خواتین کی ازدواجی زندگی کے متعلق سنہری اصول

Spread the love

اس معاشرے کو اچھا ہونے کے لیے ٹھیک ہونے  کے لے ایک گھر کا ٹھیک ہونا بہت ضروری ہے اور گھر کے ٹھیک ہونے کے لے میاں بیوی کا ازدواجی تعلق کا ٹھیک ہونا لازم ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کر سکیں۔

خواتین کو سنہریاصول بتائے جارہے ہیں اگر خواتین ان اصولوں کو یاد کرلیں اور ان پر عمل کی کوشش کریں تو ان کی زندگی پرسکون ہوجائے گی۔۔۔ ان شاء اللہ.

ان اصولوں کو بتانے سے قبل ایک حدیث ہے جس میں عورت کے نیک ہونے کی چند صفات بتائی گئیں ہیں ان کو پڑھتے چلیں سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

١_ دین کے معاملے میں شوہر کی فرمابرداری کرتی ہے۔

٢_ بیوی ایسی ہو کہ اسکو دیکھنے سے دل خوش ہوجائے۔

٣_ شوہر کی بات کو مانتی ہے۔

٤_ وہ اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہے۔

ایک بات کو اپنے ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ خوبصورت عورت کو دیکھ کر آنکھیں خوش ہوتی ہیں جبکہ خوب سیرت عورت کو دیکھنے سے دل خوش ہوتا ہے اور حدیث میں بھی اچھی عورت کی صفت یہی بتائی گئی ہے کہ اس کو دیکھنے سے خاوند کا دل خوش ہوجائے۔

اب یہاں سے وہ سنہری اصول بتائے جارہے ہیں جن پر عمل کی نیت کرلیں کہ ھم نے ان شاء اللہ تعالٰی عمل میں لانے ہیں یہ اصول اور دوسروں کو بھی بتانے ہیں۔

: ١…. خواتین اپنے خاوند کا اعتماد حاصل کریں

یہ بہت ہی ضروری اور اھم ہے کہ میاں اور بیوی کا ایک دوسرے پر اعتماد ہو، بھروسہ ہو ۔ اعتماد کی کمی زندگیوں میں بہت سے مسائل کی وجہ بن جاتی ہے اور جھگڑے ہوتے ہیں۔ بیوی کے لیے لازم ہے کہ کبھی کوئی ایسا کام نہ کرے کہ شوہر کی نگاہ سے گر جائے، تکلیف اٹھا لینا ذلت اٹھانے سے بہتر ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہیں، کوئی بھی بات جھوٹ سے شروع ہی نہ کریں کہ ٹوہ لگانے کی ضرورت پیش آئے، بات کو سیدھا اور صاف کریں اس سے اعتماد حاصل ہوتا ہے بچوں پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے، اگر ماں گھر میں بچوں کے سامنے بات کو گھوما کر کرنے والی ہوگی یا جھوٹ بولے گی تو یاد رکھیں بچے یہ سب سیکھ رہے ہیں وہ یہ سب کریں گے۔ پھر تو اس اصول کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

٢…. خاوند کے دل میں محبت پیدا کرے :

تقریباً ہر ہی عورت یہ خواہش رکھتی ہے کہ اس کا شوہر اس سے محبت کرے، اس کی بات کو مانے، لیکن یہ کرنے کے لیے وہ جو طریقہ اختیار کرتی ہے وہ درست نہیں ہے، اور طریقہ کیا ہے ان کا؟ لمبے لمبے وظیفہ کرنا، تسبیحات پڑھنا، اور خواہش یہ رکھتی ہیں کہ شوہر ان کے قابو میں آجائے۔ بس ان ہی کی مان کر چلے کسی دوسری طرف نہ دیکھے، یہ کہے دن ہے تو وہ بھی کہے کہ دن ہے۔ یہ کہے رات ہے تو وہ بھی کہے رات ہے۔

اس پر ایک واقعہ یاد آیا جو اکثر میرے والد محترم سناتے رہتے ہیں۔

: واقعہ

ایک بادشاہ تھا اس نے ایک دن رعایا سے کہا تم میں سے جتنے لوگ اپنی بیویوں سے ڈرتے ہیں وہ سب ایک طرف الگ ہوجائیں سب کے سب الگ ایک طرف کھڑے ہوگئے اور ایک شخص تھا جو وہی کھڑا رہا بادشاہ بڑا حیران ہوا اور کہا کہ تم بہادر نکلے جو اپنی بیوی سے نہیں ڈرتے تمہیں تو انعام دینا چاہیے۔ اس شخص نے کہا بات یہ ہے کہ جب میں گھر سے نکلا تھا تو بیوی نے سختی سے منع کیا تھا کہ جس طرف سب جائیں تم اس طرف نہ جانا ۔ اس لیے سب اس طرف چلے گئے پر میں یہی کھڑا رہا ۔

تو خواتین کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس طرح کا مطیع اور فرمانبردار بن جائے میرا شوہر ۔

: شوہر کو مطیع کرنے کا طریقہ

شوہر کو اپنا تابع اور مطیع کرنے کے لیے کچھ سال ان کو یہ کام کرنا ہوگا اس کے بعد ان شاء اللہ ان کا شوہر ان سے بہت محبت کرے گا، اور وہ ہے اپنے شوہر کی عزت کرنا، اس سے محبت کرنا، ہر اعتبار سے اس کی خدمت کرنا، ایسی خدمت کرے کہ شوہر اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہ کرے ۔ دین اور دنیا کے ہر معاملے میں اس کی مددگار بن جانا، پھر دیکھے آپ کا شوہر کیسے آپ سے محبت کرتا ہے۔ ان شاء اللہ تعالٰی ۔

: ٣…. لگائی بجھائی سنی سنائی کو چھوڑ دیں

خواتین کی ایک بہت بری عادت ہوتی ہے کہ لگائی بجھائی بہت کرتی ہیں۔ شوہر کو ماں سے متنفر کرتی ہیں، اس کی بہن سے متنفر کرتی ہیں، بھائی سے کرتی ہیں، دماغ کو خالی رکھتی ہیں اور شیطانی خیالات آتے رہتے ہیں اور یہ جوڑ توڑ کرتی رہتی ہے، سنی سنائی بات کو شوہر تک پہنچا دیتی ہیں جس کی وجہ سے بعض دفعہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بعد میں معافی تلافی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔

ایک اور خامی یہ بھی ہے کہ ایک ہی طرف کی سن کر فیصلہ کرلیتی ہے سوچ کو منفی رکھتی ہے، جبکہ خواتین کو یہ اصول یاد رکھنا چاہیے کہ شوہر کے گھر میں منفی سوچ نکال دیں تو زندگی آسان ہوجائے گی۔

حضرت لقمان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے بیٹے کو ایک نصیحت کی تھی۔

اے میرے پیارے بیٹے!!! اگر کوئی شخص تجھ سے آکر یہ کہے کہ فلاں شخص نے میری آنکھ پھوڑ دی اور تجھے نظر بھی آئے کہ واقعی اس کی آنکھ زخمی ہے تب بھی تو یقین نہ کرنا جب تک کہ دوسرے سے نہ پوچھ لو ۔

تو ان میں یہ بھی ایک برائی ہوتی ہے کہ ایک ہی طرف کی سن لیتی ہیں اور فیصلہ کرلیتی ہیں ۔ بدظن ہوجاتی ہیں۔ جو عورت یہ چاہتی ہے کہ اس کی عزت کی جائے، قدر کی جائے ، تو وہ دوسروں کو عزت اور قدر دینا شروع کردے ۔ دوسروں کی غلطیاں نظر انداز کرنا شروع کردے تو آسانی ہی آسانی ہوگی۔

: ٤…. بچوں کی تربیت کا خوب خیال رکھیں

بچوں کی تربیت کرنا ماں کی ایک بہت ہی اہم ذمہ داری ہے۔ اگر ماں نیک ہوگی تو اولاد بھی نیک ہوگی۔ شوہر تو سارا دن باہر ہوتے ہیں تو یہ ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے پر نظر رکھے، اس کو وقت دے، پیار محبت دے ۔ اور میری بہنوں یہ بات یاد رکھو اگر تم نے بچپن میں تربیت نہ کی تو بچپن کی کوتاہیاں پچپن میں بھی نہیں جایا کرتیں ، اور اصول بنالیں کہ کچھ وقت دونوں میاں بیوی مخصوص کریں جس میں ماں بچوں کی ساری باتیں خاوند کو بتایا کرے ۔ اور والد کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی تمام باتیں سنا کرے ۔ ایسا نہ ہوکہ وہ تو کمانے میں لگا رہے اور بچوں کو بربادی میں دھکیل دے ۔ یاد رکھیں یہ جو آپ کے بچے ہیں یہ صرف آپ ہی کے بچے نہیں بلکہ میرے پیارے نبی علیہ السلام کے امتی ہیں جن کی آپ نے تربیت کرنی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *