محبت پانے اور کھونے کے فلسفے سےکیا رخ اختیار کرتی ہے؟

محبت
Spread the love

تحریر: ڈاکٹر مبشر سلیم

انسان جب ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے تو اس کو اظہار کی جو زبان ملتی ہے وہ رونا ہے۔ بھوک لگے تو روتا ہے ننیند کیلئے روتا ہے ۔ رونے کے سوا اس کو کسی زبان کا علم نہیں ہوتا۔

پیدائش کے بعد وہ جو پہلی زبان سیکھتا ہے وہ ہے محبت کی زبان ۔۔دھیرے دھیرے وہ لوگوں کی احساسات چہرے کے اتار چڑھائو کو سیکھ کر ان کی محبت کے اظہار کا جواب محبت سے دینا سیکھتا ہے۔ اور محبت کے پہلے الفاظ اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔ اور مسکراہٹ سے وہ ہنسنا سیکھتا ہے قہقہے لگاتا ہے۔ چومنا سیکھتا ہے، گلے لگانا سیکھتا ہے

پھر آہستہ آہستہ ضرورتیں الفاظ میں بدلنا شروع ہوتی ہیں۔ اور الفاظ جب وجود میں آنا شروع ہوتے ہیں تو اس کے اندر وہ احساسات داخل ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو سماج نے رائج کیئے ہوتے ہیں۔ اور وہ ایک مصنوعی انسان میں بدلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اور اب اس کی خوشیاں اور غم سب مصنوعی ہوجاتے ہیں۔۔

محبت کا جذبہ تسکین پہنچاتا ہے۔ اور انسان جب تک محبت کرتا رہتا ہے وہ ایک پرسکون زندگی گزارتا ہے۔
لیکن جب محبت پانے اور کھونے کے فلسفے سے ٹکڑانا شروع ہوجاتی ہے تو محبت خود کو گم کرلیتی ہے۔ محبت کا درخت سدا بہار ہوتا ہے جب تک اس سے سایہ لیتے رہو یہ پناہ دیئے رکھتا ہے۔ لیکن جب اس سے پھل کی توقع رکھنا شروع کر دو تو محبت اپنا احساس کھو دیتی ہے۔ فرقت کا غم ڈسنے لگتا ہے۔ ذہن صدموں سے دوچار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔کھونے کا خوف پرچھائی بن کر ڈرانے لگتا ہے۔

میرامحبت کا فلسفہ وہی ہے کہ محبت ہم اپنی تسکین کیلئے کرتے ہیں۔ محبت کو پانے اور کھونے سے بے نیاز ہوتی ہے۔ محبت کا اپنا احساس اس قدر راحت بخش اور دلفریب ہے کہ اس کے کو کسی زنجیر سے باندھنا محبت سے بھی اور اہنے آپ سے بھی زیادتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: یہ نسل ایسےہی نہیں بگڑی اس نسل کی ماں بگڑ گئی!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *