خوشی اور غم میں حواس پر قابو رکھناکیوں ضروری ہے؟

خواص پر قابو
Spread the love

تحریر: ڈاکٹر مبشر سلیم

دسمبر کی چھٹیوں کا اعلان ہوا تو میں نے بھی ہوسٹل سے گھر جانے کی ٹھانی۔ ان دنوں پنجاب بھر کو جانے والی ویگنوں اور کوسٹروں کے اڈے لاہور کے ریلوے اسٹیشن کے ارد گرد پھیلے ہوئے تھے اور میں بھی گھر جانے کیلئے ایک کوسٹر میں سوار ہو گیا۔ جو ابھی مسافروں سے بھری نہیں تھی۔

کوسٹر کو اڈے پر کھڑا رکھنے کیلئے مختص ٹائم ختم ہو رہا تھا۔لیکن مسافروں کی مطلوبہ تعداد ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی ا ور اڈے کا منشی بار بار گاڑی کو نکالنے کا کہہ رہا تھا اور ڈرائیور اس امید پر تھاکہ ایک آدھ مسافر اور مل جائے تو پھر نکلیں گے۔ اتنے میں کوسٹر کے کنڈیکٹر نے ایک نئے شادی شدہ جوڑے کو کوسٹر میں سوار کروایا اور خود ان کا سامان چھت پر رکھنے لگا۔ لڑکا شکل سے سے کوئی پچیس سال اور لڑکی یہی کوئی سترہ اٹھارہ سال کی دکھائی دے رہی تھی۔

سنہری کڑھائی والے لال سوٹ اور چمکدار ڈوپٹے کے ساتھ لڑکی اور نیا کلف والا کاٹن کا سفیدسوٹ پہنے لڑکا میری اگلی خالی سیٹ پر آکر بیٹھ گئے۔ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام رکھا تھا اور حواس قابو میں نہ تھے۔ اور سیٹ پر بیٹھنے کے بعد بھی دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔ جونہی وہ اپنی سیٹو ں پر بیٹھے ڈرائیور نے گاڑی اڈے سے نکال لی۔

کچھ دیر بعد ان کے حواس بہتر ہوئے تووہ ایک دوسرے میں ایسے کھو چکے تھے کہ انہیں کوئی خبر نہیں تھی کہ وہ کہاں ہیں اور کون کون ان کو دیکھ رہا ہے.

جس گھر میں ہم گئے تھے کیا یہ تمہاری خالہ کا اپنا ہے ؟ لڑکے نے اپنی ساتھ بیٹھی لڑکی سے پوچھا
ہاں۔ یہی نہیں بلکہ ان کا ایک گھر جوہر ٹاؤن میں بھی ہے۔لڑکی نے جواب دیا۔ تو انہوں نے تیرے گھر والوں سے تیرا رشتہ کیوں نہیں پوچھا ؟ محمد علی بھی تو جوان ہے۔ اپنا کاروبار ہے۔ لڑکے نے پھر کریدا۔

لیکن لڑکی نے لاپرواہی سے جواب دیا
مجھے کیا پتا؟ مجھے تو صرف یہ پتا ہے کہ میں اب تمہارے ساتھ ہوں اور لڑکے کے چہرے پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔

گھر کب پہنچیں گے؟ اب کے لڑکی نے بے چینی میں پوچھا. مجھے کیا پتا میں تو خود پہلی بار لاہور آیا ہوں ۔آتے ہوئے تو تین گھنٹے لگ تھے۔
لڑکی نے ایک بار نظر بھر کر باہر پھنسی ٹریفک کو دیکھا اور پھر اپنا رخ لڑکے کی طرف موڑ کر بیٹھ گئی اور بولی ۔

سماجیات: رشتہ مانگنے سے شادی کے مہمانوں تک

لہور تو بہت بڑا شہر ہے جب میں بہت چھوٹی تھی شائد دوسری یا تیسری میں پڑھتی تھی تو اس وقت پہلی بار خالہ کے گھر آئی تھی۔ تب وہ سمن آباد والے گھر میں رہتے تھے جو کرائے پر تھا۔ لیکن جب خالو جی دبئی چلے گئے تو یہ علامہ اقبال ٹاؤن والا گھر خرید لیاتھا۔ خالہ نے ہمیں لہور کی خوب سیر کرائی تھی۔ چڑیا گھر بھی گئے تھے، اور بادشاہی مسجد بھی دیکھی تھی اماں نے داتا دربار پر دیگ بھی چڑھائی تھی اور انار کلی سے مجھے چوڑیاں بھی لے کر دیں تھی۔ مینار پاکستان کو بس دور سے دیکھا تھا۔ جب اگلی بار تیرے ساتھ لہور آؤں گی تو پھر خالہ کو ساتھ نہیں لائیں گے۔اور ہم دونوں خوب سیر کریں گے ۔

لڑکی بولتی رہی اور لڑکے نے لڑکی کا ہاتھ تھامے رکھا اور اس کی آنکھوں میں جھانکتا رہا۔

تو مجھے یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑکے کیوں دیکھ رہا ہے ؟۔ لڑکی نے بات کرتے کرتے رک کر پوچھا تو لڑکا ایک دم شرما گیا اور نیچی نظروں کے ساتھ بولا میں سوچ رہا تھا میں نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میری شادی تیرے جیسی سوہنی لڑکی کے ساتھ ہوگی

اور لڑکی نے ایک ہاتھ سے لڑکے کے کندھے کو جھٹکتے ہوئے بولی ۔زیادہ مکھن نہ لگا تو بھی تو اتنا سوہنا ہے۔

جب پھوپھی نے میری منگنی توڑی تھی تو میں نے قسم کھائی تھی میں نے اب کسی سے بیاہ نہیں کرنا۔ کیا پتا تھا مجھے تیرے جیسا چاہنے والا ملنے والا ہے۔ اماں کو اعتراض تھاکہ تمہارا اپنا گھر نہیں ہے۔ پر ابا نے تیرا دل دیکھ لیا تھا کہ تو میرا کتنا خیال رکھے گا اس لئے اماں سے لڑ کر ہاں کر دی تھی

لڑکی نے گردن گھما کر شیشے سے باہر دیکھا اور بولی رمضان، جب ہم آئے تھے تو یہ اتنی اونچی والی اور خوبصورت عمارت آئی تھی؟۔
تجھے کونسا ہوش تھا؟ لڑکے نے ہنس کر کہا اور لڑکی نے شرما کراپنا ہاتھ لڑکے کے ہاتھ سے چھڑا لیا۔
شادی والے دن مہندی کس نے لگائی تھی اب کے لڑکے نے بات کا آغاز کیا

میری سہیلی صائمہ نے۔۔لڑکی نے اپنا ہاتھ دوبارہ لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا۔
کونسی؟ لڑکے نے تھوڑا سا بے تکلف ہوتے ہوئے پوچھا
وہی جس نے تمہارا جوتا چھپایا تھا۔ لڑکی نے تھورا سا جھجک کر جواب دیا تو لڑکے نے قہقہ لگا یا اور بولا
شیطان کہیں کی! پورے پانچ سو میں واپس ملا تھا مجھے۔

جب ہم آئے تھے تو اتنے بڑے پل سے گزرے تھے؟ لڑکی نے تھوڑا ساپریشان ہو کر پوچھا اور جسم گھما کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
لڑکے نے کندھے سے پکڑ کر اسے اپنی طرف گھمایا اور بولا۔ تو کون سا روز سفر کرتی رہی ہے جو تجھے راستے یاد رہتے ہونگے؟۔

تو یہ بتا جب دودھ پلائی کی رسم ہو رہی تھی تو وہ لال سوٹ والی لڑکی جو بار بار تیرے کان میں کچھ کہتی تھی وہ کون تھی؟
لڑکی نے حیرانی سے پوچھا کون ؟
وہ جس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس گرکر ٹوٹ گیا تھا؟
رانی نام ہے۔ ہمارے محلے کی ہے۔ باجی کلثوم کی بھانجی ہے جنہوں نے مجھے شادی والے دن تیار کیا تھا۔

اچھا۔ تو وہ بار بار تیرے کان میں کیا کہتی تھی؟ لڑکے نے تھوڑے سے والہانہ انداز میں پو چھا تو لڑکی شرما کر بولی
میں کیوں بتاوں۔
اور گھوم کر کھڑکی سے باہر دیکھا تو بولی رمضان ،جب ہم آئے تھے تو یہ نرسریاں، تو نے دیکھی تھیں؟
لڑکے نے اسے اپنی طرف کھینچا اور ہنس کر بولا مجھے تیرے علاوہ کسی چیز کی ہوش ہوتی تو میں باہر کی کوئی خبر رکھتا۔۔

اور لڑکی نے پرس میں سے بسکٹ کا ایک پیکٹ نکالا اور اس میں سے دو بسکٹ نکال کر لڑکے کو دیتے ہوئے بولی۔ منیر کو فوج میں بھرتی ہوئے کتنا عرصہ ہو گیا ہے؟ اس کی شادی کب کرنی ہے؟

لڑکے نے اسی پرس میں سے جوس نکالتے ہوئے کہا ابھی تو بچہ ہے مجھ سے پورے سات سال چھوٹا ہے۔ کچھ سال نوکری کر لے پھر دیکھیں گے۔ تو ہمیشہ لال کپڑے پہنا کر یہ رنگ تجھے بڑا سوٹ کرتا ہے۔ اور لڑکی کے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا
اور یہ مہندی کبھی مدہم نہیں پڑنی چاہئے۔ مجھے مہندی بہت پسند ہے۔

شعور دلانے پر پھانسی نصیب میں کیوں آئی؟

لڑکی شرما کے بولی تیری ماں نے کہا تھا ایک مہینے تک وہ مجھے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دے گی تب تک تو ٹھیک ہے لیکن پھر تو کام کرنا پڑے گا نا۔ ہاتھوں پر مہندی تھوڑی رہے گی۔

لڑکے نے جوس میں سے چند گھونٹ لینے کے بعد ڈبہ لڑکی کو تھما دیا اور بولا میں تمہیں کوئی کام کرنے ہی نہیں دوں گا۔ بس ہر وقت دلہن بنا کر رکھوں گا

اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر زور سے ہنسے۔ لڑکی نے گھوم کر کھڑکی سے باہر دیکھا اور بولی رمضان یہ جو سڑک کے ساتھ ریل کی پٹری جا رہی ہے ، جب ہم لاہور گئے تھے تب تو نہیں تھی۔

اور اب ایک دم لڑکے کا بھی رنگ فق ہوگیا۔ لیکن پھر تھوڑا سا سنبھل کر بولا ۔جب ہم لہور گئے تھے تو ساتھ والی سیٹوں پر بیٹھے ہونگے اس لئے ہمیں یہ نظر نہیں آئی ہو گی۔
لیکن اس بار اس کی آواز میں پہلے والا اعتماد نہیں تھا۔
ایک آدمی جو شائد لاہور سے ہی ان کی باتیں سن رہا تھا۔اٹھ کر بولا بھائی جی تسی کتھے جانا اے؟

لڑکا تھوڑا سا سہم گیا اور بولا۔
وہ جی ہم سیالکوٹ جا رہے ہیں ۔
اس پر وہ آدمی اونچی آواز میں بولا استاد جی گڈی روکو۔
تسی سیالکوٹ دیاں سواریاں ساہیوال والی کوسٹر وچ بٹھا چھوڑیاں نے

2 Comments on “خوشی اور غم میں حواس پر قابو رکھناکیوں ضروری ہے؟”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *