بچوں کی ہیرسمنٹ کا زمہ دار کون؟

بچوں کی ہیرسمنٹ
Spread the love

تحریر: ڈاکٹر مبشر سلیم

میں اپنی نجی محفلوں میں بار بار ایک بات کا ذکر کرتا اور بار بار اس بات پر زور دیتا ہوں کہ اپنے بچوں کے ساتھ کمنیکیشین گیپ ختم کریں۔۔

آپکا، اپنے بچوں کے ساتھ تعلق اتنا بے ساختہ ضرور ہونا چاہیئے کہ وہ اپنی ہر بات آپ کے ساتھ شیئر کر سکیں۔ وہ کوئی قدم ایسا اٹھانے پر مجبور نہ ہوں جس کی وجہ والدین سے ری ایکشن کا خوف ہو۔۔

گھر سے باہر اتنے مین ہول کھلے ہوئے ہیں کہ ہم ہر ایک پر ڈھکن نہیں ڈال سکتے ۔ لیکن ہم اپنے بچوں کو ان سے بچ کر چلنا سکھا سکتے ہیں ۔
اور جب میں روزانہ کی بنیاد پر ایسے واقعات سنتا ہوں یا پھر ان کا گواہ بنتا ہوں ۔جن میں بچوں کے ساتھ زیادتی کا علم ہوتا ہے یا پھر کم عمری میں بچے کوئی نامناسب قدم اٹھا لیتے ہیں۔ تو مجھے ایسے ہر واقعہ کے پیچھے والدین قصوروار نظر آتے ہیں۔ جو اپنی جملہ ذمہداریاں ادا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں ۔۔۔

بچوں کو ان کا جائز حق نہیں دیں گے تو وہ چور راستے ڈھونڈیں گے۔ ان کے ساتھ دوستی نہیں کریں گے تو وہ آپ سے اپنے مسائل ڈسکس نہیں کریں گے۔۔۔

بڑی سادہ سے بات ہے ۔بچے ایک بیل کی مانند ہوتے ہیں۔بیل جب بڑی ہونا شروع ہوتی ہے۔ تو اسے سنوارنا پڑتا ہے ۔سہارا دینا ہوتا ہے۔ ورنہ اسکی شاخیں الجھتی چلی جاتی ہیں۔ غلط سمت میں نکل جاتی ہیں۔ اور ایک وقت آتا ہے جب ان کو سنوارنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
بچے بھی بیل کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کے مسائل بھی آپ نے وقت پر سنوارنے ہیں۔ ورنہ وہ کسی ایسی جگہ جا الجھیں گے جہاں سے نکالنا مشکل ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بچپن کا خوف پچپن میں ڈراتا ہے..!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *