حوصلے اور مستقل مزاجی کی ایک داستان

مستقل مزاجی
Spread the love

تحریر: ڈاکٹر مبشر سلیم

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو بچے کہیں کھیل رہے تھے۔کھیلتے کھیلتے ایک بچہ کنوئیں میں گر گیا۔ دوسرا بچہ ایک رسی لایا اور اس کی مدد سے بچے کو باہر نکال لیا۔ گاٶں جا کر دونوں نے یہ واقعہ سب کو سنایا تو کسی نے یقین نہیں کیا کہ اتنا چھوٹا بچہ اپنی ہی عمر کے بچے کو کھینچ کر کنویں سے باہر نکال سکتا ہے۔

لیکن ایک سیانے نے کہا یہ سچ کہہ رہے ہیں اور ایسا ممکن بھی ہے کیونکہ اس کو وہاں کوئی یہ بتانے والا نہیں تھا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔

لیکن مظہر کاٹھیہ اتنا خوش قسمت نہیں تھا۔ اس کو یہ بتانے والے لوگ بھی بہت تھے کہ ایسا ناممکن ہے اور تمسخر اڑانے والے بھی بہت کہ مٹی سے بنا سٹیڈیم زیادہ دن قائم نہیں رہے گا۔ لیکن اس کی لگن نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔۔ نہ صرف یہ کہ سٹیڈیم وجود میں آیا بلکہ گزشتہ چودہ ماہ سے قائم دائم، رونقیں دکھاتا، جمگاتا اور مایوسیوں کو بھگاتا نظر آتا ہے۔

ایک دور تھا کہ سرکاری سکولوں اور کالجوں میں گراٶنڈز موجود ہوا کرتے تھے جن میں نوجوان اپنی جسمانی صلاحیتوں کو بروے کارلایا کرتے تھے۔۔ یہ جسمانی کھیل ان کو زندگی میں مثبت سوچ پیدا کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے اور ان میں عملی زندگی کیلیے سپورٹس مین شپ، مقابلے کی لگن، قربانی اور باہمی تعاون جیسی مثبت عادات پیدا کرتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ گراٶنڈز عمارتوں کی تعمیر کی وجہ سے ختم ہوتے جارہے ہیں اور موبائل کلچر نے کھیلوں سے نوجوانوں کا رشتہ ویسے ہی ختم کر دیا ہے۔

مظہر کاٹھیہ سے میری پہلی ملاقات پانچ سال پہلے اس وقت ہوئی جب وہ کمالیہ خان دے چک کے قریب راوی دریا پر بنے بند دکھانے لیکر گیا۔  دھیما مزاج کا حامل، کم گو اور شخصیت میں ایک ٹھیراٶ ہے۔ مختصر بات لیکن جامع بات کرتا ہے جیسے کوئی ناصح کسی ڈرامے کے ڈائیالاگ بول رھا ہو۔۔

مزید ملاقاتوں میں اس کی شخصیت کے کچھ اور پہلو سامنے آۓ تو جہاندیدہ بندہ دکھائی دیا۔ ہر فن مولا ہے اور پریشان ہونے کا تو جیسے پتہ ہی نہیں۔  ہمیشہ پر امید اور سب ٹھیک ہو جاۓ گا پر یقین رکھنے والا۔ اور پھر آوارہ گردی کے کچھ ٹورز کا حصہ بھی بنا۔

اس کی دلیری کی بھی داستانیں ایسی ہیں کہ ان پر کئی کہانیاں لکھی جا سکتی ہیں۔  لیکن آج بات ہوگی۔ اس سٹیڈیم کی جو اس نے خان کا چک کمالیہ میں تعمیر کروایا۔

دسمبر 2019 کی ایک شام مظہر کاٹھیہ جو والی بال کا کھلاڑی رہ چکا ہے ۔ اپنے ایک دوست ندیم احمد بھدرو جوکہ ایک پولیس ملازم اور خود بھی سپورٹس مین ہیں کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا کہ سٹیڈیم کا آئیڈیا ان کے ذہن میں آیا۔اور اسی وقت اس خیال کو عملی جامہ پہننانے کی ٹھان لی۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ نے کبھی سانس لیا ہے…؟

چونکہ ایسی مثال پورے علاقے میں کوئی موجود نہیں تھی تو پہلے ڈرائینگز کی مدد سے خاکے بنائے گئے۔اور سٹیڈیم کو کاغذ پر کھڑا کیا گیا۔۔ جب کام شروع کیا تو بار بار مٹی ساتھ دینے سے انکار کر دیتی۔ کبھی بارش آکر سارا کھیل بگاڑ دیتی۔ اور اسپر مستزاد یہ کہ لوگوں کی باتیں اور قہقہے کسی نشتر کی طرح ارادوں کو متزلزل کرنے لگتے۔لیکن ان سب مسائل کے باوجود ٹریکٹروں اور مزدوروں کی مدد سے دن رات کام ہوتا رھا۔ اور پانچ ماہ کی مسلسل کوشش کے بعد سٹیڈیم کی اصل شکل سامنے آ گٸ۔

۔ درمیان میں والی بال کا گراٶنڈ اور چاروں اطراف تماشائیوں کے بیٹھنے کیلئے سیڑھیاں اور ایک داخلی دروازہ۔واپڈا سے بجلی کا کنیکشن حاصل کرنا ایک الگ اور کٹھن مرحلہ تھا لیکن بہرحال جون 2019 میں اس سٹیڈیم کا افتتاح ہوگیا۔۔ اور اب یہ سٹیڈیم گورنمنٹ سے منظور شدہ ہے۔

اور وہ نوجوان جن کے پاس اپنی توانائیاں خرچ کرنے کو کوئی جگہ نہیں ملتی تھیں اب جوق در جوق اس سٹیڈیم میں آنے لگے۔ اور پچھلے چودہ ماہ سے شام چار بجے سے لیکر رات بارہ ایک بجے تک علاقے بھر کے نوجوانوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔۔

اس سٹیڈیم کے حوالے سے مظہر کاٹھیہ سے جب بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ اب تک ملکی سطح کے دس بڑے میچ یہاں ہو چکے ہیں اور بے شمار مقامی ٹورنامنٹس بھی ہوۓ ہیں۔ اس سٹیڈیم کے قائم ہونے کے بعد نوجوانوں کے درمیان جھگڑوں اور مقامی وارداتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

یقینا ایسے قابل فخر لوگ نہ صرف ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں بلکہ قابلِ تقلید بھی ہیں کہ جو اپنی مثبت سوچ سے معاشرے کی بہتری اور تعمیر کیلیے عملی کوشش کرتے ہیں۔اور مظہر کاٹھیہ جیسے افراد ہی ہمارے معاشرے کا روشن چہرہ اور قیمتی اثاثہ ہیں۔

دیے سے یوں دیا جلتا رہے گا
اجالا پھولتا پھلتا رہے
سکوں ہو بحر میں یا ہو تلاطم
گہر تو سیپ میں پلتا رہے گا
زمیں پر بارشیں ہوتی رہیں گی
سمندر ابر میں ڈھلتا رہے گا

میم سین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *