھ رہی تھیں۔
اور فاطمہ کو یہ منظر دیکھ کر ایک اور آیت مبارکہ یاد آئ
“اگر یہ قران پہاڑ پر اتارا جاتا تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا”۔
ابھی وہ مزید بولنا چاہتی تھی لیکن قریب کی مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئ اور اس نے ان سب کےلیے ہدایت کی دعا کرتے ہوئے قدم اپنے گھر کی جانب موڑ لیے
اور لوگ اس خوبصورت لڑکی کو دیکھ رہے تھے جس نے ان سب پر سوچوں کے نئے در وا کیے تھے۔

ثمرین مسکین
https://chat.whatsapp.com/Fhw6MaDIyMmAp45cdKyvHZ
💞پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائ کے لئے شیئر ضرور کریں💞

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *