آپ کا بچہ کیا کچھ جانتا اور محسوس کرتا ہے؟

آپ کا بچہ
Spread the love

تحریر: نیر تاباں

رات احمد اور مجھے سونے کے لئے گئے ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ باہر سے انکے بابا نے ویکیووم کلینر آن کر دی۔ “ایک منٹ ماما، میں آتا ہوں” کہہ کر احمد بیڈ سے اتر گئے۔

“بابا! ہم سونے لگے ہیں تو اسکی آواز سے disturbance ہو رہی ہے۔ آپ پلیز صبح کر لیں گے؟”
“ٹھیک ہے۔” بابا نے جواب دیا۔
“تھینک یو بابا! آپ صبح کر لینا، اچھا؟۔” دوسری بار پیار سے حل پیش کرتے ہوئے اچھلتا کودتا واپس کمرے میں آ گیا۔

احمد کے ایک جملے نے میرے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی۔ شاید آپ کو محسوس نہ ہوا ہو لیکن مجھے بےحد خوشی اسلئے ہوئی کہ پہلے دن سے جو طریقہ میرا اسکے ساتھ رہا ہے، اسکا بڑا واضح نتیجہ ابھی سامنے آیا تھا۔ دوبارہ دیکھیں:
“بابا! ہم سونے لگے ہیں تو مجھے اسکی آواز سے disturbance ہو رہی ہے۔ آپ پلیز صبح کر لیں گے؟”

صرف اتنا بھی کہہ دیتا کہ بابا، اسکو بند کر دیں، شور آ رہا ہے تو بات مکمل ہو جاتی۔ یا ساتھ میں یہ بتانے سے بھی بات پوری ہو جاتی کہ اس شور سے ہمیں تنگی ہو رہی ہے۔ لیکن ما شاء اللہ! اپنی چھوٹی سی بات میں اس نے ایک کام سے منع کیا تو نہ صرف اسکی وجہ بھی بتائی، ساتھ اسکا متبادل بھی پیش کیا۔ شروع سے میری کوشش رہی ہے کہ اگر اسکو کسی بات سے منع کروں تو منع کرنے کی وجہ اسکو بتائی جائے اور پھر کوئی متبادل بھی دوں۔

بچوں میں پڑھنے کی عادت کب سے ڈالیں اور کیسے؟

ایک بار ڈیڑھ سالہ احمد کے ہاتھ سے کچھ لینا تھا اور میں اسکو سمجھا رہی تھی کہ آئیں، اس کو یہاں رکھ دیتے ہیں کیونکہ۔۔۔ اور پھر اس ننھے سے بچے کو وضاحت دے کر کہا کہ اس کے بجائےآپ یہ لے لیں۔ اسکے بابا کہنے لگے کہ ڈیڑھ سال کا بچہ ہے۔ چیز اس سے لے کر رکھ دو، اتنی لاجکس اس کو دینے کی کیا ضرورت ہے؟ نارملی ہم سب یہی کرتے ہیں۔ بچے کے ہاتھ سے کچھ لیا اور گُمممم، چڑیا لے گئی۔

جھوٹ بھی بولتے ہیں، اعتبار بھی کھو دیا کیونکہ دو تین بار دھوکے میں آنے کے بعد بچے کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ چیز اماں نے یہیں کہیں رکھی ہے۔ بچے کو معلوم بھی نہ ہو پایا کہ اگر اسکے ہاتھ سے ایک چیز “چھین” لی گئی ہے تو آخر کیوں! اور پھر لے تو لیتے ہیں، اسکو کچھ اور نہیں پکڑاتے۔ وہ لپک کر کوئی اور چیز لگتا ہے اور ہم چڑ جاتے ہیں کہ ہر وہ چیز اسکے ہاتھ میں ہوتی ہے جس سے منع کرنا پڑے اور وہ بھی اسکے ہاتھ سے چھین کر گُمممم۔۔۔۔

کیونکہ یہ آپ کا بچہ ہے

ہمیں لگتا ہے کہ بچے چھوٹے ہیں، انہیں کیا پتہ؟ انہیں سب پتہ ہوتا ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں۔ وہ جذب کرتے ہیں۔ ہماری کہی بات، ہمارا طور طریقہ انکے لاشعور میں جگہ بنا رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کے سامنے بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ کوئی بات منع کرنی ہے تو اسکو بتائیں۔ اسکو سمجھائیں۔ کمیونیکیٹ کریں۔ تبادلہ خیال کریں۔ کہیں۔ سنیں۔ سمجھیں۔ سمجھائیں۔ کیونکہ یہ آپ کا بچہ ہے۔ یہی ان شاء اللہ ایک بہتر رشتے کی بنیاد ہے! اللہ تعالی ہمیں اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرنے والا بنائیں اور انہیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائیں۔ آمین

بدلتے حالات میں نظام تعلیم میں کون سی تبدیلیاں ضروری ہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *