نوزائیدہ بچوں کے مسائل: موجودہ دور میں ماں اور بچوں کا تعلق – حصہ دوم

نوزائیدہ بچوں کے مسائل
Spread the love

تحریر: ڈاکٹر مبشر سلیم

اگر آپ اپنے بچے کی نشونما کے حوالے سے کچھ تحفظات کا شکار ہیں تو ان باتوں کو اپنے پلو سے باندھ لیں

چھ ماہ تک کیلئےبچے کو گود سے نکال دیں۔صرف دودھ پلانے کیلئے گود میں اٹھائیں۔

بچہ جب دودھ مانگے تو اس کو مناسب رونے کا موقع دیں۔ بار بار دودھ مت پلائیں۔ تاکہ جب وہ دودھ پیئے تو ایک بار پیٹ بھر کر پی لے۔۔ اور ایک بار پیٹ بھر کر دودھ پی لیا تو بچے کا جاگنے کا دورانیہ بھی مناسب بن جائے گا اور بچہ تنگ بھی نہیں کرے گا۔۔

جب بچے کا دو سے اڑھائی گھنٹے کا فیڈ کا دورانیہ بن گیا تو ماں کی بچے کے سرہانے بیٹھنے کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے۔ اور اسے اپنے گھر کے کام کاج پر توجہ دینی چاییے۔ اور جس دن بچہ چلنا شروع کر دے اس وقت گھر کے کام بے شک چھوڑ دے۔ کیونکہ اب بچے کے سیکھنے کی عمر شروع ہوچکی۔ اور قدم قدم پر رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

بچے کو گود میں پکڑ کر پیار کرنے کیلئے اس کی ساری عمر باقی ہے ، اور نہ ہی اپنے لاڈ پیار کیلئے بچے کی نیند خراب کریں۔ پیدائش کے پہلے مہینے بچے دن کو سویا کرتے ہیں اور رات کو جاگتے ہیں۔ ان کے اس معمول کو قبول کرتے ہوئے اپنے معمول اس کے مطابق بنائیں۔ اور اس میں تبدیلی اس وقت لانا شروع کریں جب آپکو بچہ اچھی طرح سنبھالنا آجائے۔

ایسے ہی اکثر بچے شور میں سونا پسند کرتے ہیں لیکن بالکل خاموشی میں بیدار ہوکر تنگ کرتے ہیں۔ اس عادت کو ضرور نوٹ کرکے رکھیں ۔ بچے کی نشو نما کے حوالے سے حد سے زیادہ کوتاہی اور حد سے زیادہ فکرمندی دونوں بچے کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

ایک ضروری بات:

دن بدن بچوں کو ڈبے کے دودھ پر منتقل کرنے کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ اور وجویات مائوں کی لاعلمی سے زیادہ سوشل اشوز ہیں۔

مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلانا ہی نہیں چاہتی ہیں… ماں بچے کو روتا نہیں دیکھ سکتی..اس لیئے ہر رونے کا مطلب بھوک لگی ہے..نتیجہ یہ نکالا جاتا کہ دودھ چونکہ کم ہے اس لیئے فیڈر شروع کر دیا جائے۔

ماں کا دودھ خراب ہے..وجہ موشن لگ جاتے ہیں یا دودھ نکالتا ہے۔
فیڈر ضروری ہے..کیونکہ بڑے بچے نے بڑے ہوکر فیڈر نہیں پیا تھا۔۔
ماں جاب پر جاتی ہے..
ماں کے پاس فون، فیس بک، وٹس اپ سے فرصت نہیں..سو فیڈر دینا آسان کام..۔
فیڈر شروع کرکے گھر کے دوسرے افراد کو بھی مصروف رکھنا..۔
باپ کی جیب ہلکی کرنا…
سسرال والوں کو تنگ کرنا..اپنی ویلیو بنانا…..
چونکہ جٹھانی درانی کے بچے فیڈر پر اس لیئے ہمیں بھی پلانا ضروری..
چونکہ پہلا بچہ فیڈر پر پلا..اس لیئے فیڈر ضروری…
فیڈر والے بچے صحت مند ہوتے…گورے چٹے…..

آجکل بچوں کو فیڈر پر منتقل کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فیڈر کے ساتھ مائوں کی ذمہ داری کم ہوجاتی ہے..گھر کا کوئی بھی فرد بچے کو دودھ پلا سکتا ہے ۔

اس سلسلے میں میرا دو ٹوک موقف ہے کہ جس ماں کا دودھ کم ہے یا دوھ خراب ہے تو اللہ اس ماں کو بچہ ہی نہیں دیتا۔ اس لیئے بچے کو ماں کا دودھ نہ پلا سکنے کی نناوے فیصد ذمہ داری ماں اور اس کی فیملی کے اوپر ہے۔ صرف ایک فیصد مائوں کو حقیقی مسئلہ ہوتا ہے۔

اس لیئےاپنے سوشل مسائل کو ایک طرف رکھتے ہوئے بچے سے اسکا پہلا حق نہ چھینیں۔ جس بچے کو آپ نے چھ ماہ تک صرف اور صرف ماں کا دودھ پلا دیا تو سمجھ لیں آپ نے ساری عمر کیلئے اسے ڈاکٹروں سے محفوظ کر دیا ہے۔

نوزائیدہ بچوں کے مسائل: موجودہ دور میں ماں اور بچوں کا تعلق – حصہ اول

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *