اندرسے: اتنے میٹھے جتنا حکومت کے لیےغریبوں کا خون

اندرسے
Spread the love

تحریر: ابن فاضل

یہ اندرسے ہیں. حالانکہ باہر سے لائے گئے ہیں. یہ شاید دنیا کی واحد شے ہے جسے باہر سے بھی اندرسے کہا جاتا ہے. اندرسے، اندر سے سفید ہوتے ہیں اور باہر سے براؤن. لیکن اس وجہ سے انکو اندرسے نہیں کہتے ہوں گے کیونکہ ایسے تو ناریل بھی اندر سفید اور باہر سے براؤن ہوتے ہیں. جبکہ انکو تو ناریل کہتے ہیں. شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ناریل بڑے ہوتے ہیں اور بڑوں پر ہمارا زور کبھی بھی نہیں چلتا۔

دیکھا جائے تو اندرسے بالکل اچھے انسانوں کی طرح ہی ہوتے ہیں باہر سے براؤن اور اندرسے اجلے اور نرم گرم . اسی لیے ہمیں اتنے اچھے لگتے ہیں. اتنے اچھے لگتے ہیں کہ اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ ‘وہ’ یا اندرسے… تو ہم ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کہہ دیں گے… ” وہ ” … والے اندرسے

اندرسے اجلے ہونے کے علاوہ ان کی دوسری خوبی میٹھا ہونا ہے. میٹھا ہمیں اتنا پسند ہے کہ گرمیوں میں “میٹھے” اتنی ہی رغبت سے چوستے ہیں جتنی رغبت سے سرکار غریبوں کا خون چوستی ہے. حالانکہ وہ صرف نام کے میٹھے ہوتے ہیں. کام کے میٹھے تو آم ہوتے ہیں. لہٰذا آموں کے ساتھ بھی ہم بالکل وہی سلوک کرتے ہیں جو حالیہ یدھ میں چینی فوجیوں نے بھارتیوں کے ساتھ روا رکھا. یعنی کچا کھا جاتے ہیں. گو کہ کچے آم تو میٹھے بھی نہیں ہوتے. مزید برآں، میٹھے سے ہماری محبت کا یہ عالم ہے کہ جو بھی ہمیں اچھا لگے اسے ہم میٹھا سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں. بس اسی اصول پر ہم سال بھر خان صاحب کو اور شباب بھر گبریلا سباٹینی اور سنڈی کرافورڈ کو میٹھا سمجھتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: تحم ملنگا صحت کے لیے بہترین

اندرسوں کی اوج پسندیدگی کی وجہ ثالث ان کی تل برداری ہے. تلوں سے انسیت بھی دیرینہ ہے. نہیں معلوم اس کے پیچھے بچپن کی براؤن معطرگرم کلچوں کی بھینی خوشبو کی یادیں ہیں یا ہمارا بپچنا، بہرحال تلوں والی کوئی چیز ہمیں نہ ملے تو ہم تلملا اٹھتے ہیں. نادان لوگ تو کہتے رہتے ہیں کہ ان تلوں میں تیل نہیں.. لیکن ہمیں ایسا کوئی تل آج تک نہیں ملا کہ جس میں تیل نہ ہو. ہوسکتا ہے ان کا اشارہ اس تل کی طرف رہا ہو جس کو شاعر نے قرون وسطیٰ سے “حسن کا دربان” مقرر کررکھا ہے. لیکن پھر بھی ایسا کہنا درست نہیں کیونکہ بہت سوں کی عقل ایسے تل دیکھتے ہی تیل لینے نکل جاتی ہے. اور کچھ کا تیل ایسے تل برداروں کی نازبراداری میں نکلتا رہتا ہے. اب بھی اگر تل کی اہمیت سے آگاہ نہیں تو آپ پر لازم ہے کہ آپ بھی پہلی فرصت میں سنڈی کرافورڈ کی نیلم و منیر تصاویر ملاحظہ فرمائیں۔

صاحبان علم کہتے ہیں کہ ایک ایکسرے کو بھی ایکسرا نہیں کہتے. لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایک اندرسے کو اندرسا کہ سکتے ہیں کہ نہیں. یا شاید یہ خامشی یوں بھی ہو کہ ایک اندرسے سے نہ نیت بھرتی ہے نہ پیٹ. جیسے مزرا صاحب کہا کرتے تھے آم ہوں اور بہت سے ہوں. ان کے خواہش کے احترام میں اردو ادب میں آم کی واحد جمع آم ہی ہے. عین ممکن ہے کہ فقیہان ادب ہماری خواہش کے احترام میں انکو بھی اندرسے ہی رہنے دیا جائے. تب تک ہم ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

About احمد سلیم ابن فاضل

View all posts by احمد سلیم ابن فاضل →

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *