!میرا قلم میری مرضی ۔۔۔

Spread the love

عرصہ پہلے اقوام متحدہ نے کچھ ممالک کو یہ کہتے ہوئے سرخ جھنڈی دکھا دی تھی کہ آپ کے ملکوں میں مذہبی آزادی اتنی نہیں جتنی عوام چاہ رہے ہیں اس لیے اپنا قبلہ درست کرلیجیے اور ہمیں کوئی اقدام کرنے پر مجبور نہ کریں…!!!

انہی دنوں ایک خانہ بدوش دوست کو جو سیاسی باتیں سننے میں بہت دلچسپی رکھتا ہے…اور سیاسی لوگوں کے ساتھ تعلقات بنانے اور ان سے بوقت ضرورت کام لینے میں بھی کچھ حد تک مہارت رکھتا ہے کے ساتھ جمہوری نظام کی خوبیوں اور خامیوں پر گفتگو کر رہا تھا …باتوں باتوں میں ہمارے منہ سے غیر اختیاری طور پر یہ بات نکلی کہ اقوام متحدہ نے فلاں ملک کو بھی وارننگ دی ہے کہ جمہوری ملک ہونے کے باوجود آپ میں اتنی مذہبی آزادی نہیں جتنی عوام چاہتے ہیں…

ہماری بات سنتے ہی وہ آگ بگولا ہوا اور بھڑک  اٹھا کہ اقوام متحدہ کی ایسی کی تیسی…پوری دنیا میں ہر جگہ صرف دعوے ہیں…لفاظی ہے…تشہیر ہے … مجھے تو پوری دنیا میں کسی ایک ملک میں بھی عملی طور پر جمہوری نظام کا نفاذ نظر نہیں آرہا سوائے اس ایک ملک کے…جہاں عملاً جمہوری نظام نافذ ہے … ہر کسی کو مکمل آزادی ہے … جس کا جو جی چاہے وہ کرسکتا ہے کوئی روک ٹوک نہیں …اور یہ میرا چیلنج ہے اتنی آزادی جتنی اس ملک میں ان کے باشندوں کو حاصل ہے …آپ کو کسی مغربی ملک میں بھی نظر نہ آئے گی…آپ اس ملک کے فلاں جگہ جائیں وہاں آپ کو کعبہ نظر آئے گا جس کا لوگ باقاعدہ طواف کرتے ہیں…فلاں مزار پر جائیں وہاں آپ کا دل چاہے تو طواف کریں…دل چاہے تو چرس پئیں…دل چاہے تو سرکس دیکھیں…دل چاہے تو آب زمزم پئیں…حتٰی کہ جیب گرم ہو تو گود بھی گرم کرسکتے ہیں اس کی بھی سہولت اور آزادی ہے…کسی کا دل چاہے تو اسلام قبول کرنے میں آزاد ہے…دل چاہے تو اگلے ہی دن واپس چھوڑنے کی بھی مکمل آزادی ہے…وہاں کے شیعہ، صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنے میں آزاد…وہاں کے قادیانی، نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے میں آزاد…وہاں کے آغاخانی، لالچ دے کر غریب اور نادار مسلمانوں کو اسماعیلی بنانے میں آزاد….وہاں کے بریلوی، دیوبندیوں کو گستاخ رسول کہنے میں آزاد…وہاں کے غیر مقلدین، امام ابو حنیفہ کی شان میں گستاخی اور اول فول بکنے میں آزاد…وہاں کے دیوبندی، آپس ہی میں ایک دوسرے کو حیاتی اور مماتی کہنے میں آزاد…اس سے زیادہ مذہبی آزادی اور کیا ہو سکتی ہے؟

بلکہ انہیں تو اپنے عوام کی اضافی خواہشات کی بھی فکر ہے…کوئی شراب کا اڈہ کھولنا چاہے تو اس کا لائسنس…جوے کا اڈہ کھولنا چاہے تو اس کا لائسنس …فحاشی کا اڈہ کھولنا چاہے تو اس کا لائسنس تک دیا جاتا ہے …اب اگر اقوام متحدہ اس کے باوجود ان سے راضی نہیں تو کوئی ایک ایسا جمہوری ملک آپ  دکھائیں جس میں عوام کو اتنی زیادہ آزادی میسر ہو…پوری دنیا میں صرف دعوے ہی دعوے تو ہیں …صرف یہی وہ واحد جمہوری ملک ہے کہ جہاں ہر کسی کو مکمل مذہبی اور جسمانی آزادی حاصل ہے-

خانہ بدوش

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *