بی بی جیوندی (Bibi Jawindi) کا مقبرہ۔

بی بی جیوندی
Spread the love

تحریر: ڈاکٹر مبشر سلیم

بی بی جیوندی کے مقبرے کی آوارہ گردی

مجھے مسجد کے لکڑی کے ستونوں کی کاریگری میں مہبوت دیکھ کر وہ صاحب میرے پاس آئے اور سبز رنگ کی چادر میرے گلے میں ڈال دی اور میں ہڑبڑا کر ان کی طرف متوجہ ہوا تو پوچھنے لگے۔
کہاں سے تشریف لائے ہیں؟
میں نے جواب دیا ۔ فیصل آباد سے۔۔

اور ساتھ ہی وضاحت کی۔ بی بی جیوندی کے مقبرے کے آرکیٹیکچر بارے بہت سنا تھا ۔ بس وہ دیکھنے آئے ہیں ۔۔
جس پر سر انکار میں ہلاتے ہوئے بولے۔۔
یہاں کوئی اپنی مرضی سے نہیں آتا۔
جب سرکار یاد کرتے ہیں تو بندہ پہنچ جاتا ہے۔ انسان کی اپنی مرضی کہاں؟

اور میرا بازو پکڑ کر ایک قبر پر لے گئے ان کی صفات بیان کیں۔ معجزے گنوائے اور دعا کروائی۔۔جس کا لب لباب یہ تھا کہ جس مزار کو دیکھنے آپ آئے ہیں ۔ وہ بزرگی میں ان بزرگوں کے سامنے کچھ بھی نہیں تھے۔۔
ان کیلئے دعا کروانے کے بعد ایک برتن سے نمک نکالا اور ایک کاغذ میں لپیٹ کر حوالے کرتے ہوئے بولے۔ اپنی مرضی سے جتنا مناسب لگے، نذرانہ مجھے پکڑا دیں۔ میں لنگر میں آپکا حصہ ڈال دوں گا۔

اتفاق سے پرس گاڑی میں رہ گیا تھا۔ میں نے پرس کے بارے بتا کر معذرت کی کہ ادھر میرے ساتھ دوست ہیں۔ وہ ابھی آتے ہیں تو حصہ ڈالتا ہوں۔

کہا جاتا ہے بہاولپور سے کوئی ستاسی کلومیٹر کے فاصلے پر سکندر اعظم نے دریائے سندھ اور چناب کے سنگم پر ایک شہر آباد کیا تھا۔ بعد میں اس شہر کو محمد بن قاسم نے فتح کیا۔ اس کے بعد محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری کے قبضے میں رھا۔ ۔ اور آج اس شہر کو اوچ شریف کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اور اوچ شریف میں جس جگہ میں موجود ہوں ۔یہ دراصل جلال الدین بخاری کے مزار کا کمپلکس ہے۔ یہاں ایک مسجد ہے اور ایک بہت بڑا ہال ہے جس میں بے شمار قبریں موجود ہیں۔ یہاں پر بہت سے لوگوں کے مزار موجود ہیں۔ کچھ کے اوپر گنبد بنا ہوا ہے اور کچھ پر نہیں۔ جلال الدین بخاری کا مقبرہ بھی بنا گنبد کے ہے۔

اسی جگہ موجود بی بی جیوندی کے مقبرے کے فن تعمیر کی شہرت عالمی حلقوں میں گونجتی دکھائی دیتی ہے۔ اور یونیسکو نے اسے عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔

106
مسجد کی چھت کی تزئین و آرائیش جاری ہے۔

مسجد کی چھت کی تزئین و آرائیش جاری تھی اور اسے گرا کردوبارہ تعمیر کیا جارھا تھا۔ لکڑی کے ستون اور دیواروں پر موجود مینا کاری اگرچہ شکستہ حالی کا شکار تھی لیکن دیدہ زیب تھی۔ مسجد میں رکھا لکڑی سے بنا ایک قدیم ممبر بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ دیوار پر ایک جگہ فارسی میں ایک شعر کندہ تھا۔

آپکے دوست ابھی آئے نہیں؟
میں نے ادھر ادھر نگاہ ڈال کر ان کو ڈھونڈا لیکن مجھے نظر نہ آئے۔ آتے ہی ہونگے۔

برآمدے میں آگ جلا کر اس کے گرد کچھ مست ملنگ بیٹھے تھے۔ ان کے پاس سے گزر کر بڑے ہال میں داخل ہوگیا۔ جس کے اندر کے منظر نے طبیعت پر ایک عجیب وحشت طاری کر دی۔ ۔ ایک بہت بڑے ھال میں بیسیوں قبریں موجود تھیں۔ بلب کی زرد روشنی میں لکڑی کی چھت تلے اس گھٹن زدہ ماحول کو زیادہ دیر برداش نہ کر سکا اور باہر نکل آیا۔

آپکے دوست نہیں پہنچے؟ باہر نکلتے ہی ان صاحب سے ایک بار ہھر ٹاکڑہ ہوگیا۔

اور میں جلدی سے کمپلیکس سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈنے لگا۔ ادھر ادھر جھانک رھا تھا کہ تیرہ چودہ سال کا ایک لڑکا نظریں کیمرے پر جمائے میرے پاس آیا۔۔
آپ نے بی بی جیوندی کا مقبرہ دیکھنا ہے؟
اور میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے مجھے اپنے پیچھے آنے کو کہا۔

مرکرزی دروازے پر پہنچا تو وہی صاحب میری طرف لپکے۔مجھے لگتا ہے۔ آپ کے دوست ادھر مسجد کے ہال میں موجود ہیں۔ اور میں نے لڑکے کے پیچھے دوڑ لگا دی۔

عالم اسلام کی عظیم مساجد کے بارے میں پڑھیں۔

ایک قبرستان کے ساتھ بنے رستے پر چلتے ہوئے لڑکے نے مجھے بی بی جیوندی کے معجزے سنانا شروع کئے۔ سیلاب سے شہر کو بہت نقصان پہنچتا تھا اور بی بی نے دریائے سندھ کو سیلاب سے روک دیا۔
سورج غروب ہونے کے قریب تھا اور دھند کے آثار بھی تھے۔ اور میں نے جلدی سے اپنی فوٹو گرافی مکمل کرنے کی ٹھانی۔ روشنی کی اہمیت ایک فوٹوگرافر سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔ اور سورج تقریبا ڈھل چکا تھا ۔۔۔۔۔

یہاں پر بی بی جیوندی کے علاوہ بھی دو مقبرے موجود ہیں ۔ ایک استاد نوریا اور دوسرا بہاول حلیم کا مقبرہ۔ بی بی جیوندی جلال الدین بخاری کی پوتی تھی۔ جلال الدین کو سرخ پوش کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اولیااللہ میں ان کا بہت مقام گنا جاتا ہے۔ بہاول حلیم جن کا مقبرہ بی بی جیوندی کے ساتھ ہے۔ جلال الدین کے استاد تھے۔

تمام مقبرے اپنی کاریگری اور منفرد فن تعمیر کا ایک منہ بولتا ثبوت ہیں۔۔ مائی جیوندی کا مقبرہ حالت میں دوسرے مقبروں سے ناصرف بہتر ہے بلکہ اس پر استعمال ہونے والی نیلی ٹائلوں کے ساتھ ساتھ سرخ ٹائل کا استعمال بہت متاثر کن ہے۔1494 میں تعمیر ہونے والے اپنی نوعیت کے بی بی جیوندی کے اس منفرد مقبرے کی تعمیر کا خرچہ ایرانی شہزادے دلشاد نے اٹھایا تھا۔ ۔ دور سے مقبرہ کی شباہت ملتان میں رکن الدین عالم کے مزار سے ملتی ہے۔ لیکن قریب سے دیکھنے پر اس کا ڈھانچہ عام مقبروں کے برعکس ایک علامتی عمارت کا دکھائی دیتا ہے۔

رہبر لڑکے نے بتایا کہ 1817 میں آنے والے سیلاب نے اس پورے کمپلکس کو تباہ کردیا تھا۔ اگرچہ مقبروں کو بحال کردیا گیا لیکن پورے کمپلکس کو دوبارہ اپنی اصل حالت میں کبھی واپس لانے کی کوشش نہیں کی گئی۔۔

میں چلتے چلتے ایک دم رک گیا۔
لیکن سندھ کا سیلاب روک کر شہر کو بچانے کا تھوڑی دیر پہلے سارا کریڈٹ بی بی کو دیا جا رھا تھا؟

One Comment on “بی بی جیوندی (Bibi Jawindi) کا مقبرہ۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *