یہ نسل ایسےہی نہیں بگڑی اس نسل کی ماں بگڑ گئی!

Generation Spoiling
Spread the love

ملتان کے لیے کوچ کے سفر کا فیصلہ ہوا

اتنے لمبے روٹ پر کوچ کا یہ پہلا تجربہ ہے،

سفر کیا بس یوں سمجھیے کہ ہر ہر لمحہ اک احساس ندامت ہے جو شدت سے غالب ہے۔

آگے والی سیٹ پر چوبیس پچیس سال کی اک خاتون ساتھ تین سالہ بچی اور بچی کی دادی ۔۔

ابھی سفر شروع ہی ہوا تھا کہ بچی نے رونا شروع کردیا۔

ماں نے جھٹ موبائل نکالا اسمیں پہلے تو نانی کی مورنی پھر کاٹھی کے گھوڑے سے بہلانے کی کوشش کی گئی مگر جب اسمیں کامیابی نا مل سکی تو ماں نے اگلا کام یہ کی انڈین گانوں کی ویڈیوز کی اک لمبی پلے لسٹ آٹو پر لگا کر سیل بچی کے ہاتھ میں پکڑا دیا ۔۔۔!

اور دوا نے تو جیسے گویا امرت کا کام کیا تین سالہ بچی ایک دم شانت ۔۔۔

اب پوری کوچ ان گانوں سے اور ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے حضرات ویڈیو سے بھی ” محضوض ” ہوتے رہے ۔۔۔معصوم بچی بھی بدلنے منظروں مین کھو چکی تھی۔

جی چاہ رہا تھا بچی کے ہاتھ سے سیل چھین لیا جائے،

ماں تو ماں دادی پر رونا آیا کہ اک زمانے میں ماؤں سے بڑھ کر دادی نانیاں اخلاقی تربیت کیا کرتیں تھیں

مگر کیا کیجئے کہ آج کل دادی نانیوں نے بھی اپنا کام چھوڑ دیا ۔۔۔

خیر وہ بچی اسی گانوں کی آواز اور بدلتے منظروں میں سوگئی ۔۔۔

اس کے سونے کے بعد شکر ادا کیا کہ اب اس اواز سے نجات نصیب ہوگی مگر ۔۔۔۔۔ یہ بھی بس ہماری خوش فہمی تھی ۔۔۔

اب ماں کی باری تھی ۔۔

وہی لسٹ ری پلے کر دی گئی ۔۔۔ ہم نماز پڑھ کر قرآن پڑھنے میں دھیان لگانے لگے مگر توجہ با مشکل ہی لگ رہی تھی انکو متوجہ کرنے کا خیال کئی بار جھٹکا کہ کہیں یہ نا سوچیں کہ قران پڑھ کر احسان کررہی ہیں مگر بہت دیر کوشش میں ناکام ہوکر بالاخر ہمت کی اپنے داہنے ہاتھ میں سیل پکڑ کر اگے کیا اور دھیرے سے سرگوشی کی ۔۔” بہن آواز دھیرے کرلیں

 میرے قرآن پڑھنے میں مشکل ہورہی ہے

 اللہ انہیں جزا دے کہ اواز بند کردی گئی ۔۔

نماز قرآن سے فارغ ہوکر کچھ دیر کوچ میں سکون رہا ہماری بھی انکھ لگ گئی ۔۔۔

ڈھائی بجے اک اواز نے جگا دیا سکھر آگیا ہے دس منٹ کی بریک ہے جاگ جائیں سب نیچے اترے چائے پی واپس اپنی جگہیں سنبھالیں ۔

بچی اک بار پھر جاگ چکی تھی اور اسی طرح رونے کا پروگرام بنائے بیٹھی تھی ماں نے پھر سے سیل نکالا اور فرمایا

اچھا آنٹی لگا کر دیتی ہوں ۔۔۔

دادی کی گود میں بیٹھی ٹھنکتی ہوئی بچی کو گانے کے آواز پر اک دم جیسے قرار سا آگیا ۔۔۔

دادی کی اک اواز آئی کہ

 ہن بند کر چھڈ صبح تیرے دادے کا فون اسی تے بیٹری نا ہوسی

یعنی بند کرنے کی وجہ بھی بیٹری اور دادے کا فون

مگر بچی اب سیل بند بھی نہیں کرنے دے رہی تھی ۔۔

تہجد کا وقت کوچ کے ڈرائیور کے کرتبوں سے لڑھکتے گرتے سنبھلتے دعائیں کرتے ہم پھر اک بار اس پلے لسٹ کو سننے پر مجبور دکھ سے بس یہی سوچ رہے ہیں کہ

“یہ نسل ایسے ہی نہیں بگڑی اس نسل کی ماں بگڑ گئی

کبھی مائیں لوریوں رسولوں کی کہانیاں سناکر بچوں کو سلایا کرتی تھیں ۔

اج کی ماں نے کیسا آسان حل نکالا ہے مگر اسے اس بات کا ادراک نہی، کہ وہ اپنی اولاد کو کس زہر کا عادی بنا رہی ،

اسکی رگوں مین کیسا نشہ گھول رہی ۔۔۔

سچ کہا میرے رب نے ۔

ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا پھر اسکے ماں باپ ہیں جو اسے جو بھی چاہیں بنادیتے ۔

وہ یہود و نصاری ہو

بے حیا یا باحیا

باکردار ہو یا بدکردار

اس میں ماں باپ کا کتنا بڑا کردار ہوتا

اللہ پاک سب والدین کو اپنے بچوں کی سنت و شریعت کے مطابق تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین…!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *