والدین کے لیے تربیتِ اولاد کے 5 سنہرے اصول !

والدین کے لیے 5 سنہرے اصول !
Spread the love

کہا جاتا ہے بچے ایسی خالی کاپی کی مانند ہیں جس پر ایک بار والدین جو چاہیں اس پہ لکھ سکتے ہیں مگر مٹا نہیں سکتے  یہ آپ پہ منحصر ہوتا ہے کہ آپ اس کاپی پہ اچھا لکھتے ہیں یا برا۔

 اسی طرح بچے کے والدین پہ منحصر ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کی شخصیت میں مثبت چیزیں پیدا کرکے شخصیت کو سنوارتے ہیں یا منفی عادات کے ذریعے بگاڑتے ہیں۔ بچوں کی تربیت کرتے ہوئے مندرجہ ذیل باتیں ذہن میں رکھنی چاہیں۔

1 توجہ و اہمیت

بچوں کو توجہ دیجیے ان کی ہر ہر بات اور حرکت پہ نظر رکھیں ان کا کمرہ سجائیں انھیں بتائیں کہ آپ ہمارے لیے بہت اہم ہیں اگر بچے کہیں رہ کر آئیں تو انھیں بتائیں کہ آپ نے ان کو بہت یاد کیا اس طرح بچہ خوشی محسوس کرے گا اور اس کا رویہ ہر ایک کے ساتھ محبت بھرا اور اہمیت دینے والا ہو جائے گا

اسی طرح ہر بچے کو انفرادی توجہ دیں بہنوں کو بھائیوں کے سامنے سراہیں اور بھائیوں کو بہنوں کے سامنے اس سے جہاں ان کے دل میں ایک دوسرے کی اہمیت کا احساس ہو گا وہیں یہ رویہ ان کے درمیان مضبوط تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنے گا

2 لڑائی جھگڑے سے اجتناب

بچوں کے سامنے اپنے شریک حیات کے ساتھ ادب سے پیش آئیں۔ اور حتی امکان کوشش کریں کہ بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے تلخ کلامی ، طنزیہ گفتگو یا لڑائی جھگڑا نا ہو۔ اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑا کرنے سے جہاں بچے کے دل سے ماں باپ کی قدر جاتی ہیں وہیں ان کی شخصیت میں ایک گیپ عدم اعتمادی و خوف کی صورت میں پیدا ہو جاتا ہے۔ جتنا بچے کے والدین آپس میں محبت و الفت سے پیش آتے ہیں اتنا ہی ان  کےبچے پر اعتماد اور بہادر ہوں گے۔

شریکِ حیات کے علاوہ دوسرے لوگوں سے بھی بچوں کے سامنے لڑائی نہ کریں کیوں کہ اس سے آپ کا بچہ اپنے والدین کے سوا کسی سے محبت نہ کر سکے گایا ایسا کرنا اسے احساس و اخلاقیات سے عاری بنا دے گا۔

3 غلطی پر سلوک

بچے اگر کوئی غلطی کر رہے ہوں تو والدین آرام اور نرمی سے سمجھائیں۔کیوں کہ  نرمی سے کہی گئی بات بچوں پہ اثر کر تی ہے جب کہ غلطی ہونے پر سختی کرنا انھیں ضدی اور بدتمیز بنا دیتا ہے۔نرمی سے مطلب یہ نہیں کہ آپ بچے کے گالی دینے پہ ہنسیں بھی اور اسے منع بھی کریں اس طرح بچہ آپ کو ہنسانے کے لیے بار بار وہی لفظ بولے گا۔اس کے برعکس آپ سنجیدگی مگر نرمی سے بچے کو منع کریں آپ کا لہجہ قطیعت لیے ہوئے ہو تو زیادہ بہتر ہو گا۔اس سے بچہ اس چیز سے رک جائے گا اور آئندہ بھی ایسا کرنے سے بعض رہے گا۔

4 غیبت و بدگوئی سے اجتناب

والدین کوغیبت اور بدگوئی سے ویسے بھی دور رہنا چاہیے مگر بچوں کے سامنے تو اس سے بالکل بچنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ رویہ جات بچے کے دل سے صرف اگلے کی قدر و منزلت کم نہیں کریں گے بلکہ اس سے ان کا ذہن الجھ جائے گا اور وہ ننھا معصوم ذہن آپ سے بھی اکتا جائے گا۔

5 بچوں کو سنیں اور سمجھیں

والدین اپنے بچوں سے ان کی باتیں سنیں اور سمجھیں۔ اگر کسی بات کی سمجھ نا بھی آئے تو اس پہ ایکسائٹمنٹ والے تاثرات دکھائیں۔ بچوں کی بات سنتے وقت صرف انھیں کی طرف دیکھیں  ۔مکمل بات دھیان سے سنیں اور درمیان میں مت کاٹیں،اگر بچہ پوری بات کر نہیں پا رہا تو اس کی مدد کریں کچھ الفاظ آپ خود جوڑیں تا کہ بات مکمل ہو سکے۔بات مکمل ہونے پر ان کو جواب بھی ضرور دیں۔انھیں پیار کریں اور خوشی کا اظہار کریں کہ انھوں نے آپ کو یہ بات سنائی۔اس سے بچے میں اگلے کی بات سننے کی عادت پیدا ہو گی۔

اس کے برعکس اگر آپ اپنے بچے کی بات دھیان سے نہیں سنیں گے یا بات سنتے ہوئے اپنے موبائل ، لیپ ٹاپ میں بزی رہیں گے تو بچے کہ اندر منفی جذبات آئیں گے، ہو سکتا ہے وہ اپنی بات ہی ادھوری چھوڑ دے اور آئندہ آپ سے بات شئیر کرنا ہی چھوڑ دیں۔ اس سے والدین اور بچے میں دوری پیدا ھو گی۔بچہ اپنی مشکلات بتانا بھی چھوڑ دے گا اور ایسے بچوں کے ساتھ دوسرے آسانی سے غلط کام کر لیتے ہیں جو کہ آئندہ کے لیے آپ کے بچے کو غلط راہوں کا مسافر بنا دے گا۔

فیملی کے بارے میں مزید پڑھیں

اچھی اچھی کہانیاں مزید پڑھیں۔

بچوں کے بارے میں مزید پڑھیں

اسلام کے بارے میں پڑھیں

ERDC – Educational Resource Development Centre

One Comment on “والدین کے لیے تربیتِ اولاد کے 5 سنہرے اصول !”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *