آپ بیتی جگ بیتی – اللّہ سے سودا کہانی

آپ بیتی جگ بیتی - اللّہ سے سودا
Spread the love

میں اللّہ سے سودا کر چکا ۔۔۔۔۔

زکواۃ کی کٹوتی کی وجہ سے بنک بند تھا۔ وہ برساتی کو ایڈجسٹ کر کے بل جمع کرائے بغیر واپس آگیا۔ بنک قریب ہی تھا۔ اسلام آباد میں بارش کی بوندیں ابھی گر  رہی تھی۔ گلی کے کونے پر پہنچ کر وہ ٹھٹک گیا۔ اس بزرگ کو اس نے گزشتہ روز بھی ایک ٹوٹی پھوٹی میز پر کچھ سبزی اور چند  قسم کےپھل فروخت کے لئے سجائے دیکھا تھا اور دوبارہ دیکھے بغیر گاڑی گلی میں گھر کی طرف موڑ لی تھی۔

آج وہ پیدل تھا۔ اس کے ٹھٹکنے کی وجہ دس بارہ سال کا ایک بچہ اور پاس کھڑی اس کی ماں تھی۔ بارش سے بے نیاز, کسی گاہک کی آس میں ان کی نظروں میں آس ویاس کا ملا جُلا تاثر تھا۔

وہ کچھ لینا نہیں چاہ رہا تھا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو روز پہلے ہی منڈی سے کافی کچھ لے آیا تھا۔ مزید لینے کا مطلب پیسے اور چیزوں کا ضیاع ہوتا۔

نماز کے بعد تلاوت کرنے بیٹھا تو بار بار ان بھیگتے ہوئے ماں بیٹے کا تصور اسے بےچین کرنے لگا۔ جب وہ ایک آیت  تک پہنچا کہ (،،ترجمہ) “پھر تم سےسوال کیا جائے گا کہ تم سونا چاندی بچا بچا کر اکٹھا کرتے رہے۔ اللّٰه کی راہ میں کیوں نہیں خرچ کیا۔ تو آج تھاری پیشانیاں، اور کاندھے اور کمریں اسی پگھلے ہوئے گرم سونے اور چاندی سے داغی جائیں گی۔”

تو دل سے آواز ابھرنے لگی۔کیا فائدہ اس عبادت کا؟ جب تم غربت میں پستے ہوئے دو مجبور انسانوں کی مجبوری دیکھ کر بھی نہیں پگھل سکے۔ نماز اور تلاوت تو اللّٰه کا معاملہ ہے۔ وہ قبول کرے یا نہ کرے، اس کی مرضی۔ لیکن کیا اس بے حسی پر تمھیں معافی مل جائے گی؟ سارا دن فیسبک پر بیٹھ کر انسانیت کے لیکچر دیتے ہو۔ ہمدردی کی پوسٹیں لگاتے ہو۔ لیکن خود تم سے بڑا خود غرض کوئی ہو سکتا ہے؟

اس کا ضمیر اسے ملامت کر رہا تھا۔

اس نے مصحف کو ادب سے بند کیا اور اٹھ کر برساتی پہننے لگا۔

“کہاں جا رہے ہیں؟ “

بیوی نے پریشان ہوکر پوچھا۔ وہ آیسولیشن کے معاملے میں بہت سخت تھی۔ بچوں کو بھی نہیں نکلنے دیتی تھی۔ بہت ضروری طور پر نکلنا ہوتا تو ماسک، سینیٹائزر، ڈسپوزایبل دستانے، سب کی پابندی کرنا ہوتی۔

“کہیں نہیں ۔ گلی کے کونے تک”اللّہ سے سودا کر نے

وہ پرس جیب میں رکھتے ہوئے بولا. پھر پوری بات بتائی۔ اس کی آواز بھرا گئی۔ “کون آئے گا اس پوش علاقے میں، بارش میں ان سے سبزی یا فروٹ خریدنے۔؟ وہ گداگر نہیں ہیں ۔ محنت کش ہیں ورنہ بارش میں  نہ بھیگ رہے ہوتے۔”

“ٹھہریں ۔آپ ایک نیک مقصد کے لئے جا رہے ہیں ۔اللّہ سے سودا کر نے مین میرا شئیر بھی شامل کرلیں۔”

جبھی کمرے سے بیٹے کی آواز آئی جو یہ سب سُن رہا تھا۔ “پاپا! میں بھی اللّہ سے سودا کرنا چاہتا ہوں ۔” اس نے باپ کی طرف کچھ پیسے بڑھا دئے۔

اس سے بات نہیں ہو پا رہی تھی۔ بس آنسو نکل رہے تھے۔ وہ دعا مانگ رہا تھا کہ وہ لوگ چلے نہ گئے ہوں۔

وہ باہر نکل آیا۔بارش کے بس اکا دکا قطرے ہی گر رہے تھے ۔

گلی کے کونے پر ماں بیٹا اسی طرح پھلوں اور سبزی کی میز کے آگے بھیگے ہوئے کھڑے تھے۔ کوئی گاہک دور دور تک نہیں تھا۔

پاس جاکر وہ بچے سے ہر چیز کا بھاؤ پوچھنے لگ گیا۔جبھی وہ بزرگ بھی کہیں سے آپہنچا۔

“بھائی! ان سب پھلوں اور سبزی کا کیا لگاؤ گے؟ “اس نے پوچھا۔

“تول دوں صاحب؟ “وہ خوش ہوگیا تھا۔

عورت بھی اپنے میاں کے قریب آگئی تھی اور حیرت سے دیکھ رہی تھی۔

“نہیں ۔ایسے ہی بتا دو حساب کر کے۔ اپنا منافع بھی شامل کر لو۔ مجھے سارا سامان لینا ہے۔ منڈی نہیں جا سکتا۔ کرونا پھیلا ہوا ہے۔”

وہ آدمی تھوڑی دیر حساب لگا تا رہا.  پھر بولا۔”سر! ۔۔۔۔۔۔۔ ہزار بنتے ہیں۔”

“کوئی رعایت نہیں کرو گے؟” اس نے ٹٹولا۔

“آپ دوسرے گاہک ہیں صبح سے۔ پہلا گاہک ایک خربوزہ لے کر گیا تھا۔ ایسا کریں۔دوسو کم دے دیں۔ میرا بھی وقت بچ جائے گا۔”

اس نے پرس سے نوٹ  نکالے اور اس کی طرف بڑھا دئے۔

“ٹھیک ہے۔ جتنے تم نے پہلے کہے ہیں اتنے میں ہی دے دو۔”

“شاپر میں ڈال دوں؟ الگ الگ۔؟”

“نہیں, ادھر ہی رہنے دو۔اب یہ سامان میرا ہوا,چاہو تو غریبوں کو دے دینا اور چاہو تو بیچ دینا, میری طرف سے اجازت ہے” یہ اللّہ سے سودا ہے

اس کی بیوی بولی۔”بھائی! کچھ تو لے جائیں۔”

اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیا میرا اللّہ سے سودا ہو گیا ہے۔اب اس میں سے میں کچھ نہیں لے سکتا کیونکہ اللّہ سے سودا کر چکا ہوں۔

وہ تیزی سے مڑا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے  تیزی سے بہے جا رہے تھے. یہ بیک وقت ندامت، خوف اور شکرانے کے آنسو تھے۔ گھر پہنچتے پہنچتے وہ منہ پر ہاتھ رکھے دھاڑیں مار کر رونے لگا۔

“مجھے معاف کر دے میرے مالک! میری کسی غلطی پر پکڑ نہ کرنا۔ مجھے تو نے سب کچھ دیا ہے۔ اتنا کہ ساری زندگی شکر کرتا رہوں تو کم ھے۔ اور ایک طرف تیری یہ مخلوق ہے۔ ان کے حال پر رحم کر میرے اللّه!

وہ منہ پر ہاتھ رکھیں چیخوں کا گلا گھونٹنا رہا ۔

اندر داخل ہوا تو بیوی تین برساتیاں لئے کھڑی تھی۔اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا دیکھ کر بیوی کی آنکھیں بھی بھر آئی تھیں ۔

“یہ انھیں دے آئیں۔ہمیں تو ویسے بھی ابھی ضرورت نہیں ہے۔ کرونا ختم ہوگا تو اور لے آئینگے۔”

وہ واپس گیا اور برساتیاں بھی انھیں دے دیں۔

پہلی بار اپنی روح اور دل سے بوجھ اترتا محسوس ہوا تھا اور وہ اللّٰه سے معافی مانگ کر خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا۔ اور اللّہ سے سودا کرنے کا سکون محسوس ہوا۔

یہ سب زیادہ دور کا نہیں، گزشتہ روز یعنی تیسرے روزے کا ذکر ہے۔ آپ بھی اللّہ سے سودا کر کے دیکھیں۔ اللّہ سے سودا کرنے کا مزہ ہی الگ ہے۔

(ڈاکٹر نسیم جاوید سید)

اچھی اچھی کہانیاں مزید پڑھیں۔

اسلام کے بارے میں پڑھیں

70 سچے اسلامی وقعات کتاب

stories for muslim kids

Zakat & Sadqa , Most Important Bayan By Maulana Tariq Jameel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *