کورونا وائرس اور ضابطہ اخلاق

Corona virus and code of conduct
Spread the love

جب سے کورونا وائرس کی وبا عام ہونی شروع ہوئی۔  ہمارے انداز گفتگو اور فکر وعمل میں بعض چیزیں ،جانے انجانے میں ایسی دھرآئی ہیں جو قابل غور و اصلاح ہیں۔

(۱)اگر کوئی آدمی احتیاط کی وجہ سے میل ملاقات ،تقریبات ،مسجد میں نماز پڑھنے،رشتہ داروں کے ہاں آنے جانے یا نجی مجلسوں میں شریک ہونے سے دور رہتا ہے تو ہم اپنے قول سےیا رویے سے، اس آدمی کو ڈرپوک یا وھمی  کہہ کر، تمسخر و استہزاءکر رہے ہوتے ہیں یا بسا اوقات اس پر متکبر ہونے کا فتوی لگا دیا جاتا ہے۔ یہ  رویہ قابل اصلاح ہے کیونکہ محتاط آدمی صرف اپنی ہی نہیں بلکہ آپ کی بھی  حفاظت کر رہا ہوتا ہے۔

(۲) یہ وائرس  اس لحاظ سے خطرناک ہے کہ اس میں مبتلا ہونے والے کو پتا نہیں ہوتا ہے کہ وہ خود بھی شکار ہو چکا اور دوسروں کو بھی منتقل کر رہاہے۔ ایسے حالات میں اگر، اللہ نہ کرے  کوئی شخص اس وائرس کی علامات ظاہر ہوتی دیکھے تو اسے چاہیے کہ بجائے چھپانے یا ڈرنے کے،ہمت و حوصلے سے،طبی عملے کی معاونت ضرور حاصل کرے۔ یہ سوچ کر کہ ،ویسے بھی اس وائرس کی کوئی ویکسین نہیں تو چلو خود ہی الگ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ بجا طور پر اس وائرس کا کوئی یقینی علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوسکااور طبی عملے نے بھی قرنطینہ میں ڈال لینا ہوتا ہے ،مگر یاد رکھیے! وہ تجربات اور متعلقہ طبی معلومات جو اس بیماری سے لڑنے میں معاون ہو سکتی ہیں وہ صرف طبی عملے کے پاس ہی ہو سکتی ہیں جن سے فائدہ نہ اٹھانا یقینی طور پر بڑی غلطی ہو گی۔

(۳)اگر کوئی اس وائرس کا شکار ہو جائے تو اس کامطلب ہرگز یہ  نہیں کہ یہ مریض غیر محتاط ،گندہ  اور بے پروا تھا کیونکہ دنیا کی کئی بڑی انتہائی محتاط شخصیات اور کئی وہ ڈاکٹرز بھی اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ جو متاثرین کے علاج پر مامور تھے  لہذا کسی بھی مر یض کا تذکرہ کرتے وقت اپنے آپ کو ہتک آمیز رویے سے بچانا چاہیے۔

(۴) جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ وائرس غیر محسوس طریقے سے منتقل ہو رہا ہے۔ کسی مریض کو فورا یہ معلوم نہیں ہوجاتا کہ وہ مبتلا ہو چکا ہے۔  اس لیے کسی کے بارے میں یہ تبصرہ کرنا کہ “فلاں مریض تھا اور اپنے ساتھ پورے گھر،محلے یا فلاں فلاں کو بھی رنگ گیا ہے۔ ”ارے بھائی! اگر کوئی احتیاط کے باوجود بھی  مبتلا ہو جاتا ہے تووہ کیونکر موردِ الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے! کیا کوئی اپنے کسی عزیز  کو جان بوجھ کر تکلف و پریشانی میں ڈال سکتا ہے! لہذا مریض پر  طنز کے نشتر چلانے کے بجائے اس کی صحت وعافیت کی دعا کرنی چاہیے اور اپنے  لیے اللہ خیریت مانگی جائے کیونکہ جو اللہ کسی دوسرے کو آزمائش میں ڈالنے کی قدرت رکھتا ہے وہ ہمیں بھی مبتلا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *