عورت کو سمجھنے کا دعوی

عورت کو سمجھنے کا دعوی
Spread the love

تحریر: ڈاکٹر مبشر سلیم

عورت کو سمجھنے کا دعوی

کل شام بھی کچھ ایسا ہی ہوا کہ ہمارے درمیان تعلقات میں کسی بات پر سنجیدگی آگئی۔ آپ اسے کشیدگی بھی کہہ سکتے ہیں۔ چونکہ مجھے وہم کی حد تک یقین تھا کہ میرا موقف درست ہے اس لئے میں نے معذرت کرنے سے انکار کردیا لیکن میری بیگم یقین کے اگلے قدم پر تھیں اس لئے وہ اپنی بات منوانے پر تلی چکی تھیں۔

لیکن میرے ایک دوست کا کہنا ہے کبھی کبھی بیوی کے ساتھ سختی سے بھی پیش آنا چاہیئے اور اپنی بات منوا کر رہنا چاہیئے ۔اس سے تعلقات پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔ سو ہم دوست کی بات مانتے ہوئے رات کو بیگم کے کمرے میں آنے سے پہلے ہی چادر تان کر سو گئے۔
لیکن دوسری طرف بیگم کی سہیلی نے بھی کچھ میرے دوست سے ملتا جلتا مشورہ دیا تھا اس لئے نہ تو انہوں نے میرے چادر تان لینے پر حیرت کا اظہار کیا اور نہ میرے قبل از وقت سونے پر کسی تشویش کا اظہار کیا اور چپ چاپ بستر پر آکر لیٹ گئیں۔

کچھ ہی دیر میں ،میں نندیا پور میں اس مرد درویش کی تلاش میں لگ گیا جس نے عورت کو سمجھنے کا دعوی کیا تھا۔لیکن جس ذی شعور سے بھی اس کا پتا پوچھا اس نے لاعلمی کا اظہار کیا ۔

یہ بھی پڑھیں: سردار اور اس کا بیٹا 

ابھی اس ما فوق الفطرت درویش کی تلاش میں سرگرداں تھا کہ اچانک احساس ہوا کہ غنچہ صبح کھلکھلا رھا ہے۔ کسی خوش الحان کی صدا کانوں میں لطف پیدا کر رہی ہے۔ ہر چند کہ میں خوابیدہ نظاروں سے بہک رھا تھا تھا لیکن کوئی اپنی حسیں آواز میں مژدہ جانفزا سنا رھا تھا۔
خیریت ہے؟ آپ جلد سو گئے تھے؟ جو چائے کا کپ میں لے کر آئی تھی وہ بھی ویسے ہی پڑا ہے۔ ۔ میں نے کن اکھیوں سے گرد و پیش کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ میں عالم حقیقت میں آچکا ہوں ۔ اپنے بستر پر دراز اور میری بیگم اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے میرے بالوں میں کنگھی کر رہی ہیں۔

بیگم کے اس والہانہ قرب نے خرمن صبر و شکیب پر ایک خوشگوار اثر ڈالا لیکن میں نے اپنے دوست کے مشورے پر قائم رہتے ہوئے اپنی سنجیدگی کو برقرار رکھا۔اور نجیف آواز میں جواب دیا طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔
بیگم نےاسی انداز وارفتگی میں پوچھا اب طبیعت کیسی ہے؟ میں نے اپنی سنجیدگی کو برقرار رکھتے ہوئے جواب دیا پہلے سے بہتر ہے۔ بیگم نے بالوں کو سہلاتے ہوئے کہا چلیں اٹھ جائیں سحری کا وقت قریب ہے۔ وضو کر کے نفل ادا کر لیں۔

میں حیران بلکہ پریشان ۔ اے مرد سخن فہم یہ کیا ماجرہ ہے۔ کہیں داعی اجل کو لبیک کہنے کا وقت قریب تو نہیں آرھا۔ بے اختیار زبان سے یہ کلمات نکلے۔

اے خالق زمین و زماں تو قادر برحق ہے۔ اپنے بندوں کو کیسی کیسی مصیبت میں ڈالتا ہے۔ اور کیسے تو دلوں کو موم کردیتا ہے۔
سلیپر پہن کر واش روم کی طرف پہلا قدم ہی بڑھایا تھا کہ پیچھے سے بیگم کی پہلے سے زیادہ مخمور آواز بلند ہوئی۔
میری ایک بات سنیئے گا۔وضو کرنے سے پہلے کچن سے چھپکلی تو بھگا دیں۔ورنہ سحری کیسے بناؤں گی۔
یہ سننا تھا کہ میرا عورت کو سمجھنے کا دعوی ڈھیر ہو گیا۔

مزید اصلاحی اور سبق آموز کہانیاں پڑھیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *