کیا پیرنٹنگ اور اپنی ذات الگ الگ ہیں؟

اپنی ذات
Spread the love

تحریر: نیرتاباں

پیرنٹنگ سے متعلق رنگا رنگ تحریریں پڑھنے کے بعد ایک فائدہ تو والدین کو یہ ہوتا ہے کہ بچے کی نفسیات کے اعتبار سے اپنی اصلاح کی طرف توجہ جاتی ہے لیکن معلومات کی اس بھرمار کا نقصان یہ ہو جاتا ہے کہ جو کچھ بھی کر لیں، پیرنٹ گِلٹ ختم ہی نہیں ہوتا۔

آپ تو پرفیکٹ ماں ہیں، میں آپ جیسی کیوں نہیں؟
I am not good enough!
میں بچوں کو وقت نہیں دے پاتی بس یہ، یہ، اور یہ یہ یہ کر پاتی ہوں پورا دن۔۔۔

دیکھیں، کچھ چیزوں میں خود کو نارمل کیجیے۔ یہ سمجھنا چھوڑ دیں کہ کوئی بھی یہاں پرفیکٹ پیرنٹ ہے۔ میرے اوپر نہ تو ہر وقت کوئی کیمرہ لگا ہے، نہ میں ڈانٹ ڈپٹ کی تحریر لکھ کر لگا دیتی ہوں جب I completely fail at parenting. پتہ ہونے کے باوجود کتنی ہی بار ایسا ہو جاتا ہے کہ بچے کو ڈانٹنے کی نوبت آ جائے۔ میں یہ ذکر نہیں کرتی، اسکا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوتا ہی نہیں۔ کوئی پرفیکٹ نہیں ہے۔ سب اپنی غلطیوں سے سیکھ کر بہتر انسان اور بہتر والدین بننے کی کوشش میں ہیں۔

اپنی ذات سے ٹائم ٹیبل بنائیں

اب آئیں کام کی بات کی طرف۔
پہلی چیز جس پر توجہ کریں، وہ ہے ٹائم مینیجمنٹ۔ بہت سی مائیں کہتی ہیں کہ ہم بچوں کو وقت نہیں دے پاتے۔ دیکھیے کہ کہاں پر وقت نکل رہا ہے، اور ریئلسٹک گولز رکھیں۔ بچوں کو آپ سارا وقت میسر نہیں آ سکتیں، اور نہ اس بات پر گِلٹ محسوس کریں۔ انہیں آئیڈیاز دیں کہ کیا کیا جا سکتا ہے لیکن خود باقاعدہ بیٹھ کر زیادہ وقت دینا روز، زیادہ دیر کے لئے ممکن نہیں ہوا کرتا۔

یہ کیسی مائیں ہیں جنہیں سب کچھ یاد ہے اپنے سوا؟

گھر کے کاموں کا کوئی ٹائم ٹیبل رکھیں۔ ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے دوران ایک دفعہ ہی سب بچے بڑے کوئی پھل وغیرہ لیں۔ کبھی ایک بندہ جا کے کھا پی رہا ہے اور کبھی دوسرا، اس طرح بے برکتی سی رہتی ہے اور کام سمٹتا ہے ہی نہیں۔ شام میں بھی ایک وقت پر شام کی چائے یا بچوں کے لئے سنیک کا انتظام کیا جائے۔ باقی کاموں کا بھی کوئی خاص وقت ہو اور اس طریقے سے کام ترتیب دئے جائیں کہ بیچ میں فرصت کے اوقات بھی ملیں۔

ٹو ڈو لسٹ بنا لینا بہت مدد کرتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے کام جو بھی ذہن میں آئیں، انہیں لسٹ میں ایڈ کر لیں۔ اور ختم ہونے پر چیک ✅ لگائیں۔ اس طرح ایک سینس آف اکامپلشمنٹ ملتی ہے کہ ہاں میں نے اتنے سارے کام تکمیل تک پہنچا دئے۔ بچوں کو بھی انکی عمر کے حساب سے چھوٹا موٹا کام حوالے کریں اور اس میں بھی شرمندہ شرمندہ نہ رہیں کہ اس کے تو کھیلنے کھانے کے دن ہیں، آگے ساری عمر کام ہی کرنا ہے وغیرہ۔

کچھ اصول بچے کیساتھ مل کر متعین کر لیں کہ کس دن کونسا بچہ کیا کام کرے گا۔ انکے لئے بھی ٹو ڈو لسٹ بنا لیں۔ بچے جب اس پر چیک بنائیں گے تو بہت خوش ہوں گے کہ کتنا کچھ کر لیا۔

دوسری چیز یہ کہ اپنی مصروف زندگی میں سے بچوں کے لئے کوالٹی ٹائم نکالیے۔ کوالٹی ٹائم کے زمرے میں تین باتوں کا خیال رکھیں۔
کوشش کریں کہ کم از کم آدھا گھنٹہ بچوں کو دیا جائے۔ اس سے زیادہ نکال پائیں تو اور بھی اچھا ہے۔
۔ اب اس گھنٹے آدھے گھنٹے میں بچوں کو لیکچر نہ پلانے لگ جائین کہ اگلے دن انکا دل ہی نہ کرے آنے کے لئے۔ کوالٹی ٹائم میں بچوں کی پسند کی گپ شپ کریں۔ ہنسیں ہسنائیں۔ اپنے قصے سنائیں، انکے سنیں۔ دس پندرہ منٹ چاہیں تو ساتھ مل کر کوئی کتاب پڑھ لیں۔ ویک اینڈ پر کوئی گیم، مووی یا باہر جانا رکھ لیں۔

پھر ضروری نہیں گھر پر ہی یہ کوالٹی ٹائم کیا جائے۔ پارک جا سکیں تو بہت اچھا ہے۔ گھاس پر سیدھا لیٹ کر بادلوں سے شکلیں بنائیں۔ کبھی رات کو باہر لان میں یا اوپر چھت پر جا کر ستارے دیکھیں۔ کبھی سن رائز یا سن سیٹ۔۔۔ کوالٹی ٹائم کو بہترین کوالٹی کا بنائیں۔

۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس ایک آدھے گھنٹے میں بچوں کو آپ مکمل میسر ہوں۔ اس دوران کسی کے ہاتھ میں کوئی ڈیوائس نہ ہو تا کہ آئی کانٹیکٹ رکھا جائے۔ اگر باہر جا رہے ہیں تو بھی فون بیگ میں ہی رکھیں۔ لمحہ لمحہ تصویروں میں قید کرنا ہر گز ضروری نہیں ہے۔ کسی دن فوٹو شوٹ کر لیں کہ میموریز فوٹو کی شکل میں محفوظ رہ سکیں، لیکن اپنا کوالٹی ٹائم تصویروں کی نذر نہ ہونے دیں، نہ ہی کالز اور میسجز کی طرف کوئی دھیان دیں۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کی تربیت کیوں کی جائے؟

آخری بات یہ کہ می ٹائم(اپنی ذات کے لیے وقت) کا اہتمام کریں۔ یہ آپکی خوشی اور پروڈکٹیویٹی کے لئے ضروری ہے۔ آپ ایک بستے گھر میں موجود ہیں۔ گھر کے کام بھی، بچوں کی دیکھ بھال، میاں لوگوں کی فرمائشوں کا خیال۔۔ پورا دن آپ سپر مام بنی ہر کام کر رہی ہیں۔ اسکے بعد سکون سے شاور لینے میں، آدھا گھنٹہ اکیلے واک کرنے میں، والدین یا بہن بھائی سے بات تک کرنے میں خود کو موردِ الزام ٹھہرانا کہ گویا یہ بچوں کا وقت تھا اور کسی اور کام میں ضائع کر دیا۔

اپنے اندر بیوی، بیٹی، ماں کے بیچوں بیچ خود کو بھی زندہ رکھیں۔ جو بھی من پسند کام ہے، اسکے لئے *بغیر کسی گَلٹ* کے می ٹائم گزاریں۔ اور روزانہ خود کو یہ آدھا گھنٹہ کم از کم دیں۔ چاہے جلدی جاگنا پڑے، دیر سے سونا پڑے، بچوں کو ابا یا دادی، پھوپھو، کسی کے حوالے کرنا پڑے۔ لیکن خود میں خود کو زندہ رکھیں۔

بس اتنی سی بات تھی! یونہی خود کو ہر وقت گِلٹ میں ڈال رکھا تھا۔ اب سے خوش رہنا ہے۔ گھر میں موجود بچوں اور بڑوں کو خوش رکھنے کے لئے خود آپکا خوش رہنا ضروری ہے۔ گَلٹ سے باہر نکلیں۔ سکون پائیں۔ ضروری ہے۔ گِلٹ سے باہر نکلیں۔ سکون پائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *