توکل کا غلط مفہوم

توکل
Spread the love

توکل کیا ہے؟

ہمارے معاشرے میں بہت سارے الفاظ کا معنی اور مفہوم عجیب لیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک توکل بھی ہے۔ توکل کا معنی ہے کہ اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنا۔ تمام ممکنہ کوشش کرنا اور نتائج کو اللہ سے بہتری کی امید پر چھوڑ دینا۔ اس کا مفہوم کیسے غلط لیا جاتا ہے اس مختصر سی حکایت سے سمجھتے ہیں۔

حکایت

ایک شخص جنگل میں بھیڑوں کو اکیلے چرتا چھوڑ کر کسی کام کے واسطے شہر میں آگیا۔ جہاں اتفاق سے بڑا بھائی اس کو مل گیا۔ اس نے دریافت کیا:

 جنگل میں بھیڑوں کو کس کے حوالے کرکے آئے ہو؟

 اس نے کہا : توکل بر خدا چھوڑ آیا ہوں۔

چھوٹے بھائی نے کہا: خدا کے توکل پر بھیڑوں کے چھوڑآ نےکو غلطی بتلانا سخت بے ادبی ہے ایسا مت کہو۔

بڑے بھائی نے کہا :

کمبخت اگر بھیڑیں خدائے توکل پر چھوڑ آیا ہے تو بھیڑیے بھی تو خدا کے توکل پر پھر رہے ہیں۔ تم نے تو کل کے مفہوم کو نہایت غلط طور پر استعمال کیا ہے۔

توکل اختیار کرتے وقت رسول خدا ﷺکے فرمان کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔

 بڑے بھائی نے کہا:   تم نے یہ سخت غلطی کی۔

اونٹ کو اکیلا چرنے کے لئے گھٹنا باندھ کر  چھوڑو اور ایسے موقعوں پر ممکن لعمل تدابیر سے گریز نہ کرو۔

اس لئے ہمارے معاشرے میں توکل کا غلط مفہوم لیا جاتا ہے اس لیے اس کو چھوڑ کر توکل کا صحیح مفہوم کہ دنیا میں اسباب وسائل کو دیکھتے ہوئے خدائے برتر پر توکل کرنا چاہیے۔

 اگر اسباب اور وسائل موجود نہیں ہوں گے اور صرف توکل پر سب کچھ چھوڑ دیا جائے گا تو سخت نقصان اور خسارہ کا باعث بنے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *