بچپن کا خوف پچپن میں ڈراتا ہے..!

بچپن کا خوف
Spread the love

تحریر: جاوید اختر آرائیں

بچپن کا خوف پچپن میں ڈراتا ہے..!

انتہائی بچپن میں
جب زرا ہوش سنبھالا ہو گا کہ
پہلے خوف سے تعارف کرایا گیا…!

شاید کھانا نہیں کھانے پر
یا رونے پر، یا پھر جلدی نہ سونے پر
وجہ یاد نہیں کیا تھی
لیکن خوف اب تک یاد ہے
بلکہ آج بھی خوفزدہ کرتا ہے
گھر کے کسی بڑے نے
یقیناً اپنی دانست میں ہماری بھلائی کی خاطر
گھر کے ایک تاریک کمرے کی جانب جسے
کم استعمال کے سامان کا اسٹور بنایا گیا تھا
کی جانب اشارہ کر کے کہا
جلدی سے کھانا کھا لو ورنہ
وہاں جو مائی رہتی ہے وہ لے جائے گی…!

آہ
بس وہ ایک بظاہر بے ضرر سا جملہ
زندگی بھر کا خوف بن گیا
مجھے یاد نہیں میں گھر کے اس اسٹور میں کبھی اکیلا گیا ہوں بلکہ کسی کے ساتھ جانے کچھ سامان لانے پر خوفزدہ رہتا تھا

آج بھی کہیں لاشعور میں وہ خوف بیٹھا ہوا ہے
ابھی اس تحریر کو لکھتے وقت بھی خوف کی ہلکی سی لہر اٹھ رہی ہے

یہ بھی پڑھیں: بچوں کی تربیت کیسے کریں؟

افسوس یہ ہے کہ
یہ سلسلہ آج تک چل رہا ہے
شاید ہی دنیا کا کوئی بچہ اس ذہنی تشدد سے بچ سکا ہوگا
ہر ایک کے ساتھ کوئی نہ کوئی بچپن کا خوف
بڑھاپے تک چلتا رہتا ہے

پہلے
تو آج کے والدین، بہن بھائی، اہل خانہ سے گزارش ہے
اپنی لاعلمی کی وجہ سے کسی کو زندگی بھر کے لیے
خوفزدہ نہ کیجئے
کھانے پر
سونے پر
شرارتوں پر
ہوم ورک نہ کرنے پر
کسی بدتمیزی پر

اپنے معصوم بچوں کو خوفزدہ نہ کریں
انجانے میں ان کے دماغ میں خوف کا بیج نہ بوئیں
جو بعد میں ایک خوفناک بھوت بن جائے

عام طور پر مائیں بچوں کو ان کے باپ سے ڈراتی ہیں
میرے بچپن کا
اور مخصوص جملہ میں اکثر ماؤں سے سنتا تھا

آنے دو تمہارے ابا کو انہیں بتاؤں گی
آج آپ کے لاڈلے نے کیا کیا کیا ہے……..!
یہ سن سن کر بچہ اپنے باپ کو بھی کسی خوفناک
سزا دینے والے کوڑے برسانے والا سمجھنے لگتا تھا

بچوں کو خوفزدہ
کر کے اپنی بات منوانے میں شاید آپ کامیاب
ہو جائیں مگر یاد رکھیے گا
یہ خوف زندگی انہیں تنگ کرتا رہے گا
شخصیت، صلاحیت، اعتماد، حوصلہ، کردار
سب کچھ متاثر ہوسکتا ہے

بچپن کا خوف کیسے قابو کریں؟

اولین بات تو یہ ہوئی کہ بچپن میں خوفزدہ نہ کیا جائے
لیکن
اگر کچھ خوف ذہن میں بیٹھ ہی گئیے ہیں
اور بڑے ہوکر بھی تنگ کررہے ہیں تو
انہیں بھی دور کیا جاسکتا ہے

سب سے پہلے کاؤنسلنگ گفتگو سے
جو ماں باپ یا خاندان کا کوئی فرد
خوف کی ساری وجوہات سن کر تسلی دے کر سمجھا کر دور کر سکتا ہے

ورنہ کسی ماہر نفسیات سے مدد لی جانی چاہیے
ہومیوپیتھی طریقہ علاج میں بھی تقریباً ہر خوف
کو دور کرنے کی دوا موجود ہے کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کیا جانا چاہیے

میرے ماموں زاد بھائی میاں شوکت عبدالرؤف صاحب
نے ایک طریقہ علاج جسے ڈائنیٹکس کہتے ہیں
میرے بھی بچپن کے چند خوف نکالے تھے

یہ بھی پڑھیں: والدین کے لیے تربیتِ اولاد کے 5 سنہرے اصول !

اہم بات یہ ہے کہ
ہمیں اپنے خوف اپنے اندر چھپا کر نہیں رکھنے چاہیے
اپنے کسی نہ کسی مہربان بزرگ، دوست سے
اپنے خوف کا تذکرہ ضرور کرنا چاہیے
چاہے آپ میری طرح بچپن سے پچپن کے ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں
اور خوف ماضی کا ہو، حال یا مستقل کا
کسی نہ کسی کو بتایئں ضرور
زیادہ چانس تو یہ ہے کہ وہ خوف صرف بتانے سے دور ہوجائے گا
ورنہ کاؤنسلنگ سے
ڈائنیٹکس کی آڈیٹنگ سے
ماہر نفسیات کے چند سیشن سے
ہومیوپیتھی ادویات سے
نکل ضرور جائے گا
بس تو دیر نہ کیجئے
اپنے خوف، بچوں کے خوف دور کیجئے
دوست احباب خاندان میں کسی کو خوفزدہ دیکھتے ہوں
ان کی مدد کیجئے یہ پوسٹ ان کے ساتھ فیس بک واٹس ایپ سوشل میڈیا پر شئیر کیجئے

یقین جانئیے
آپ زرا سی کوشش سے
زندگی بھر کا سکون حاصل کرسکتے ہیں
کسی کی زندگی آسان کر سکتے ہیں

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے۔
پھر آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

2 Comments on “بچپن کا خوف پچپن میں ڈراتا ہے..!”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *