حکایاتِ مثنویء مولانا روم : فاحشہ عورت کا قتل

فاحشہ عورت کا قتل
Spread the love

ایک شخص نے ایک عورت کو قتل کر دیا۔

لوگوں نے کہا کہ یہ کیا کِیا؟ تو اس نے کہا میں نے اسکو بد فعلی میں مبتلا پایا تھا ۔ لوگوں نے کہا کہ پھر اُس شخص کو کیوں قتل نہیں کیا، کہنے لگا کہ کِس کِس کو مارتا اصل جڑ ہی معصیت کی ختم کر دی ورنہ ہر روز ایک آدمی کو قتل کرنا پڑتا۔

فائدہ:

اسی طرح نفس کو قتل کرو کہ یہ دُشمن ہے، بلکہ اسکا ضرر تو دُشمنِ جان سے بھی زیادہ ہے۔ دُشمن اگر قتل کرے تو شہید ہو مگر اِس کا (یعنی نفس کا) مارا ہوا تو دُنیا و آخرت دونوں میں ذلیل اور رُسوا ہو۔ سارے جہان سے دُشمنی صرف اسی کی وجہ سے ہے اگر اس کو قتل کر دو کوئی دُشمن نہ رہے۔

مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

کایں عدُوّ و آں حُسود و دشمن است

خود حسود و دشمنِ او آں تن است


ترجمہ:

کہ یہ دشمن، اور وہ حاسد اور مخالف ہے (حالانکہ) اسکا حاسد اور دُشمن خود وہ جسم ہے۔

یعنی ! تیرا کوئی دُشمن نہیں تیری عادات ہی خود تیری دُشمن ہیں اور تُو خود ہی اپنا دُشمن ہے اور تمام برائیوں اور عاداتِ بد کی جڑ اور اصل یہ تیرا نفس ہے جو تجھے برائیوں کا حکم دیتا ہے۔

نفس کشی

اسی لیے اہل الله نے نفس کشی کی طرف توجہ کی تاکہ نفس تمام برائیوں اور عیوب سے پاک و صاف ہو جائے۔

پس بکش اُو را کہ بہر آں دنی

ہر دمے قصد عزیزے می کنی


از وے ایں دُنیائے خوش بر تست تنگ

از پئے اُو با حق و با خلق جنگ


نفس کُشتی باز رَستی زاعتذار

کس تُرا دشمن نہ ماند در دیار!


ترجمہ:

لہذا اسی کو قتل کر، اس کمینے کی وجہ سے تو ہر وقت کسی عزیز (کی جان لینے) کا قصد کرتا ہے۔

اسی کی وجہ سے یہ بھلی دُنیا تجھ پر تنگ ہے اسی کے لیے الله اور مخلُوق سے جنگ ہے۔

اگر تُو نے نفس کو مار ڈالا عُذر خواہی سے چُھوٹ گیا۔ دُنیا میں تیرا کوئی دُشمن نہ رہے گا۔

یعنی خواہشات پر عمل کرنے ہی کے سبب تیری خلق اور حق سے لڑائی ہے۔ اگر یہ ختم ہو جائیں تو سب سے دُشمنی ختم ہو جائے گی۔

اسی طرح ایک بیماری حسد بھی ہے۔

مولانا رُوم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

خود حسد نقصان و عیبِ دیگر ست

بلکہ ز جملہ کمی ہا بدتر است


ترجمہ:

خود حَسَد ایک دوسرا عیب اور نقصان ہے بلکہ تمام برائیوں سے بُرا ہے۔

حاسد کی ایک مثال مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ  دیتے ہیں کہ دیکھو:

بُو الحکم نامش بدو  بوجہل شُد

اے بسا اہل از حسد نا اہل شد


ترجمہ:

یعنی ابوجہل نے اپنی کمتری دور کرنے کے لیے اپنی کُنیت ابو الحکم رکھی مگر حسد کی وجہ سے وہ نا اہل اور کمتر ہی رہا۔ بڑائی اس میں نہیں کہ بڑے بڑے نام رکھ لے بلکہ بڑوں کی اتباع اور انکی تعظیم بڑائی ہے۔ حاسد کو چاہئیے کہ محسود کی فضیلت کا انکار نہ کرے کیونکہ حسد سے کچھ نہیں ہوتا خدا تعالٰی جسکو جو فضیلت دینا چاہتا ہے وہ اسی کو ملتی ہے۔

یکم رمضان المبارک ۱۴۴۱ ھ۔ ۲۵اپریل۲۰۲۰ء۔ ہفتہ

مُرتجز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *