ٹاک تھراپی۔۔۔ ارے بات تو کیجیے!

ٹاک تھراپی
Spread the love

ٹاک تھراپی ۔۔۔ ابن فاضل

آقا کریم ﷺ غار حرا سے تشریف لائے،روایات کے مطابق گھبرائے ہوئے تھے. آتے ہی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا مجھے چادر اوڑھا دو. کچھ طبیعت سنھبلی تو پہلی وحی کا واقعہ سنایا… حضرت خدیجہ نے فرمایا ،

”خدا کی قسم!اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم توصلہ رحمی کرتے ہیں‘ ناتوانوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، دوسروں کو مال واخلاق سے نوازتے ہیں۔ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق بجانب امور میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں”۔

میرے نزدیک تاریخ انسانی میں یہ سب سے معتبر، مطہر خوبصورت اور ارفع ” ٹاک تھراپی” ہے. جو ارفع ترین خاتون نے امام الانبیاء کیلئے کی. اب اس بات پر غور کریں کہ نفسیاتی یا ذہنی دباؤ اللہ کے برگزیدہ ترین اور چنیدہ بندوں کو بھی ہو سکتا ہے. اور اسکا فوری اور بہترین علاج یہی محبت کے بول یا ‘ٹاک تھراپی’ ہے. اور یہ علاج اس قدر اہم اور کارگر ہے کہ آقا کریم تاعمر ام المومنین حضرت خدیجہ کی ان تسلیوں کا ذکر محبت سے فرماتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیپنگ تھیراپی – تھپتھپانا

ہمیں خوب ادراک ہے کہ ہم ایک ہنگامی دور سے گذر رہے ہیں. بہت سے احباب کرونا اور اسکے خوف کی وجہ سے اور بہت سے اس کی وجہ سے پیداشدہ معاشی مسائل کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ میں ہیں. اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں. اپنے گھر، کنبے یا حلقہ احباب میں جو شخص اس کیفیت میں ملے ام المومنین کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس کی ٹاک تھراپی کریں. اسے کچھ قوت دیں. اس کی خوبیاں اس کی صلاحیتیں یاد کروائیں. اللہ کریم کی عطاء کردہ نعمتوں کی تحدیث کریں. اس باور کروائیں کہ یہ وقتی مسائل ہیں. اللہ کریم کے فضل وکرم سے سب ٹھیک ٹھاک ہوجائے گا۔

یقیناً بہت سے لوگ ہماری ذرا سی توجہ اور ذرا سی محنت سے اس وقتی مایوسی سے نکل کر پھر سے نارمل انداز سے سوچنا شروع کردیں گے. مغرب میں تو اسوقت یہ دھندا عروج پر ہے ہزاروں آنلائن سائیکو تھراپسٹ اگ آئے ہیں. اور مایوس لوگوں سے پیسے بٹور کر انکی ذہنی کیفیات بہتر کرنے کی سعی میں لگے ہیں. مگر ہم گئے گذرے ہی سہی آقا کریم کے امتی ہیں. اللہ کا حکم بھی ہے کہ جو تمہیں عطا کیا گیا ہے اس میں سے خرچ کرو. تو اس وقت جن سکوں کی تقسیم کی حاجت ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے. سو اللہ کریم کی عطا کردہ اپنی ذہنی آسودگی اور اپنے خوبصورت وقت میں سے کچھ ضرورت مندوں میں تقسیم کیجیے. اللہ آپ سے راضی ہوگا۔

کیا بات چیت سے ڈپریشن کم ہوتا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *