سماجیات: رشتہ مانگنے سے شادی کے مہمانوں تک

سماجیات
Spread the love

تحریر بشارت حمید

!ہمیں رشتہ چاہیئے

کسی فیملی نے اپنے بیٹے یا بیٹی کا رشتہ طے کرنا ہو تو ارینجڈ میریج میں ہمارے ہاں اس کے لئے جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے وہ بڑا عجیب لگتا ہے۔

نئی فیملی سے ملنے جانا ہے تو پچیس تیس چاچے مامے پھوپھیاں ماسیاں اکٹھی کرکے پوری بارات لے کر جانا ہے تاکہ پتہ لگے وڈے خاندان کے ساتھ رشتہ طے ہو رہا ہے۔ ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ مجھے پوچھ کر ہاں‌کی جائے۔ جس سے ذرا کم توجہ سے پوچھا جائے وہ اکڑ جاتا ہے۔ لیکن ایک بندہ ایسا بھی ہوتا ہے جس سے پوچھا ہی نہیں‌جاتا اور وہ بذات خود لڑکایا لڑکی ہوتے ہیں جن کے بارے یہ سارا مجمع فیصلہ کر رہا ہوتا ہے۔

بڑوں کی دخل اندازی

از خود یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ ہم اس کے بڑے ہیں ۔۔ تو کیا اس کے لئے کوئی غلط فیصلہ کریں گے۔۔۔
بھئی یہ ان بچوں پر ظلم ہے کہ انکی رائے لئے بغیر ہی کسی جگہ رشتہ طے کر دیا جائے۔ ایسا کرنے سے ساری زندگی عذاب بن کر رہ جاتی ہے۔
مامے چاچے ماسیاں پھوپھیاں جنہوں‌نے سال چھ ماہ بعد چکر لگانا ہوتا ہے ان کی رائے زیادہ اہم نہیں ۔ دوسری بات یہ کہ جس گھرانے کا بیٹا یا بیٹی ہے وہ اپنے گھر کے ماحول کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں‌کہ اس ماحول میں‌کس قسم کے لوگ ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
ہمارے ہاں ہندوانہ کلچر سے در آنے والی جعلی اور غیر حقیقی روایات سرے سے غلط ہیں۔ اگر میں‌اپنے بچوں‌کا رشتہ کرنا چاہتا ہوں‌تو مجھے زیادہ بہتر آئیڈیا ہے کہ ہمارے مزاج سے کون سی فیملی زیادہ میچ کرتی ہے جبکہ ہمارے دوسرے رشتہ داروں کو یہ اندازہ اس درجے کا نہیں‌ہوسکتا ۔ لیکن یہاں اس بات پر پھڈے پڑ جاتے ہیں‌کہ بچوں کے رشتے کرتے وقت مجھے کیوں‌نہیں‌پوچھا۔۔۔ بھئی جن کے بچے ہیں‌جنہوں‌نے

نئی فیملی کے ساتھ رہنا ہے انہیں‌اپنی مرضی سے کرنے دو ۔۔ تمہیں‌کیا مصیبت پڑی ہے انکے معاملے میں ٹانگ پھنسانے کی۔۔
ہماری تربیت میں‌یہ سکھایا ہی نہیں جاتا ہے کہ کسی دوسرے کا اپنی زندگی جینے کا بھی کوئی حق ہے۔ اس کے رائے ہم سے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ اس پر ناراض ہونے یا غصہ کرنے سے دوسرے کا شاید کچھ نہ بگڑے لیکن اس منفی سوچ اور خواہ مخواہ کی ناراضی سے بندہ اپنا بہت کچھ بگاڑ لیتا ہے۔

ناراضگیوں کا دور

پہلے حصے میں جن رشتہ داروں کا ذکر کیا گیا ہے کہ رشتہ طے کرتے وقت اگر ان سے ڈسکس کرنے میں ہلکی سی بھی کوتاہی ہو جائے تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں اور اعلان بغاوت کرتے ہوئے کہتے ہیں اسیں ایس ویاہ اچ نئیں جانا سانوں تے رشتہ کردے ہوئے پچھیا ای نئیں۔۔۔

وہ لوگ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اپنے ہم خیال رشتہ داروں سے رابطہ کرکے انہیں بھی بغاوت کی ترغیب دیتے ہیں کہ اسیں تے نئیں جانا تسی وی نہ جاو۔۔ اور وہ رشتہ دار بھی انہیں سمجھانے کی بجائے الٹا نیا اعلان فرما دیتے ہیں کہ اگر فلاں فیملی شامل نہ ہوئی تو ہم بھی نہیں آئیں گے۔ یعنی بجائے ان چھوٹی باتوں کو اگنور کرنے اور اپنا دل بڑا کرنے کے وہ ہر بات کا منفی پہلو تلاش کرکے اس پر واویلا کرتے ہیں۔

اب لڑکے یا لڑکی کے والدین پر دوسرے رشتہ داروں کا پریشر آتا ہے کہ فلاں ناراض ہے اس موقع پر اسے منا کر لے آئیں۔ حالانکہ جو سلوک موصوف کر چکے ہوتے ہیں بندے کا جی چاہتا ہے کہ کنارہ کشی ہی بہتر ہے۔ جب منانے جائیں تو کئی لوگ اس پر مزید اکڑ جاتے ہیں اور اپنی اہمیت بڑھانے کو جلی کٹی باتیں سناتے ہیں۔ بندہ مجبوری کے عالم میں یہ باتیں بھی سن لیتا ہے کہ چلو خیر ہے جو مرضی کہہ لیں ہمارا فنکشن خراب نہ ہو۔

شادی کے کارڈز

خدا خدا کرکے یہ مرحلہ بھی طے ہوتا ہے۔ اگلا مرحلہ ہے شادی کارڈ پر کس کا نام میزبانوں میں لکھا جائے اور کس کا نہ لکھا جائے۔ اب کوئی دوست یہ نہ کہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔۔ہوتا ہے جناب اب بھی ہوتا ہے۔

ہمارے عزیزوں کے لڑکے کی شادی میں اس جھگڑے سے بچنے کے لئے دو قسم کے کارڈز چھپوائے گئے تھے۔ عام مہمانوں کے لئے الگ میزبانوں کے نام تھے اور جھگڑالو رشتہ داروں کو بھیجے جانے والے کارڈز پر میزبانوں میں انہی کے خاندان کے نام تھے۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کارڈز پر نام لکھنے یا نہ لکھنے سے فرق کیا پڑتا ہے۔۔ یہ کارڈ کونسا ٹی وی چینلز پر یا اخبار میں لگنا ہے کہ جس کا نام لکھا ہوا وہ مشہور ہو جائے گا اور باقی رہ جائیں گے۔ یا کسی کی عزت اور ذلت کا معیار کارڈ پر نام لکھوانے سے ہی طے ہوتا ہے۔
میں نے خود کئی لوگ اس وجہ سے ناراض ہوتے دیکھے ہیں اور انہوں نے شادی میں صرف اس لئے شرکت نہیں کی کہ کارڈز پر ہمارا تو نام ہی نہیں لکھوایا۔

میرے خیال میں تو یہ ساری باتیں ہی فضول اور خواہ مخواہ کی گھڑی ہوئی رسمیں ہیں انکے بغیر بھی بہت آسانی سے شادی کی جا سکتی ہے۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو اتنا اہم سمجھنا اور ان پر ناراض ہوجانا بچوں جیسی حرکتیں ہیں۔

کس کی دعوت

شادی کارڈ کا مرحلہ طے ہونے کے بعد اب باری آتی ہے اس معاملے کی کہ لڑکے والے ہیں تو ہمیں کارڈ بارات والا بھیجا ہے یا صرف ولیمہ کا۔۔ اور ہمارے گھر کے کتنے افراد کو دعوت دی ہے، صرف میاں‌بیوی کو بلایا ہے یا بال بچوں سیمت انوائٹ کیا ہے۔ اگر تو لڑکے والوں نے دین کی تعلیمات کے مطابق بارات مختصر رکھنے کا ارادہ کر رکھا ہو اور کارڈ صرف دعوت ولیمہ کا ہی چھپوایا ہو تو پھر کئی رشتہ دار اس پر بھی ناراض ہو جاتے ہیں کہ خالی ولیمہ پر ہم کیوں جائیں ہم اتنے ہی گئے گزرے ہیں کہ بارات پر نہیں لے کر جا رہے۔ بڑے دیندار بنے پھرتے ہیں سارا دین انکو بارات اور شادی میں ہی نظر آتا ہے۔۔ ہونہہ۔۔۔ اب دین کی خاطر بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کو بھی چھوڑ دیں کیا۔۔ یہ کونسا دین ہوا ان کا۔۔

پھر یہی رشتہ دار دوسروں کو فون کرکے پوچھیں گے کہ آپکو کونسا کارڈ بھیجا ہے۔۔ اگر وہ بھی کہیں کہ ولیمہ کا۔۔ تو پھر انکو اکسائیں گے کہ ہم تو نہیں جا رہے ولیمہ پر بھی۔۔ آپ بھی نہ جائیں۔۔ دیکھو جی یہ بھی کوئی شادی ہے۔۔ نہ مہندی نہ ڈھولک نہ بارات۔۔ صرف ولیمہ پر غیروں کی طرح بلا لیا۔۔ ہم تو نہیں جا رہے بس۔۔۔۔

نقائص نکالنا

اگر ایسے رشتہ داروں میں سے کوئی آ بھی جائے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ لڑکے اور لڑکی والوں میں کوئی نقص ملے تب مزہ آئے۔ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر پھر وہاں اپنی اہمیت جتانے کی کوشش کریں گے یا اور کچھ نہ ملا تو مجھ سے فلاں نے سیدھے منہ سلام نہیں لیا ۔۔ کا اعلان کرتے ہوئے نکل آئیں گے۔
اکثر ایسے لوگوں کی خواہش صرف اپنی اہمیت دیکھنا ہوتی ہے کہ دیکھوں تو سہی گھر والے کس طرح‌آ کر مجھے مناتے ہیں۔

بن بلائے مہمان

ایک اور غلط کام جو اکثر لوگ کرتے ہیں‌وہ یہ کہ شادی والوں نے اپنے حساب سے لوگوں کو دعوت دی ہوتی ہے اور اگر کارڈ پر ایک بندے کا نام لکھا ہے تو وہ جاتے وقت دو تین لوگ اور ساتھ لے جاتا ہے کہ کچھ نہیں‌ہوتا ان دو سے کیا فرق پڑتا ہے۔ جبکہ ہوتا یہ ہے کہ فنکشن میں‌آنے والے اکثر لوگ یہی بات سوچ کر اضافی بندے ساتھ لے آتے ہیں۔ ہمارے ایک فنکشن میں‌تقریباً پچاس لوگ مدعو تھے اور سیٹنگ ارینجمنٹ اسی لوگوں‌کا تھا ۔ ذہن میں‌یہ تھا کہ چلیں کوئی اضافی بھی آ گئے تو اکاموڈیٹ ہو جائیں‌گے۔ لیکن کئی لوگوں‌نے یہ کیا کہ جن کا ایک بندہ بلایا تھا وہ چھ لوگ آ گئے، جن کے دو تھے وہ چار آ گئے۔ اب قریب میں‌مزید کرسیاں میز دستیاب ہی نہیں‌تھیں تو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ پھر ہم نے کچھ اعتماد والے قریبی عزیزوں‌کو ہال سے باہر متبادل جگہ بٹھا کر مینیج کیا ۔ کھانا اگرچہ وافر تھا لیکن برتن کم پڑ گئے اس وجہ سے بھی بہت پریشانی ہوئی۔
اب جولوگ اضافی بندے ساتھ لے ان کے لئے تو یہ مسئلہ ہی کوئی نہیں‌والی بات تھی جبکہ میزبان کے لئے شدید پریشانی کا معاملہ تھا کیونکہ فوری طور پر متبادل میسر نہیں تھا۔

2 Comments on “سماجیات: رشتہ مانگنے سے شادی کے مہمانوں تک”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *