13 سے 19 سال کے ٹین ایج بچوں کی تربیت….!

ٹین ایج بچوں کی تربیت
Spread the love

تحریر: جاوید اختر آرائیں

خضر اور میران
جب ٹین ایج میں داخل ہوئے
تو انہیں کچھ باتیں خاص طور پر سمجھائی گئی مثلاً

سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اصرار اس بات پر رہا کہ اپنے ناخن ہمیشہ صاف ستھرے اور درست انداز میں کاٹ کر رکھنا اس لئے کہ لوگ سب سے پہلے آپ کے ناخن دیکھتے ہیں
صرف دیکھتے ہیں
کہتے کچھ نہیں مگر نمبر کٹ جاتے ہیں..!

دوسری بات
ڈیڈورنٹ ضرور لگایا کرو
آپ کے پاس سے کوئی بری اسمیل نہیں آنی چاہیے
کیونکہ آپ کے پاس سے بیڈ اسمیل آنے پر
آپ کے دوست، اسکول فیلو، ساتھ سفر کرنے والے ہمسفر
آفس کولیگ اس سے سخت پریشان ہونگے
لیکن
بولیں گے کچھ نہیں..!
کیونکہ یہ بہت پرسنل معاملہ ہے مگر
نمبر کٹ جائیں گے…!

اس کے بعد اپنے دانت بہت اچھی طرح صاف رکھنا
منہ سے آنے والی بدبودار سانس
آپ کے مخاطب کو سخت ناگوار گزرتی ہے
مگر
لوگ بولیں گے نہیں..!
آپ کو کہہ نہیں سکتے کہیں آپ ناراض نہ ہوجائیں
لیکن
نمبر کٹ جائیں گے..!

یہ بھی پڑھیں: میرا بچہ کھاتا پیتا کیوں نہیں؟۔۔ متفکر مائوں کے ہر سوال کا جواب

گردن اور کان کی صفائی بہت توجہ سے کرنی ہے
ناک کے بال ہر ہفتے کاٹنے ہیں
گردن بہت اچھی طرح مل کر دھونی ہے
کوئی میل نظر نہ آئے
کیونکہ
کوئی اس بارے میں سمجھاتا نہیں ہے
دیکھتا ہے مگر خاموش رہتا ہے
لیکن
نمبر کٹ جاتے ہیں..!

پھر
ناک کان منہ میں انگلیاں نہیں ڈالنی
ناخن نہیں چبانے، بار بار ناک چہرا سر نہیں کھجانا
ضرورت ہو تو بہت نفاست سے سلیقے سے
ایسا کرسکتے ہیں

مثلاً ناک میں خارش ہورہی ہے
تو انگلی سے نہیں الٹے ہاتھ کی پشت سے آہستہ سے
کھجا سکتے ہیں
سیدھے ہاتھ سے تو ھرگز نہیں
جس سے آپ نے کسی سے ہاتھ ملانا ہے
اس سے بہتر ہے رومال یا ٹشو پیپر ضرور ساتھ رکھنا
کیونکہ
نمبر…………..!

اسی طرح
جسم کے مخصوص حصوں پر کبھی ٹچ نہ کرنا
چند مزید ھدایات جو کہ یاددہانی کے لئے اکثر دھراتے رہے
چاہے شلوار ہو یا پینٹ
انڈروئیر ضرور پہنو
گھر سے باہر جاتے وقت
منہ اٹھائے جھاڑ جھنکار روانہ مت ہو
اپنا منہ ہاتھ دھو کر بال بنا کر درست لباس
.اچھے شوز پہن کر جاؤ چاہیے قریب کی مارکیٹ سے کچھ سامان ہی کیوں نا لانا ہو

شوز کی پالش اور صفائی کا خاص خیال رکھیں
آپ کی شخصیت کے بارے میں لباس سے زیادہ آپ کے شوز بتاتے ہیں
آدھے پونے پاجامے، ادھوری شرٹس سخت معیوب لگتی ہیں
خاص طور پر مسجد جاتے ہوئے
شلوار قمیض میں میں ہونا چاہیئے

آدھے بازو کی چھوٹی شرٹ اور جینز کی قمیض آپ سے پیچھے کھڑے نمازیوں کو بہت پریشان کرتی ہے ان کی توجہ متاثر ہوتی ہے
وہ بھی
کچھ کہہ نہیں سکتے
مگر
آپ کی تربیت پر دل ہی دل میں کوستے ضرور ہیں

گھر کے اندر کا لباس بھی
باوقار ہونا چاہئے
ماں باپ اور بہنوں کے کمروں میں
کبھی دروازہ بجائے بغیر نہیں جانا
بہنوں کے کمرے میں بلاوجہ نہیں بیٹھنا
اپنے میلے کپڑے خود دھونا سیکھو
انہیں واش روم میں لٹکا چھوڑ کر مت آو
اپنی ضرورت کی پرسنل چیزیں اپنی الماری میں رکھیں۔

جب یہ ٹین ایج میں داخل ہوئے تو بازار سے ریزر بلیڈز لا کر دیئے اور اپنے بازو پر بال صاف کر کے سمجھایا کہ کس طرح
اپنے جسم کے اندرونی حصوں کے بال ہر ہفتے صاف کرنے ہیں۔

اپنی اور دوسروں کی پرسنل اسپیس کا بہت خیال رکھنا
پرسنل اسپیس ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ
اپنا ہاتھ پورا بازو کھول لیں
یہ اندازاً ڈھائی سے تین فٹ بنتا ہے
نا کبھی کسی کی پرسنل اسپیس میں جائیں
یعنی تین فٹ دور رہ کر بات کریں
نہ کسی کو زیادہ قریب آنے دیں
یقیناً سفر میں کار بس جہاز کی سیٹ کا معاملہ زرا مختلف ہے لیکن اس کے بھی آداب ہیں اور سفر کے سب آداب سیکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: نوزائیدہ بچوں کے مسائل: موجودہ دور میں ماں اور بچوں کا تعلق – حصہ اول

بچوں کو
سمجھایا ہے کہ کسی کو فون کریں یا
کسی کے پاس جائیں
سب سے پہلے
ایک سانس میں
یہ چار باتیں بتا دیں
سلام، نام، جگہ، کام
یعنی پہلے سلام کریں
پھر اپنا اور اپنے ادارے کا نام بتائیں
پھر آنے کا مقصد بتا کر اجازت لیں کہ
آپ سے بات ہوسکتی ہے..؟
میں اندر آسکتا ہوں..؟
یا کرسی پر بیٹھ سکتا ہوں..؟

اجازت ملے تو ٹھیک ورنہ پھر کبھی صحیح..!
بغیر اجازت کسی کی میز سے ایک بال پین یا ٹشو تک نہیں اٹھانا
کیونکہ
” یہ جرم کے زینے کا پہلا قدم ہے”

ایک بات
جو اکثر بتائی کہ بیٹا
کسی سے فون پر بات کریں یا کسی کے پاس جائیں
اپنے چہرے پر ہلکی سی حقیقی مسکراہٹ ضرور رکھیں
یہ مسکراہٹ آپ کے لئے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے

کسی سے ہاتھ ملاؤ تو پورا ہاتھ ملاؤ
گرم جوشی سے اس کے ساتھ ساتھ نظریں بھی ملائیں
یہ نہیں کہ منہ ادھر ہاتھ اودھر
بات کسی اور سے..!

وطن کے سارے بچوں کو
میں اپنا بچہ ہی سمجھتا ہوں
ان بچوں کی اچھی تربیت ان کے لئے ہمارا
سب سے اچھا تحفہ ہے
ٹین ایج بچوں کی تربیت کے بارے میں
مزید بہت سی باتیں اور بھی دل میں ہیں
آپ نے حکم کیا تو دوسری قسط میں عرض کروں گا۔

آج کے لئیے
اجازت
خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں
دعاگو اور دعاؤں کا طالب ہوں
جاوید اختر آرائیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *