صدقہ خیرات

صدقہ خیرات
Spread the love

صدقہ خیرات۔۔ حق یا صرف ردِ بلا

تحریر بشارت حمید

ہم عام طور پر کسی مصیبت کا شکار ہونے سے محفوظ رہیں یا کسی ناگہانی حادثے سے بچ جائیں تو اکثر لوگ صدقہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یا ہم اگر صدقہ خیرات کرتے بھی ہیں تو آفات و بلیات سے بچاو کو ذہن میں رکھتے ہوئے کرتے ہیں۔

لیکن اللہ نے تو قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر اپنے مال میں سے مساکین اور سائلین پر خرچ کرنے کا حکم دیتے ہوئے اسے ان کا حق قرار دیا ہے۔ ہمیں اس بات کو ذہن نشین کرتے ہوئے بخوشی ان کا حق ان تک پہنچانا چاہیئے نہ کہ ہلکا پھلکا خرچ کرکے ہم خود کو حاتم طائی سمجھتے رہیں۔

ایک اور بڑی کنفیوژن سائل کے متعلق رہتی ہے۔ جو سوالی ہے وہ سائل ہے۔ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ اس کا شجرہ نسب معلوم کیا جائے یا اس کے گھر میں گھس کر چھان بین کی جائے اور اس کے بعد اسے کچھ دیا جائے۔ جو بھی سوال کرتا ہے وہ سائل ہے اور اسے جھڑکنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
البتہ زیادہ بہتر ہے کہ اپنے قرب و جوار میں مساکین اور ضرورت مندوں کی مدد خاموشی سے کر دی جائے تاکہ اُنکی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو۔ جو پیشہ ور سوالی محسوس ہو اگر توفیق ہے تو اسے بھی دے دیا جائے ورنہ اچھے طریقے سے معذرت کر لی جائے۔ اللہ نے اجر نیت پر دینا ہے تحقیق کرنے پر نہیں۔ اگر کوئی دھوکہ دھی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر آئے گا۔ دینے والے کا اجر محفوظ رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: جب دینو نے اللہ کی دعوت کی کہانی

ذرا سورہ الذاریات کی آیات کا لطف لیجئے جن میں اللہ اپنے جنتی بندوں کا تذکرہ فرما رہے ہیں کہ وہ دنیا میں کن اوصاف کے مالک تھے۔۔

یا اللہ ہمیں ان نیک لوگوں میں شامل ہونے کی ہمت اور توفیق عطا فرما۔۔۔

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات
آیت نمبر 15

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ فِىۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۞

ترجمہ:
بےشک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں (عیش کر رہے) ہوں گے

آیت نمبر 16

اٰخِذِيۡنَ مَاۤ اٰتٰٮهُمۡ رَبُّهُمۡ‌ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ مُحۡسِنِيۡنَؕ‏ ۞

ترجمہ:
اور) جو جو (نعمتیں) ان کا پروردگار انہیں دیتا ہوگا ان کو لے رہے ہوں گے۔ بےشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے

آیت نمبر 17

كَانُوۡا قَلِيۡلًا مِّنَ الَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:
رات کے تھوڑے سے حصے میں سوتے تھے

آیت نمبر 18

وَبِالۡاَسۡحَارِ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:
اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے

آیت نمبر 19

وَفِىۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ ۞

ترجمہ:
اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا۔

بہشتوں میں وہ لوگ ہوں گے جن کے مندرجہ بالا اوصاف اول الذکر رات کو نیند کی قربانی دے کر اللہ کے حضور کھڑے ہونا اور بخشش مانگنا۔ اور دوسرا وصف کہ ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مال میں سے خرچ کرنا ضروری امر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *