امی بھی تھک جاتی ہیں

امی بھی تھک جاتی ہیں
Spread the love

کیا امی بھی تھک جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

اپنے وقت کی وہ ملکہ حُسن تھی اس کی سب سہلیاں اس کو محفل کی جان کہا کرتی تھی ہر چیز میں نکھرے تھے اس کے کبھی کپڑوں کا رنگ نہیں ٹھیک تو کبھی فلاں دوپٹہ اس کے حسن پر فیٹ نہیں آتا تھا

اس کے بابا نے اس کو کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی تھی وہ گھر میں اس طرح رہتی تھی جیسے کوئی ملکہ اپنے محل میں رہتی ہو کام کرنے کے نام سے ہی اس کو الرجی تھی کچن کا تو اس نے منہ نہیں دیکھا تھا کبھی

ہاں جب کبھی ماں کی طبعیت خراب ہوتی تھی تو وہ چاۓ بہت اچھی بناتی تھی اور تو کچھ اس کو بنانا نہیں اتا تھا لیکن چاۓ کیا ہی خوب بناتی تھی اس کی ماں اس سے اکثر کہا کرتی تھی مہارانی صاحبہ کچھ کھانا بنانا بھی سکھ لوں اگلے گھر بھی تمہیں بھیجنا ہے وہ ہنس کر کہہ دیتی تھی مہارانی صاحبہ کے نوکر ہونگے نا  کام کرنے کے لیے پھر مجھے کیا ضرورت کچھ سکھنے کی

 ان باتوں باتوں میں دن گزرتے گے مہارانی صاحبہ کب بڑی ہوگی پتہ بھی نہیں چلا اج اس کی شادی تھی اج وہ اس طرح رو رہی تھی جیسے کوئی بچہ روتا ہے اس کی ماں اس کو خوش کرنے کے لیے کہنے لگی جھلی کہی کی روتی کیو ہوں تم اپنے گھر جارہی ہوں جو تمہارا اصلی گھر ہے جہاں پر تم مہارانی صاحبہ ہوگی وہ ایک بوجھی سی مسکراہٹ کے ساتھ مسکرا دیتی ہے

وہ جس کو کبھی گھر میں جھاڑو لگانا پڑ جاتا تھا تو گھر سر پر آٹھا لیتی تھی اب خود بخود اتنی سمجھدار ہوچکی تھی کہ سارے گھر کا کام خود کر لیتی ہے صبح سے شام شام سے صبح بس بچوں کی تربیت بچوں کی فکر  جس کو سہلیاوں کی محفل سے کبھی فرصت ملتی تھی تو نماز وقت پر پڑھ لیتی نہیں تو اکثر دیر ہوجاتی تھی

مگر اب وہ تہجد کے وقت آٹھ جاتی ہے پھر رو رو کر اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے دعائیں کرتی ہے جب بچے کے رونے کی آواز آتی ہے تو تڑپ سی جاتی ہے بچہ بیمار ہو جاے تو کیا کیا منتیں ماننا شروع کر دیتی ہے ساری رات اس کی نگرانی میں جاگ کر گزار دیتی ہے اتنی اتنی مشقتیں مصیبتیں سہتی ہے کہ میری اولاد کو کوئی تکلیف نہ ہو سال کے 12ماہ میے ان کا ہر ایک ایک دن رات وہ ان بچوں کی فکر میں گزارتی ہے

اور ہم ان کو سال کے ایک دن میں ویش کر کے اس ماں کے سارے حقوق بھول کر آزاد ہوجاتے ہیں یہ دن تو دین سے باغیوں کے لیے ہے ہم تو الحمداللہ مسلمان ہیں ہمارے لیے تو والدین جنت ہیں

ایک دفعہ میں ایک صحابی کا واقعہ پڑھ رہا تھا کہ جب ان کی شہادت ہوئی تو ان کی والدہ نے کہا تھا کہ میں نے تو اس کو جنم ہی اس لیے دیا تھ میری امی پاس بیٹھے تھے میں نے کہا کہ اپ میں اتنی ہمت ہے کہ یہ کہ سکتے تو امی نے بتایا کہ جب تم دس دن اعتکاف بیٹھتے ہو نا تو مجھے سے تو وہ دس دن کی جدائی بھی بہت مشکل سے برداشت ہوتی ہے میں حیران رہ گیا امی کا جواب سن کر

ہم سب کی زندگیوں میں ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ جن میں ہم سب کو  ماں کے دل میں اپنے لیے محبت دیکھنے کو ملتی رہی ہے اور ملتی ہے اج صبح کا بتاتا ہوں امی کی طبعیت کافی ناساز رہتی ہے اج کل تو اس لیے پھوپھو آۓ ہوۓ ہیں نا تو وہ ہی سحری افطاری کا انتظام کرتے ہیں تو اج سحری ٹائم میرا دل کیا جوس پینے کا میں نے کہا اج جوس پینے کا دل کر رہا تھا تو اج بنا ہی نہیں تو امی نے سنا تو امی کی اپنی طبیعت ٹھیک نہ ہوتے ہوئے بھی دس منٹ کے بعد جوس میرے سامنے پیش خدمت تھا

یہ مائیں کبھی بھی تھکتی نہیں ہیں کیا؟

 صبح کی نماز سے لے کر شام تک مسلسلہ کام کرنے ہوتا ہے اور بعض اوقات بچوں کی ٹینشن میں گھر کی ٹینشن میں رات رات بھر بھی جاگ لیتی ہیں گھنٹوں گھنٹوں میں یہ ہسپتال کی لائنوں میں کھڑی ہوجاتی ہیں

کپڑوں کی دھلائی کرنا پھر ان کو استری کرنا جھاڑو لگانا کھانا بنانا بچوں کی دیکھ بھال سب کرتی ہیں لیکن بغیر کسی معاوضے کے بغیر کسی تنخواہ کے

ان کو بس ایک چیز چاہیے ہوتی ہے اپنی اولاد سے رسیپکٹ عزت دو میٹھے پیار بھرے بول اپ کا کچھ وقت چاہیے ہوتا ہے ان کو

جو کہ ہم نہیں دیتے بس پورے سال میں ایک دن مدڑ ڈے سوشل میڈیا پر فرماں برادر اولاد ہونے والے سٹیٹس لگا کر ہم ان کے حقوق سے بری ہوجاتے ہیں

خدارا اس چیز کو پرکیٹکل لائف میں اپنائے

ان کو ٹائم دیں رات کو دبا کر سویں یہ تو اپنے ساتھ عہد کر لیں اج سے کہ میں نے اپنے والدین کو دبا کر سونا ہے یقین کریں میں کچھ ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جن کی کبھی تہجد قضا نہیں ہوئی ایک بار میں نے کہا امی کو دبا کر سوتے ہو؟ تو جواب ملا نہیں یار بس جس دن امی بولیں تو ہی دباتا ہوں

وہ بھی تھک جاتے ہیں بس کہتے نہیں اپ کی اس تھکاوٹ کو دور کریں ان کو وقت دے کر اس سے پہلے کے وقت ہی نہ رہے

اور ہاں میں اپنی امی کے لیے کسی مدڑ ڈے کا محتاج نہیں ہوں میری زندگی کا ہر دن میری امی کے نام ہے

اللہ ہم سب کو ان کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے

اور جن کے والدین اس دنیا سے چلے گے ہیں اللہ ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔

آمین

تحریر: عمیر حسن

اسلام کے بارے میں مزید پڑھیں

اپنا اور اپنی فیلی کا خیال رکھیں۔

Rights of Mother in Islam – Learn Quran Academy

تعلیم کے بارے میں مزید پڑھیں

How I Balance Between My Mother & Wife

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *