قوموں کی اٹھان شعور اور خود پر یقین سے

شعور
Spread the love

شعور

اگر خود پر یقین ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔ ہم نے اس وقت کیا کچھ کر دکھایا ہے اور کیا کچھ کرنا چاہیے پہلے ایک فلم کا تذکرہ سنیۓ۔

کاتیا سے خلاصی

سن 1996 میں ایکشن سے بھرپور ایک بھارتی فلم گھاتک کے نام سے ریلیز ہوئی تھی جس میں ہیرو کا کردار سنی دیول اور ولن کا کردار ڈینی ڈینگزونپا نے ادا کیا تھا۔

فلم کی کہانی ایک چھوٹے سے شہر کے گرد گھومتی ہے جس پر ایک انتہائی طاقتور اور خوفناک مافیا کا قبضہ تھا۔ مافیا کے لیڈر، کاتیا کے خوف سے پورا شہر حتیٰ کے پولیس بھی تھر تھر کانپتی تھی۔ فلم کا ہیرو کاتیا سے بھڑ جاتا ہے پر ناکام ہوتا ہے۔ اسے ناکام اور مایوس دیکھ کر، ہیرو کا مرتا ہوا باپ اسے نصیحت کرتا ہے کہ کاتیا کو مارنا ہے، تو لوگوں میں موجود اسکے خوف کو مارو۔ یہ خوف مر گیا تو وقت آنے پر کوئی بچہ بھی کاتیا سے بھڑ جائے گا۔

فلم کے اختتامی مراحل میں، جب کاتیا اور اسکے غنڈے ہیرو کو پورے شہر کے سامنے گھسیٹ رہے ہوتے ہیں، تو ایک بچہ پتھر اٹھا کر ولن کے سر پر جڑ دیتا ہے۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے کہ خوف سے تھر تھر کانپتے، تماشائی بنے لوگوں میں کاتیا کا ڈر ختم ہوجاتا ہے اور وہ اس مافیا پر پل پڑتے اور اسکا قلع قمع کردیتے ہیں۔

مغرب سے مرعوبیت  کا مرض

اس طویل تمہید کا مقصد یہی بتانا تھا انسان اپنے دماغ میں بلاوجہ کے خوف، احساسِ کمتری اور مرعوبیت کو پالتا رہتا ہے اور ہمیشہ پیچھے رہتا ہے۔ اب کرونا اور مغربی ممالک کی مثال لیجیے۔

ہم تیسری دنیا کے ممالک ان مغربی اقوام سے بلاوجہ مرعوب رہے اور ہمیشہ ہاتھ باندھے انکے پیچھے چلتے رہے۔

مغربی اقوام ہمارے لیے کاتیا کا درجہ حاصل کرچکی تھیں۔ ہمارے ذہنوں میں یہ بات رچ بس گئی تھی کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے حوالے سے جو بھی کرنا ہے، انھوں نے ہی کرنا ہے۔ ہم کسی کھیت کی مولی نہیں۔ اتنے میں کرونا آیا اور اس نے اسی بچے کی طرح ترقی یافتہ مغربی ممالک کے ماتھے پر تباہی کا پتھر جڑ دیا۔

امریکہ سے یورپ تک بربادی کے وہ مناظر ہیں جو ہمارے کبھی خواب و خیال میں بھی نہ تھے۔ امریکہ جیسا ملک امداد اور دوائیں لوٹ رہا ہے۔ اعلیٰ اخلاقیات کی حامل مغربی عوام ٹوائلٹ پیپر پر لڑ پڑیں۔ بہترین ہیلتھ کئیر سسٹم رکھنے والے ممالک کے ڈاکٹرز کچرے کے بیگز کے سوٹ بناکر استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ بڑی بڑی فارما کمپنیوں کی دوائیں اس وائرس کے سامنے گھٹنے ٹیک گئیں۔

سیکھنے اور بیداری کا موقع

اس تمام صورتحال نے ہم پر جادو کی طرح اثر کیا اور ہم عشروں کی مرعوبیت سے باہر نکلتے دکھائی دے رہے ہیں۔

انتہائی مختصر عرصے میں ہم نے نہ صرف وینٹیلیٹر بنانے میں کامیابی حاصل کی بلکہ پاکستان کی مایہ ناز میڈیکل یونیورسٹی، ڈاؤ نے کرونا کے خلاف پہلی اینٹی باڈیز ڈرگ بنانے کا بھی بڑا دعویٰ کردیا ہے۔ یہ تمام پیش رفت نہ صرف حیران کن ہے بلکہ انتہائی قابلِ تحسین بھی۔

شعور اور یقین کی ضرورت

جو قومیں احساس کمتری اور مرعوبیت کا شکار رہتیں ہیں، وہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتیں۔ لہذا اس موقع کو غنیمت جانیں اور ان منفی سوچوں سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑائیں

بھلے یہ وینٹیلیٹرز جرمنی کے معیار کے ہم پلہ نہ ہوں، بھلے یہ کرونا ڈرگ مؤثر نہ ہو، پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ بحیثیت قوم ہم بلاوجہ کی مغربی مرعوبیت سے باہر نکلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ منزل ابھی بھی دور ہے پر اس کرونا وائرس کی بدولت ہم نے خود انحصاری اور خود پر یقین رکھنے کے عظیم راستے پر چلنا شروع کردیا ہے۔ یہ تبدیلی انتہائی اہم ہے۔

کبھی کبھی صرف ایک “پتھر” یا ایک وائرس، لوگوں کے سوچنے کے انداز کو بدل ڈالتا ہے۔

سلام پاکستان۔۔۔۔!!!!

شہزاد حسین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *