کیا آپ نے کبھی سانس لیا ہے…؟

کیا آپ نے کبھی سانس لیا ہے
Spread the love

تحریر: جاوید اختر آرائیں

میں نے جب یہ سوال
جامع علوم ملتان کے چار سو طلباء سے کیا
جواب میں ایک زور دار قہقہہ لگا..!
سارے طلباء اور اساتذہ مسکرائے
کہ یہ کیسا عجیب سوال ہے…!
سانس تو ہم سب لیتے ہی ہیں نہیں لیں گے تو
کہانی ختم ہوجائے گی…!

اب میں نے
بچوں کو درست انداز میں سانس
لے کر دکھایا
پانچ سیکنڈ میں ناک سے کھینچنا
پانچ سیکنڈ روکنا
پانچ سیکنڈ میں منہ سے خارج کرنا

اب پھر سوال کیا
ایسا گہرا سانس کبھی لیا ہے..؟
اس بار مکمل خاموشی تھی
چار سو بچوں میں سے ایک نے بھی ہاتھ نہیں اٹھایا
سوائے اساتذہ میں سے دو نے..!
سچ یہ ہی ہے۔

آپ دس افراد سے معلوم کیجئے
ایک یا دو ہونگے جو صبح فجر کے بعد پارک میں یا واک کرتے ہوئے اس طرح گہرے سانس لیتے ہیں۔
ہمارے جسم کو
ایک منٹ میں بارہ لیٹر آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے
اور یہ جو ہم آٹومیٹک سانس، جو بخود چل رہا ہوتا ہے۔

اس طرح صرف آٹھ لیٹر آکسیجن فی منٹ انہیل کرتے ہیں
یعنی ہر ایک منٹ میں چار لیٹر آکسیجن کا قرضہ چڑھتا رہتا ہے
قرض کسی قسم کا ہو
رقم یا سانس کا بہرحال ادا کرنا پڑتا ہے۔

آج اور ابھی سے
سانس لینے کا درست انداز
اپنا لیجیے
دن میں پانچ بار ہر نماز کے بعد
پانچ پانچ منٹ گہرے سانس لیجیے
پانچ سیکند ناک سے کھینچنا ہے
پانچ سیکنڈ روکنا ہے
پانچ سیکنڈ میں منہ آہستہ آہستہ خارج کریں۔

یہ بھی پڑھیں: چوٹ لگنے پر سب سے پہلے آئیس تھراپی

سانس لیتے وقت پیٹ پھولنا چاہیے
اور سانس خارج کرتے وقت پیٹ دبنا چاہیے
دن میں
جب موقع ملے گہرے سانس لیتے رہیں
بچوں، اہل خانہ اور دوست احباب کو سکھائیں
خاص طور پر جب کوئی خوف، ڈپریشن، اینگزائٹی میں ہو
کوئی امتحان، انٹرویو یا سفر درپیش ہو۔

Inhaling and

دیکھئے
آکسیجن کی طلب پوری کئیے بغیر
پانی، غذا، دوا کوئی بھی علاج
جسم کا کوئی فنکشن اپنا کام درست انداز میں انجام
نہیں دے سکتا
آج کی تازہ سائنسی تحقیقات بتاتی ہیں
صرف سانس لینے کی ایکسرسائز سے
تمام تر جسمانی و نفسیاتی امراض ٹھیک ہوسکتے ہیں۔

بس شروع ہو جائیں
سانس کا قرض اتاریں
صحت مند رہیں
اور ہمارے ساتھ شامل ہو کر
صحت کے برانڈ ایمبیسڈر بن جائیں
اس پیغام کو ساری دنیا میں پھیلا دیں۔

جاوید اختر آرائیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *