میرا جسم میری مرضی

Spread the love

یوم خواتین کے موقع پر پاکستان میں خواتین مارچ کے بر خلاف کچھ دین دار بہنوں نے حیاء مارچ کرنے کا بھی اعلان کیا اور ہندوستان میں جماعت اسلامی کی خواتین اور جی آئی او کی بچیاں ہر سال اس موقع پر عوامی مقامات پر اسٹال لگاتی ہیں اور آزاد معاشرے کی خواتین میں حجاب کے تعلق سے جو غلط فہمیاں ہیں اسے دور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ میں نے اپنی بیٹی سے جو کہ آج بھی وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کسی پروگرام میں شریک ہے پوچھا کہ کیا غیر مسلم عورتیں تم لوگوں کی اس تحریک سے متاثر ہوتی ہیں ۔اس نے کہا کہ ہاں بہت ساری عورتیں شوقیہ بھی آتی ہیں کہ بہن ہمیں اسکارف باندھنا سکھا دو۔ ہم ان سے ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کا جواب حجاب کے تعلق سے مثبت ہی ہوتا ہے لیکن چونکہ کارپوریٹ اور گلیمر زدہ معاشرے میں سروس پیشہ عورتوں کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ اپنے میک اپ کو ظاہر کریں ان کیلئے حجاب ممکن نہیں ہوتا لیکن آج کل اکثر غیر مسلم عورتوں میں بھی یہ فیشن عام ہے کہ وہ  آفس سے باہر نکلتے ہی اپنا منھ ڈھک لیتی ہیں۔ ممکن ہے کھلی دھوپ ,راستے کی گردوغبار اور کرونا وائرس کی وجہ سے بھی یہ عورتیں ایسا کرنے کیلئے مجبور ہوں۔ چونکہ اس بیماری کے ظاہری نقصانات ثابت ہوچکے ہیں لیکن جو وائرس اور جراثیم مرد کی آنکھوں سے نکل کر عورتوں کے جسم کو زخمی کرتا ہو اور اس جسم کو تخلیق دینے والے جس علیم و خبیر نے اس کے نقصانات سے بہت پہلے آگاہ کردیا ہے عام آدمی کو اس کے نقصانات کا احساس تو نہیں ہے لیکن اس بے پردگی بے حیائی اور ناجائز تعلقات کی وجہ سے مردو زن کے رشتوں میں جو دراڑ اور بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے اور جس تیزی سے خاندانوں میں بکھراؤ دیکھا جارہا ہے کم سے کم مخلوط کلچر کے شریف خاندانوں میں بھی میرا جسم میری مرضی کے فلسفے کو کبھی قبولیت کا درجہ نہیں مل سکتا۔ خواتین مارچ باقاعدہ کارپوریٹ اورینٹیڈ مارچ ہے جو کسی نہ کسی شکل میں عورتوں کو اس کی آزادی کا احساس دلانے کیلئے شکاری کے جال کے جیسا ہے تاکہ عورتوں کو زیادہ سے زیادہ باہر نکالا جائے۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ آج کاسمیٹکس شوق سنگار فیشن اور تفریح کے سازو سامان کی جتنی بڑی منافع بخش کمپنیاں ہیں ان پر انہیں کارپوریٹ کی اجارہ داری ہے اور یہ تجارت اسی وقت فروغ پاسکتی ہے جب عورت حجاب سے باہر آکر اپنے جسموں کا مظاہرہ کرے جو باقاعدہ فلم انڈسٹری کی شکل میں ہو بھی رہا ہے اور شریف گھرانے کی نوے فیصد خواتین بھی اسی انڈسٹری کی حسیناؤں کی تقلید میں شادی وغیرہ میں اپنے میک اپ اور ملبوسات کا انتخاب کرتی ہیں ۔

خیر یہ نظریہ تو میڈیکل سائنس کی رو سے بھی باطل ہے کہ انسان کا اپنے جسم پر اختیار ہے۔ بدن کے اندر انسان کی اپنی مرضی سے تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور کبھی تو وہ میڈیکل سائنس کا بھی محتاج ہوتا ہے۔

اشرف علی تھانوی رحمت االلہ علیہ ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم بھی تھے ۔انہیں ان کے علم کی بنیاد پر حکیم الامت کہا جاتا تھا یا طب کی بنیاد پر پتہ نہیں لیکن بہشتی زیور میں تقریباً سو سال پہلے انہوں نے عورتوں میں حمل ٹھہرنے کے مسائل پر ایک بحث کی ہے کہ حمل کس کس طرح سے ٹھہر سکتا ہے ۔

عورت نے خواب میں دیکھا کہ رات میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہم بستری کی ہے جو برسوں سے کسی دوسرے ملک میں ہے اور کچھ دنوں کے بعد وہ اس خواب سے حاملہ بھی ہوجاتی ہے۔ شوہر نے اس کی پاکدامنی پر شک کیا تو عورت کے بیان لینے اور تمام تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عورت کے چال چلن پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے فتویٰ دیا کہ ایسا جنوں کے ذریعے بھی ممکن ہے یعنی کبھی کبھی جنات عورت اور مرد کو خواب کی حالت میں بھی ملا دیتے ہیں اور حمل ٹھہر جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی کبھی عورت کی زچگی چھ مہینے میں بھی پوری ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی اٹھارہ سے بیس مہینے بھی ٹھہر سکتا ہے۔ عورت کے حمل کے مسائل پر یہ بحث انہوں نے اس لئے کی ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر عورت بدچلن ہی ہو۔ ان کی جو بات مجھے بہت ہی حیران کن اور غیر منطقی لگی وہ یہ ہے کہ کچھ عورتوں میں حمل صرف بوسہ لینے سے بھی ٹھہر جاتا ہے۔باقی باتیں تو بہشتی زیور میں آج بھی موجود ہے لیکن یہ بوسہ والی تحقیق اب کی بہشتی زیور کے ایڈیشن میں نہیں پائی جاتی لیکن تیس سال پہلے کسی ایڈیشن میں میری نظر سے یہ بات گزر چکی ہے۔ بعد میں میں نے اس ایڈیشن کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کتاب نہیں ملی۔ خیر جب میں نے مولانا کی بوسہ والی منطق سے حمل کی بات پڑھی تو سوچا کہ یہ خانقاہی مولانا کچھ بھی لکھ دیتے ہیں لیکن کچھ پندرہ سال پہلے میری نظر ٹائمس آف انڈیا میں ایک میڈیکل سائنس ریسرچ کی تحقیق سے گزری کہ اگر کوئی مرد کسی حاملہ عورت کی طرف شہوانی نگاہ سے دیکھ لے اور عورت بھی متاثر ہوجائے تو عورت کے حمل میں خلل اور اضطراب پیدا ہوسکتا ہے۔

ابھی تو ان دونوں باتوں پر یقین کرنا مشکل ہے کہ کوئی عورت کسی مرد کے بوسہ لے لینے یا شہوانی نظر سے دیکھ لینے پر حاملہ ہوسکتی ہے لیکن عورت اور مرد کے شہوانی جذبات کو شدت کے ساتھ بھڑکا دینے والی عریاں اور فحش مناظر کے ساتھ ساتھ جو ماحول وجود میں آ رہا ہے یہ ممکن لگتاہے کہ ایک عورت صرف مرد کے بوسہ لے لینے سے ہی نہیں اپنے عاشق کی نگاہ سے بھی حاملہ ہوسکتی ہے !

جو سائینس کے طالب علم ہیں وہ اس بات سے اس بنیاد پر انکار کر سکتے ہیں کہ ایک عورت کے حاملہ ہونے کیلئے مرد اور عورت دونوں کے xxاور xy کرموزوم میں سے کسی دو کا آپس میں ملنا ضروری ہے جیسا کہ یوروپ اسی سائینسی تجربے کی بنیاد پر بغیر مرد کے حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا منکر ہے لیکن اسی سائینس کے کچھ تجربات بھی سامنے آچکے ہیں کہ عورت صرف اپنے کروموزوم سے بھی حاملہ ہو سکتی ہے ۔واللہ علم بالصواب

سوال یہ ہے کہ اگر سائینس کی تحقیق مکمل ہو جاتی ہے یا کبھی ایک مرد کے بوسے یا بغیر اسے چھوئے اس کی نگاہ کی شدت سے کوئی عورت حاملہ ہو گئی تو کیا ہوگا ؟

اس وائیرس کا کیا نام دیا جائے گا اور پھر عورتیں اس وائیرس سے بچنے کیلئے کیا تدبیر اختیار کریں گی ۔ماڈرن میڈیکل سائنس میں تو اس کا علاج ممکن نہیں ہے ہاں عورت کیلئے یقیناً اس وائیرس سے بچنے کیلئے پردہ لازمی ہوگا ۔پھر میرا جسم اور میری مرضی کے نعرے کا کیا ہوگا !؟

ہو سکتا ہے میری یہ بکواس وقت سے پہلے ہو لیکن میرے لئے اس بکواس پر روشنی ڈال دینا بھی اس لئے لازمی تھا کیونکہ ہو سکتا ہے کل میں نہ رہوں مگر یہ تحریر آپ کو سوچنے اور غور کرنے کا زاویہ فراہم کر سکے کہ ماڈرن سائنس بھی ابھی ادھوری ہے ۔

علامہ اقبال نے اسی نظریے کے تحت یہ بات کہی ہے کہ
وہ حرف راز جو مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں
خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون

عمر فراہی ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *