عورتوں کا مقام مختلف مذاہب و کلچر میں ۔۔۔!!

Women Values
Spread the love

✍ محسن خان ندوی کلکتہ ؛

اسلام سے پہلے عورتوں کی حالت مختلف قوم و مذہب اور کلچر میں کیا تھی ملاحظہ فرمائیں :-

عورت یونانی کلچر میں :

یونانی Mythology میں عورت کو دنیا کے تمام انسانوں کی مصیبت کی جڑ مانا جاتا ہے جس کو انہوں نے Pandora کا نام دیا ۔

عورت رومی کلچر میں :

روم میں عورت اور مرد کا بنا نکاح کے تعلقات کوئی بری بات نہ تھی اتنا ہی نہیں عورتیں اپنی عمر کا حساب اپنے شوہر کی تعداد سے کرتی تھیں . Flora نامی کھیل میں عورتیں کو برہنہ کر کے دوڑ لگوایا جاتا تھا، زنا ایک معمولی چیز سمجھی جاتی تھی۔

عورت بھارت میں :

ہندوؤں میں پَتی کی وفات کے بعد پَتنی کو پتی کی چتا پر زندہ جلا دیا جاتا تھا جسے “سَتی” کہتے ہیں ۔

عورت کو جوا میں بھی استعمال کیا جاتا تھا ۔

عورتوں کو موہ مایا کی جال اور ناگن بتایا گیا۔

ہندی ادب اس کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔

عورت یہودی مذہب میں :

یہودیوں میں حضرت حوا کو تمام خرافات کی جڑ مانا گیا ہے۔

عورت عرب میں :

عرب کے بعض قبیلہ میں اسلام سے قبل لڑکیوں کے پیدا ہوتے ہی ان کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔ جوا میں عورتوں کو جیتنا ہارنا عام بات تھی۔

عورت عیسائی مذہب میں :

عیسائیوں میں عورت گناہ کی ماں اور برائی کی جڑ , جہنم کا دروازہ ہے, پوپ Tartullian کے مطابق :”عورت مرد کو غارت کرنے والی ہے۔” اور پوپ Chrysotum کے مطابق : “عورت پیدائشی وسوسہ,ایک خطرہ, ایک مصیبت ہے۔”

مذہبی زندگی گزارنے کے لیے یہ ضروری ہوگیا کہ نکاح ہی نہ کرے یا کرے تو شوہر بیوی آپس میں کوئی تعلق نہ بنائیں ۔

آزادئ نسواں کا سب سے بڑا علمبردار ماڈرن یورپ ہے لیکن خود یورپ نے خواتین کو آزادی کے نام پر کیا دیا ملاحظہ ہو۔

ماڈرن یورپ :

ماڈرن یورپ میں آزادی کے نام پر گھر کے افراد شوہر اور بچوں کی دیکھ بھال سے نکال کر ہوٹل اور آفس میں مردوں کی غلامی میں دھکیل دیا گیا۔ اور محنت مزدوری کے ذریعہ کما کر لانے کی ذمہ داری عورتوں کے کاندھوں پر ڈال کر آزادئ نسواں کا نام دیا۔

فیشن کے نام پر عریانیت اور برہنہ پن کو عام کردیا گیا, شرم و لحاظ اور ادب و آداب کو Old menatilyty کہا جانے لگا ۔

نکاح کر کے باعزت زندگی گزارنے کے بجائے free relationship اور live toghether جیسی برائی کو عام کردیا گیا اور بوائے فرینڈ و گرل فرنڈ بنانا اب کوئی عیب نہ رہا , جنسی ہیجان کو فروغ دینا اب آرٹ ہے , اور فحاشی سے پُر فلمیں ,ایلبم سانگ ,لٹریچر,نائٹ کلب , لَو گرو وغیرہ کو بڑھاوا دیا جارہا جسے تفریحات اور انٹر ٹینمنٹ کا نام دیا گیا ہے۔

ضبط ولادت اور قتل اولاد جیسے انسانیت سوز حرکتوں کو عورت کی مرضی کا نام دیکر گھریلو نظام زندگی کو تباہ و برباد کردیا گیا۔

 کُل ملا کر ماڈرن کلچر نے اس صنف نازک کو ایک ایسے کھیل تماشہ کی چیز بنادیا ہے جس کو پوری دنیا اب صرف اپنی تفریح اور فائدہ کے لیے use and throw والا اصول اپنا رہی ہے۔

تفصیلات تو بہت ہیں لیکن اس مختصر مضمون میں سب کا احاطہ ممکن نہیں.

اسلام میں عورتوں کا مقام :

اسلام نے عورتوں کو پستی اور ذلت والی زندگی سے نکال کر وہ مقام عطا کیا جسے کسی مذہب، قوم و ملت اور تہذیب و کلچر نے نہیں عطا کیا.

  • اسلام نے کہا پوری دنیا کو ایک مرد اور ایک عورت سے بسایا گیا۔
  • ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔
  • بہن کا بھی وراثت میں حق ہے ۔
  • بیوہ عورتوں کا دوبارہ گھر بسایا جائے۔
  • بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا حرام ہے ۔
  • جس گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے رحمت کے فرشتے اس کے گھر نازل ہوتے ہیں اور اس کو مبارک باد دیتے ہیں۔
  • بیٹا اور بیٹی کی پرورش میں بیٹا کو بیٹی پر فوقیت نہ دی جائے ۔
  • جس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی اور وہ اس کی اچھی پرورش کرے تو اس کو جنت ملے گی۔
  • بوڑھے ماں باپ کو اف تک نہ کہو ۔
  • ماں باپ کو جھڑکو نہیں۔
  • بربادی ہے ایسے انسان کے لیے جس کو بوڑھے ماں باپ ملے اور تب بھی وہ ان کی خدمت کر کے جنت نہ حاصل کر سکے ۔
  • عورت بازاروں میں فروخت ہونے  والی چیز نہیں اس لیے اسے عزت کے ساتھ گھر میں رہنے کا حکم دیا گیا اور مرد کو باہر کی ذمہ داری سونپی گئی۔
  • دنیا کا سب سے اہم اور بڑا مسئلہ کسب معاش ہے اسلام نے عورتوں کو اس سے مکمل آزاد رکھا اور کسب معاش کی ذمہ داری باپ اور شوہر کے کاندھوں پر ڈالی۔
  • عورت کی عزت و آبرو کا اسلام نے اتنا زیادہ خیال رکھا کہ ان کو بے پردہ گھومنے سے منع کیا گیا تاکہ غلیظ آنکھوں سے محفوظ رہیں۔
  • عورت کما کر لانے، مزدوری کرنے،  نوکری اور غلامی کرنے کے لیے نہیں پیدا کی گئی بلکہ وہ گھر کی ملکہ ہے یہ سارے کام مرد کے ذمہ ہے کہ وہ عورت اور بچوں کی کفالت کرے۔
  • عورت کی اصل آزادی اسلامی تعلیم کی پابندی میں ہے کیونکہ کوئی عورت اگر اسلامی تعلیم سے خود کو آزاد کرے گی تو دنیا کی غلامی میں جائے گی۔
  • اسلام میں عورتوں کی شادی بیاہ زبردستی یا ان کی مرضی کے خلاف نہیں کیا جا سکتا ہے۔
  • عورتوں کی آزادی کی اس سے بڑھ کو اور کیا مثال ہو سکتی ہے۔
  • اسلام میں عورتوں کا کتنا اونچا مقام ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ عورت کو اکیلے ہی کسی سفر میں نا بھیج دیا جائے بلکہ اس کے کسی محرم کے ساتھ اس کو گھر سے باہر بھیجا جائے۔
  • اسلام نے عورت کے اندر چھپے اس کے جوہر اصلی اور ہنر کو پہچانا ہے اور اسی کے مطابق اس کی قابلیت کو استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔
  • اسلام نے عورتوں کو جن کاموں کا حکم دیا ہے  وہ مرد کبھی نہیں کر سکتے اسی طرح اس کے برعکس ہے اور اگر اس سسٹم کو بدلہ جائے گا تو اس کی مثال وہی ہوی کہ ایک انسان منھ کے بجائے ناک سے کھانے کا کام لے تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کے بدلہ جو نتیجہ آئے گا وہ سب جانتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *