کرونا اور ہمارے دانشور

کرونا اور ہمارے دانشور
Spread the love

تحریر: بشارت حمید

کرونا اور ہمارے دانشوروں کا رویہ

اللہ کے فضل و کرم سے کرونا اب دم توڑ رہا ہے ان شاءاللہ جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی ہے وہ بھی جلد نکل جائے گی۔ میڈیکل سے وابستہ اور ڈبلیو ایچ او پر ایمان کامل رکھنے والے جن لوگوں نے لاکھوں لاشیں چیل کوے کھاتے ہوں گے کی پیشن گوئی کی تھی اور سوشل میڈیا پر ہر پوسٹ میں عوام کو ڈرا ڈرا کر ذہنی مریض بنانے میں اپنا حصہ ڈالتے رہے اب ان سے بات کریں تو کھسیانے ہو کر کہتے ہیں کہ ہم تو لوگوں کے فائدے کےلئے ہی یہ سب کر رہے تھے۔

حالانکہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ہماری قوم نے نہ لاک ڈاون کو مانا نہ کوئی سوشل ڈسٹینس کا خیال رکھا۔ البتہ سوشل میڈیا پر موجود دوستوں کو ایسی پوسٹس سے ذہنی اذیت کا سامان ضرور ملا۔ اسی موقع پر جو امید دلانے کی بات کرتے رہے ان پر شدید تنقید کرکے دیوار سے لگانے کی بھرپور کوشش بھی جاری رہی۔ شاید یہ لوگ چاہتے تھے کہ لوگ کرونا سے مریں نہ مریں البتہ ڈیپریشن سے ضرور مر جائیں۔ اس طرح کے وہمی لوگ سوشل میڈیا پر ایکٹیو رہے جن کے خیال میں ہر طرف انسان نہیں بلکہ کرونا ہی پھر رہا ہے۔

عقلمند لوگوں کی کہاوت ہے کہ مصیبت کے موقع پر گھبراہٹ اس مصیبت سے بھی بڑی مصیبت ہوتی ہے۔ زندگی میں آزمائشیں آتی رہتی ہیں لیکن ان آزمائشوں کے دور میں اپنے رب سے تعلق بڑھانے کی بجائے ڈبلیو ایچ او کے نابغوں پر ایمان لانا اور انکی کہی ہر بات کو ہی حرف آخر سمجھنا حد درجے کی بے وقوفی اور کم فہمی ہے۔ ڈبلیو ایچ او والے بے شمار بیانات سے یوٹرن لے چکے ہیں اور لیتے رہتے ہیں۔

بے شک اللہ ہی آزمائش میں ڈالتا ہے اور وہی اس سے نکالتا ہے اور آزمائش کے ذریعے ہی کھرے اور کھوٹے کو الگ کر دیتا ہے۔
یہ جراثیم یہ وائرس اسی رب کے لشکر ہیں وہ جب چاہے ان میں سے کسی کو ایکٹیو ہونے کا حکم دے دے جب چاہے انہیں واپس لے جائے۔ اور تیرے رب کے لشکروں کو کوئی نہیں جانتا سوائے اسی ذات بابرکات کے۔
7, اگست 2020

یہ بھی پڑھیں: کرونا اور امید کی کرنیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *